اقوام متحدہ(شِنہوا)چینی نائب صدر ہان ژینگ نے کہا ہے کہ چین اپنی جدیدیت کی نئی کامیابیوں کے ذریعے عالمی ترقی کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا۔
ہان نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کے دوران کہی۔
ہان نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال ہنگامہ خیزی سے دوچار ہے جبکہ اقوام متحدہ کو مرکز بنانے والا بین الاقوامی نظام متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی قانونی نشست کی بحالی کی 55ویں سالگرہ ہے۔ گزشتہ 55 برسوں کے دوران چین نے ہمیشہ حقیقی کثیرالجہتی کا اصول اپنایا اور بین الاقوامی امور میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کی ہے۔
ہان نے کہا کہ مستقبل میں چین ایک ذمہ دار بڑی طاقت کی حیثیت سے اپنا کردار جاری رکھے گا اور اپنے تصورات کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے فعال طور پر کام کرے گا۔
ہان نے کہا کہ کثیرالجہتی کو برقرار رکھنا اور عالمی نظم ونسق نظام کو بہتر بنانا عالمی برادری کا مشترکہ مطالبہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت، بالخصوص ترقی پذیر ممالک، ہمیشہ اقوام متحدہ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
چین اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی کے لیے عالمی کوششوں کو یکجا کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے اقوام متحدہ کے 2030 ایجنڈے پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
چین اقوام متحدہ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کی کوششوں کی حمایت بھی جاری رکھے گا، مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں عالمی نظم و نسق کو فعال طور پر آگے بڑھائے گا اور عالمی امن و سلامتی کے قیام کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں سلامتی کونسل کی مسلسل حمایت کرے گا۔
گوتریس نے اقوام متحدہ کے امور کے لیے چین کی طویل مدتی، مضبوط اور پرعزم حمایت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعاون اب ایک نئی سطح تک پہنچ گیا ہے۔
گوتریس نے کہا کہ آج دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ کثیرالجہتی نظام کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔
چین کی جدیدیت کی کامیابیاں دنیا کی ترقی کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گی، چینی نائب صدر



