نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحیح مقام و مرتبہ کا تعین۔

تحریر: عابد حسین قریشی

ہم بطور مسلمان خوش نصیب ٹھہرے، کہ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت سے ہیں۔ وہ نبی جن کے بعد کسی نبی نے، کسی ہدایت نے، کسی آسمانی کتاب نے، بلکہ وحی نے بھی نہیں آنا۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ نبوت کی شہنشاہی قیامت تک قلب و روح پر راج کرتی رہے گی۔ مگر بطور قرآن کریم کے ایک طالب علم کے کبھی کبھی یہ خیال قلب و نظر میں ضرور آتا ہے، کہ شاید ہم مسلمان قرآن پاک کی روشنی میں مقام اور شان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس طرح تعین نہیں کر سکے یا اصل مقام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمجھ نہیں سکے، جس کی یہ عالیشان اور عظیم المرتبت ہستی حقدار تھی۔ اور ہم نے نور و بشر کی بحث میں الجھ کر اصل مقام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تاجدار ختم نبوت کے مقام کو مسلمان سمجھتے نہیں، بلکہ وہ تو محبت مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کیف و سرور اور عشق و سرمستی کی ساری منازل ایک ہی جست میں طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہ تو اپنے اس نبی سے اس قدر والہانہ بھی اور دلبرانہ بھی عقیدت و مودت رکھتے ہیں، کہ شاید الفاظ ان کا احاطہ ہی نہیں کر سکتے۔مقام مصطفٰی کو سمجھنا اور نبی محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت رکھنا دو الگ موضوعات ہیں۔ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں جو مرتبہ، شان اور مقام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کیا ہے، اسے سمجھنے کے لئے ایک خاص طرح کی عمیق نگاہی اور گہرے قرآنی ذوق، اور اس سے آگاہی ضروری ہے۔ قرآن کریم کو پڑھتے جائیں اور مقام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعین کی منازل طے کرتے جائیں۔پورے قرآن میں اللہ تعالٰی نے اپنے اس حبیب مکرم کو اے محمد کہہ کے نہیں پکارا، بلکہ نہایت پیار اور الفت سے کبھی مزمل، اور کبھی مدثر، کبھی رحمۃ العالمین اور کبھی بلند اخلاقی کے مرتبہ پر فائز اور کبھی انسانوں کی فلاح کا حریص کہہ کر پکارا ہے۔ رحمۃ العالمین بھی صرف ایک عالم یا اس دنیا کے لئے نہیں، بلکہ تمام جہانوں کے لئے، وہ جہاں جو ہم دیکھ چکے، جن سے ہم گزر رہے ہیں اور وہ جہاں بھی جو ابھی آنے ہیں۔ جو ابھی دریافت ہونے ہیں۔ محشر کا بھی تو ایک جہاں ہی ہے، جہاں پوری خلق خدا ایک روز دوبارہ اٹھائی جائے گی۔ اس میں وہ لوگ بھی ہوں گے، جو آقا کریم کی ظاہری زندگی سے پہلے گزر چکے ہوں گے، اور ان کے علاوہ آپ کے امتی بھی ہوں گے، اس روز جب ماں کو بیٹے کی ہوش نہیں ہوگی، تو سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالٰی کے دربار میں ہم گناہ گاروں کی آس اور امید ہوں گے۔ اللہ تعالٰی سے اس روز ان کے علاوہ کون کلام کر سکے گا اور کون سفارش اور شفاعت۔ اس روز پتہ چلے گا کہ قرآن کے اس ٹائٹل رحمۃ العالمین کا اصل مطلب کیا تھا۔اسی طرح اللہ تعالٰی سورہ الضحی میں فرماتے ہیں کہ اے حبیب میں عنقریب تمہیں اتنا عطا کروں گا، کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔ جسے اللہ تعالٰی خود راضی کرنا چاہ رہے ہوں، ان کے مقام و مرتبہ کا تعین یا اس رحمت اور فضل کی حد کیسے جان سکتے ہیں، جو اللہ تعالٰی اپنے اس محبوب ترین نبی پر نچھاور کر رہا ہے۔ سورہ الم نشرح میں یہ فرما کر تو کمال ہی کر دیا کہ اے میرے محبوب ہم نے آپ کا ذکر ہمیشہ کے لئے بلند کر دیا ہے۔ “ورفعنا لک ذکرک۔” پھر وہی سوال ہے، کہ جس کا ذکر اللہ تعالٰی خود بلند کر دے، اسے کون کم کر سکتا ہے۔ یہ ذکر تو قیامت تک ان شاء اللہ بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے گا۔عشاقان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے عشق کی پیاس بجھانے سوئے مدینہ رواں دواں رہیں گے۔ یہ نمناک آنکھوں کے ساتھ، عشق و سرمستی کی لہر میں، اور جذب و کیف کی گرفت میں روضہ رسول کی جالیوں کے سامنے دم بخود رہیں گے۔ یہ ذکر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روز قیامت بھی ہوگا اور روز حشر بھی، کہ جب سب فنا ہو جائیں گے تو اللہ تعالٰی تو سورہ الاحزاب میں اپنے فرمان کے مطابق اپنے اسی نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج رہے ہوں گے۔میدان حشر میں سارے انبیاء علیہ السلام سرکار مدینہ کی طرف ہی دیکھ رہے ہوں گے۔ وہی تو اس روز مرکز نگاہ ہوں گے۔ اس روز ان منکرین ختم نبوت کو نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصل مقام و مرتبہ کا پتہ چلے گا۔ وہ جس کاذب اور جعلساز سے بخشش کی امید لگائے بیٹھے تھے، وہ اس روز اللہ کے غضب کا شکار ہو کر خود کوئی راستہ نجات نہ پا رہا ہوگا۔ افسوس کتنی سادہ حقیقت تھی جو یہ لوگ دنیا میں سمجھ نہ سکے، کہ جس نبی آخرالزماں کا ذکر قرآن پاک میں ساڑھے چودہ سو سال پہلے کیا جا رہا تھا اور جن کی تعریف و توصیف میں قرآنی آیات مسلسل نازل ہو رہی تھیں، وہ تو محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہی تھے۔ ان جیسا بننے کی کوشش کرنا، ظلی اور بروزی کا جھانسا دینا اور پھر خود ہی محمد بن بیٹھنا کیسے اللہ کو گوارا ہوگا۔ وہ تو روز محشر صرف اپنے محبوب نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناز اٹھائے گا۔ اسے کسی جعلساز کو پروٹوکول دینے کی کیا ضرورت۔یہی ہے وہ اصل مقام و شان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو مرنے سے پہلے جسے سمجھ آ گیا، وہ فلاح پاگیا، جو نہ سمجھ سکا وہ راندۂ درگاہ ہوگیا۔ مردود بھی ٹھہرا اور معتوب بھی۔



  تازہ ترین   
سکیورٹی فورسز کی قلات کے قریب کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک، 23 مغوی بازیاب
ایران نے قطری ثالث کے ذریعے مذاکرات کی 7 شرائط امریکا تک پہنچا دیں، محسن رضائی
مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی، عباس عراقچی
مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے، ترک وزیر خارجہ
محسن نقوی کا دورہ تہران صرف دو طرفہ تعلقات پر مرکوز ہوگا، ایرانی وزارت خارجہ
دہشتگردوں سے بات چیت نہیں ہوگی، ریاست کی پالیسی واضح ہے: ترجمان پاک فوج
کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن مکمل، تمام دہشت گرد ہلاک
سکیورٹی فورسز کی پنجگور اور چاغی میں کارروائیاں، 11 دہشتگرد ہلاک





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر