چین میں تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک کی توسیع سے مختلف شہروں کے درمیان تعاون کو فروغ ملے گا

بیجنگ (شِنہوا) ماہرین نے کہا ہے کہ چین میں حال ہی میں شروع کئے گئے تیز رفتار ریلوے کے نئے حصے مختلف شہروں کے درمیان تعاون اور علاقائی اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گے۔ اس سے مختلف علاقوں کے درمیان ہنرمند افراد، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کی آمدورفت میں بھی اضافہ ہوگا۔
پیر کے روز چین کے شمالی، شمال مغربی، وسطی اور شمال مشرقی علاقوں میں تیز رفتار ریلوے کے 4 اہم حصے کھولے گئے۔ اس سے دنیا کے سب سے بڑے تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک میں مزید توسیع ہوئی ہے اور ملک کے بڑے شہروں، شہری گروپوں اور اہم اقتصادی علاقوں کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
چائنہ اسٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے تعمیراتی شعبے کے نائب سربراہ یوآن باؤہوا نے کہا کہ ان 4 ریلوے لائنوں کے افتتاح سے صنعتی تبدیلی اور ترقی، مختلف علاقوں کے درمیان صنعتوں کی منتقلی اور راستے میں موجود وسائل کی ترقی کو فروغ ملے گا۔ اس سے علاقائی اقتصادی اور سماجی ترقی میں بھی نئی رفتار آئے گی۔
یوآن نے کہا کہ چاروں نئے ریلوے حصے مختلف علاقوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں مدد دیں گے۔ مثال کے طور پر شیونگ آن-شانگ چھیو حصہ شیونگ آن نیو ایریا اور وسطی و جنوبی ہیبے، جنوب مغربی شان ڈونگ اور مشرقی ہینان کے درمیان روابط مضبوط کرے گا۔ اسی طرح ہاربن-یی چھون ریلوے لائن چین کے شمال مشرقی علاقوں میں ہاربن کو مرکز بنا کر دو گھنٹے کے سفری دائرے کو مزید وسیع کرے گی۔
چائنہ ریلوے اقتصادی منصوبہ بندی اور تحقیقاتی ادارے کے ما بو تاؤ کے مطابق تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک اب الگ الگ لائنوں کے بجائے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے وسیع نظام کی شکل اختیار کر رہا ہے جس سے مختلف علاقوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے۔
ما نے کہا کہ پھیلتا ہوا ریلوے نیٹ ورک شہروں اور شہری گروپوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب لا رہا ہے۔ اب بڑے شہری علاقوں کے اندر سفر میں تقریباً ایک گھنٹہ، مختلف شہری گروپوں کے درمیان رہائش اور کام کے لئے آمدورفت میں تقریباً دو گھنٹے جبکہ پڑوسی شہری گروپوں اور صوبائی دارالحکومتوں کے درمیان کاروباری سفر میں تقریباً تین گھنٹے لگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے نیٹ ورک بڑے اور چھوٹے شہروں کو ایک دوسرے سے منسلک کر رہا ہے جس سے صنعتوں میں کام کی تقسیم اور مختلف شہروں میں روزگار معمول بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نیٹ ورک کے فوائد صرف نئی ریلوے لائنوں کے راستے میں واقع علاقوں تک محدود نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر یی چھانگ-شنگ شان حصہ نہ صرف ان دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم کرتا ہے بلکہ چھنگ دو-چھونگ چھنگ خطے اور دریائے یانگسی کے درمیانی حصے میں واقع شہری گروپ کے درمیان فاصلے کو بھی کم کرتا ہے۔
نئی ریلوے لائنیں چین کی اہم قومی حکمت عملیوں پر بھی براہ راست اثر ڈال رہی ہیں۔ شیونگ آن تیز رفتار ریلوے کارپوریشن کے ڈپٹی جنرل منیجر لیو یان ہونگ نے کہا کہ شیونگ آن-شانگ چھیو سیکشن شیونگ آن نیو ایریا کے جنوبی سمت جانے والے تیز رفتار ریلوے رابطے کی کمی کو پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریلوے لائن وہاں منتقل ہونے والی کمپنیوں اور اداروں کے ملازمین کے سفر اور کاروباری روابط کو آسان بناتی ہے اور راستے میں واقع علاقوں کے درمیان صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے۔
ما بو تاؤ نے کہا کہ ریلوے نیٹ ورک سے نئے منسلک ہونے والے شہروں کے لئے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی ترقی کے لئے درست حکمت عملی کیسے اختیار کرتے ہیں۔ مابو نے کہا کہ عام طور پر بڑے شہر تحقیق و ترقی، مالیاتی شعبے اور بڑے کاروباری اداروں کے مرکزی دفاتر پر توجہ دیتے ہیں جبکہ چھوٹے شہر اپنی زراعت، قدرتی ماحول، سیاحت اور مقامی صنعتوں سے فائدہ اٹھا کر پیداوار، زرعی مصنوعات کی تیاری، صحت و تندرستی اور ثقافتی سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس طرح وہ بڑے شہروں کے لئے صنعتی معاون مراکز اور تفریحی مقامات کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کو حقیقی معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے لئے شہروں کو تیز رفتار ریلوے سٹیشنوں کو صنعتی پارکوں اور بڑی آبادی والے علاقوں سے بہتر طور پر منسلک کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہنرمند افراد کے لئے رہائش اور عوامی سہولیات کو بھی بہتر بنایا جانا چاہیے۔
چین دنیا کے سب سے بڑے تیزرفتار ریلوے نیٹ ورک کا حامل ملک ہے۔ 2025 کے اختتام تک ملک میں 50 ہزار کلومیٹر سے زیادہ تیز رفتار ریلوے لائنیں فعال تھیں۔ قومی منصوبوں کے تحت یہ نیٹ ورک 2035 تک 70 ہزار کلومیٹر تک پھیلانے کا ہدف ہے جس سے ملک کے بڑے شہروں، شہری گروپوں اور اہم اقتصادی علاقوں کو آپس میں جوڑا جائے گا۔



  تازہ ترین   
پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات آج کیلئے ختم، کل دوبارہ دو بجے ملاقات ہوگی
بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 2 نہتے پاکستانی شہری جاں بحق
اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار
شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن،7 خوارج جہنم واصل
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوج بھیجنے کا فیصلہ
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام
پوری دنیا ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور استقامت پر حیران ہے: صدر پیوٹن





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر