منیلا (شِنہوا)فلپائن کی وزیر تجارت و صنعت کرسٹینا روک نے کہا ہے کہ چین فلپائن اور دیگر آسیان ممالک کے لئے ایک بڑی منڈی اور اہم تجارتی شراکت دار ہے اور ہمیں اس کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
حال ہی میں چین کی وزارت تجارت (ایم او سی) اور آسیان کے اقتصادی امور کے وزراء کے درمیان مشاورتی اجلاس بھی منیلا میں منعقد ہوا۔ دونوں فریقوں نے اقتصادی انضمام کو آگے بڑھانے، جامع ترقی کو فروغ دینے، تجارتی و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کی خوشحالی و ترقی کو مشترکہ طور پر فروغ دینے کے لئے موجودہ کامیابیوں کی بنیاد پر مزید پیش رفت کرنے پر اتفاق کیا۔
کرسٹینا روک نے شِنہوا کو دیئے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں چین اور آسیان کے درمیان برسوں سے جاری بات چیت، مذاکرات اور اعتماد سازی کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے چین کے قدیم فلسفی لاؤ زی سے منسوب معروف قول ’’ہزار میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے‘‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’آسیان اور چین نے واقعی مل کر بہت سے قدم اٹھائے ہیں۔‘‘
روک نے کہا کہ وہ چین۔آسیان آزاد تجارتی معاہدہ 3.0 کے نافذ العمل ہونے کی منتظر ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ معاہدہ آسیان اور چین کے درمیان سپلائی چین کے رابطوں کو مضبوط بنانے اور ڈیجیٹل معیشت اور ماحول دوست معیشت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گا۔
چین کی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق چین اور آسیان مسلسل 6 سال سے ایک دوسرے کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، جبکہ گزشتہ سال دوطرفہ تجارت کا حجم پہلی بار 10 کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
فلپائن کی وزیر تجارت کا چین کے ساتھ تجارت کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنےپر زور



