بغداد (شِنہوا) چینی کمپنی ژین ہوا آئل کی جانب سے تعمیر کردہ اور اس کی سرمایہ کاری سے قائم کیا گیا گیس پروسیسنگ پلانٹ عراق کے وسطی علاقے میں ای بی ایس آئل فیلڈ میں باضابطہ طور پر فعال ہو گیا۔
عراقی وزیرِ تیل باسم محمد خضیر سمیت عراق کے دیگر اعلیٰ حکام نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خضیر نے چینی کمپنی کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور موثر انداز میں منصوبے کی تکمیل کو سراہتے ہوئے کہا کہ چینی ادارے عراق کے تیل اور گیس کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
خضیر نے کہا کہ یہ منصوبہ وزارت تیل کی اس حکمت عملی پر عملی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے جس کا مقصد گیس کو جلانے کے عمل کو ختم کرنا اور ضائع ہونے والے وسیلے کو ایسی مفید توانائی میں تبدیل کرنا ہے جو قومی معیشت اور عراقی عوام دونوں کے لئے فائدہ مند ہو۔
ژین ہوا آئل کے اسسٹنٹ جنرل منیجر اور چائنیز ای بی ایس پٹرولیم کمپنی کے جنرل منیجر ما چھینگ نے کہا کہ اس یونٹ کا مکمل طور پر فعال ہونا نہ صرف تیل اور گیس کے استعمال کی کارکردگی بہتر بنائے گا اور ای بی ایس آئل فیلڈ کی ماحول دوست اور کم کاربن ترقی کو آگے بڑھائے گا بلکہ عراق میں قدرتی گیس کی قلت کو کم کرنے میں بھی مدد دے گا جس سے ملک کی توانائی کی سلامتی اور پائیدار ترقی میں معاونت ہوگی۔
بغداد سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ای بی ایس آئل فیلڈ عراق کا ایک اہم توانائی منصوبہ ہے جسے ژین ہوا آئل نے تعمیر کیا اور وہی اسے چلا رہی ہے۔
اس وقت یہ آئل فیلڈ روزانہ تقریباً 80 ہزار بیرل خام تیل پیدا کر رہا ہے۔ یہ آئل فیلڈ عراقی دارالحکومت کو توانائی کی فراہمی یقینی بنانے اور مقامی اقتصادی و سماجی ترقی میں معاونت کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
عراق میں چین کا تعمیر کردہ گیس پروسیسنگ پلانٹ فعال



