سعودی عرب پر وار اور مکہ کا عہد

سعودی عرب پر حوثیوں کا تازہ حملہ محض چند میزائلوں اور ڈرونز کی کارروائی نہیں، بلکہ مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے جنگی نقشے پر ایک ایسا سرخ نشان ہے جسے اگر آج نظر انداز کیا گیا تو کل اس کے شعلے ریاض سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔ ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں ہونے والے حملوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یمن کی جنگ ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کی سرحدوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق اس تازہ حملے میں 73 افراد زخمی ہوئے، جبکہ توانائی کی اہم تنصیبات بھی متاثر ہوئیں اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پورا خطہ پہلے ہی بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان شدید کشیدگی، اسرائیل اور ایران کی جنگی محاذ آرائی، یمن میں دوبارہ بھڑکتی ہوئی لڑائی اور بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں بڑھتے ہوئے خطرات نے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک معمولی چنگاری بھی پورے خطے کو ایک نئی جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔
حوثیوں نے اس حملے کو اپنے دعوے کے مطابق یمن میں سعودی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہر کارروائی کا جواب کسی دوسرے ملک کے شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر دیا جائے تو پھر جنگ اور دہشت گردی کے درمیان فرق کہاں باقی رہ جاتا ہے؟ سعودی عرب پر حملہ صرف سعودی سرزمین پر حملہ نہیں، کیونکہ سعودی عرب دنیا کی توانائی کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور وہاں کی توانائی تنصیبات پر حملہ عالمی منڈیوں اور دنیا بھر کے عوام کی زندگیوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حوثی تحریک کو ایران کی حمایت حاصل رہی ہے اور موجودہ علاقائی بحران میں حوثیوں کی کارروائیوں نے یمن کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر وسیع تر ایرانی، امریکی اور اسرائیلی کشمکش کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس تازہ حملے کو معمول کی سرحدی جھڑپ سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے، کیونکہ اگر یمن ایک مرتبہ پھر بڑی طاقتوں کی بالواسطہ جنگ کا میدان بن گیا تو سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
یہاں ایک اور سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا حوثیوں نے یہ حملہ اپنی مرضی سے کیا یا کسی بڑے علاقائی منصوبے کے تحت کیا گیا ہے؟ کیا انہیں ایسا جنگی سازوسامان اور ایسی معلومات میسر ہیں جو انہیں سعودی عرب کی حساس تنصیبات تک پہنچنے میں مدد دے رہی ہیں، اور کیا کوئی ایسی قوت ہے جو خود میدان میں اترنے کے بجائے حوثیوں کو آگے کرکے سعودی عرب کو مسلسل دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے؟
ان سوالات کے جواب ابھی قطعی طور پر سامنے نہیں آئے اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ملک پر براہ راست الزام عائد کرنے سے پہلے ثبوت ضروری ہے، خصوصاً متحدہ عرب امارات کے بارے میں یہ سوال ضرور اٹھایا جاسکتا ہے کہ خلیج کی بدلتی ہوئی سیاست اور مختلف علاقائی مفادات کے باعث سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان بعض معاملات میں اختلافات موجود رہے ہیں، لیکن تازہ حوثی حملے میں متحدہ عرب امارات کی براہ راست پشت پناہی کا کوئی معتبر ثبوت فی الحال سامنے نہیں آیا۔ اس لیے اسے فی الوقت حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا، تاہم اس بارے میں قیاس آرائیاں ضرور سننے میں آرہی ہیں۔
البتہ یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس وقت خطے میں کس کو فائدہ ہورہا ہے؟ کیونکہ جنگ صرف میدان جنگ میں نہیں لڑی جاتی، جنگ معیشتوں کے خلاف بھی لڑی جاتی ہے، سرمایہ کاری کے خلاف بھی لڑی جاتی ہے، سیاحت کے خلاف بھی لڑی جاتی ہے، توانائی کے راستوں کے خلاف بھی لڑی جاتی ہے اور ریاستوں کے اعتماد کے خلاف بھی لڑی جاتی ہے۔ آج اگر سعودی توانائی تنصیبات خوف کا شکار ہوں تو اس کا اثر صرف ریاض کی معیشت پر نہیں پڑے گا، بلکہ پوری دنیا کی توانائی منڈی پر پڑے گا۔ تازہ حملوں کے بعد تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اب شاید اس سوال کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہا ہوگا کہ صرف دفاعی حصار کافی ہے یا حملہ آور کی جنگی صلاحیت کو اس کی جڑوں تک جا کر ختم کرنا ہوگا، کیونکہ اگر میزائل آتے رہیں اور جواب صرف دفاع تک محدود رہے تو دشمن کے حوصلے بڑھ سکتے ہیں۔ سعودی قیادت کے سامنے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ ایسا جواب دے جو جنگ کو بے قابو بھی نہ کرے اور دشمن کو یہ غلط فہمی بھی نہ ہونے دے کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانا آسان ہے۔
اور یہاں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر ۲۰۲۵ میں باہمی دفاعی معاہدہ ہوچکا ہے، جس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی جارحیت کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے کا عزم کیا تھا۔ اس معاہدے کو سعودی عرب کی روایتی مغربی حفاظتی شراکت داری سے آگے بڑھ کر ایک نئی علاقائی دفاعی سوچ کی علامت بھی قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ترکیہ کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ وہ اس باہمی دفاعی معاہدے کا باقاعدہ فریق ہے۔ ترکیہ کی جانب سے اس دفاعی بندوبست میں شمولیت کے امکانات ضرور زیر بحث آئے تھے، لیکن بعد میں معتبر ذرائع نے واضح کیا کہ ترکیہ اس معاہدے میں شامل نہیں ہوگا۔
لیکن اس حقیقت سے پاکستان کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھ جاتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا تعلق محض سفارتی تعلق نہیں، بلکہ کئی دہائیوں پر محیط اعتماد اور دفاعی تعاون کا تعلق ہے۔ پاکستان نے مشکل اوقات میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت قائم کی ہے اور سعودی عرب نے بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور اس کے تجربے پر اعتماد کا اظہار بارہا کیا ہے۔
اب وقت صرف بیانات کا نہیں، بلکہ تیاری کا ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور دفاعی صلاحیتوں کو ایک مربوط حکمت عملی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ فضائی دفاع، جدید نگرانی، مشترکہ اطلاعاتی نظام، میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف دفاعی صلاحیت اور اہم تنصیبات کے تحفظ میں تعاون ایسے شعبے ہیں جن میں دونوں ملکوں کے درمیان عملی تعاون مزید مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سعودی عرب کا دفاع صرف ایک دوست ملک کا دفاع نہیں، بلکہ پاکستان کے اپنے معاشی اور تزویراتی مفادات کا بھی دفاع ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترسیلات کا تعلق ہے اور خلیج کا امن پاکستان کی معیشت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔
اقبال نے کہا تھا:
اےطائرِ لاہوتی! اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
آج اس شعر کو محض جذباتی نعرے کے طور پر نہیں، بلکہ قومی خود اعتمادی کے پیغام کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو کسی کی جنگ کا ایندھن نہیں بننا، لیکن اگر اس کے سب سے قریبی برادر ملک کی خودمختاری پر حملہ ہو تو پاکستان کو اپنی طاقت، اپنی حکمت اور اپنی دفاعی صلاحیت کے ساتھ واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔
سعودی عرب کے لیے بھی اگلا مرحلہ انتہائی نازک ہے۔ اسے غصے میں ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو پورے خطے کو ایک طویل جنگ میں دھکیل دے، لیکن اسے اتنا کمزور ردعمل بھی نہیں دینا چاہیے کہ حوثیوں اور ان کے پشت پناہوں کو مزید حملوں کی دعوت مل جائے۔ سعودی عرب کو حملہ آور کے مراکز، جنگی صلاحیتوں اور بیرونی رسد کے راستوں پر پوری توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور اس کے ساتھ سفارتی سطح پر دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ توانائی کی تنصیبات اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔
اصل مسئلہ اب صرف حوثی نہیں رہے۔ اصل مسئلہ وہ پورا علاقائی نظام ہے جس میں غیر ریاستی مسلح گروہوں کو طاقتور ریاستیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ایک جگہ میزائل داغا جاتا ہے، دوسری جگہ جنگی طیارے اڑتے ہیں، تیسری جگہ تیل کی قیمت بڑھتی ہے، چوتھی جگہ سرمایہ کار بھاگتے ہیں اور پانچویں جگہ عام آدمی مہنگائی کی سزا بھگتتا ہے۔ یہ وہ شیطانی چکر ہے جس نے پورے مشرق وسطیٰ کو کئی دہائیوں سے تباہی کے راستے پر رکھا ہوا ہے۔
اس لیے اب سعودی عرب کو صرف حوثیوں کے خلاف نہیں، بلکہ اس پورے جنگی ماحول کے خلاف حکمت عملی بنانا ہوگی جس میں حوثی ایک مہرے کے طور پر استعمال ہوسکتے ہیں۔ اگر واقعی کسی بیرونی قوت کی جانب سے انہیں میزائل یا ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی جارہی ہے تو اس کا ثبوت دنیا کے سامنے لانا ہوگا۔ اگر کوئی ریاست ان کی مالی مدد کررہی ہے تو اس راستے کو بند کرنا ہوگا اور اگر کوئی خفیہ نیٹ ورک سعودی عرب کی حساس تنصیبات کی معلومات دشمن تک پہنچا رہا ہے تو اسے بھی بے نقاب کرنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے دفاع میں مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہوتے ہوئے خطے کو ایک ایسی وسیع جنگ سے بھی بچائے جس کا نقصان پاکستان کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنی دفاعی طاقت استعمال کرنے سے زیادہ اپنی دفاعی طاقت کی قابل اعتماد موجودگی دکھانی ہوگی، کیونکہ بعض اوقات جنگ روکنے کے لیے جنگ لڑنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ دشمن کو یہ یقین دلانا کافی ہوتا ہے کہ اگر اس نے جنگ مسلط کی تو اسے ناقابل برداشت قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے جاسکتا ہے۔ مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، مشترکہ تربیت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی، اطلاعاتی تعاون، فضائی دفاع اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی آنے والے وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل اب صرف افق پر دکھائی نہیں دے رہے، بلکہ کئی مقامات پر برسنا شروع ہوچکے ہیں۔ ایران، امریکہ کی کشیدگی، اسرائیل، ایران محاذ آرائی، یمن میں حوثیوں کی سرگرمیاں، بحیرہ احمر کا خطرہ اور خلیج کی توانائی تنصیبات پر حملے ایک دوسرے سے جڑتے جارہے ہیں۔ ایسے میں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کا کوئی فاتح نہیں ہوگا۔
لیکن اگر کسی نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سعودی عرب کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خوف زدہ کیا جاسکتا ہے تو اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ریاض کے دفاع کے پیچھے صرف سعودی افواج نہیں، بلکہ ایک بدلتا ہوا علاقائی دفاعی نظام بھی تشکیل پا رہا ہے اور اس نظام میں پاکستان کا کردار معمولی نہیں ہوگا۔
آج سعودی عرب کے دروازے پر جو دستک ہوئی ہے، وہ دراصل پاکستان کے لیے بھی ایک سوال ہے۔
کیا مکہ اور مدینہ کی سرزمین کی سلامتی کے معاملے میں پاکستان صرف بیانات دے گا یا اپنی دفاعی صلاحیت، سفارتی قوت اور قومی عزم کے ساتھ عملی طور پر بھی کھڑا ہوگا؟
وقت نے سوال پوچھ دیا ہے۔
اب جواب دینا ہوگا۔
اور جواب ایسا ہونا چاہیے کہ دشمن کو جنگ کی خواہش تو رہے، مگر جنگ شروع کرنے کی ہمت نہ رہے۔



  تازہ ترین   
حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی
بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ
ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو
سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ
امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد
امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ
مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز
حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر