نیویارک (شِنہوا) براؤن یونیورسٹی کے تازہ ترین تخمینے کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے امریکی صارفین کو توانائی کی مد میں اضافی 100 ارب امریکی ڈالر ادا کرنے پڑ رہے ہیں اور اس رقم میں ہر دو منٹ کے دوران تقریباً 10 لاکھ ڈالر اضافہ ہو رہا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کے واٹسن سکول کے ’ایران وار انرجی کاسٹ ٹریکر‘ کا کہنا ہے کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک پٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتوں کی وجہ سے اوسطاً ہر امریکی گھرانے کو 760 ڈالر سے زائد اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔
امریکن آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیر کے روز امریکہ میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت بڑھ کر 5.90 ڈالر فی گیلن کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی جس نے جمعے کے روز قائم ہونے والا 5.85 ڈالر کا ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے قیمتوں میں اس اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ٹیکساس پر پڑا جہاں صارفین نے پٹرول اور ڈیزل کی مد میں تقریباً 11 ارب ڈالر اضافی ادا کئے ہیں۔ اس کے بعد کیلیفورنیا اور فلوریڈا کا نمبر ہے جہاں یہ اخراجات بالترتیب تقریباً 8 ارب ڈالر اور 5 ارب ڈالر رہے۔
ٹریکر کے مطابق امریکی صارفین جنگ کے آغاز کی نسبت اب ایندھن کی قیمتوں میں طویل عرصے تک اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ بڑھتے اخراجات کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی نقل و حمل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ کچھ کاروباری اداروں نے اضافی فیس کی شکل میں یہ بوجھ پہلے ہی صارفین پر منتقل کر دیا ہے۔
ایران جنگ سے امریکی صارفین کے توانائی کے اخراجات میں 100 ارب ڈالر کا اضافہ



