چین کی اعلیٰ ترین عدالت نے اے آئی ڈیپ فیکس اور دیگر تنازعات کے لئے قواعد مقرر کر دیئے

بیجنگ (شِنہوا) ویڈیو کال پر نظر آنے والا ایک جانا پہچانا چہرہ ہو سکتا ہے وہ شخص نہ ہو جو دکھائی دے رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کا نظام اب حیرت انگیز حقیقت پسندی کے ساتھ لوگوں کے چہرے اور آوازیں نقل کر سکتا ہے جس کی وجہ سے قانون کے لئے نئے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔
چین کی اعلیٰ ترین عدالت نے یہ واضح کرتے ہوئے رہنما اصول جاری کئے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا تخلیق کردہ ایسا مواد کب قانونی ذمہ داری یا کارروائی کا موجب بن سکتا ہے۔
اعلیٰ عوامی عدالت (ایس پی سی) کے جاری ان رہنما اصولوں میں ابھرتے تنازعات کی ایک کثیر تعداد کا احاطہ کیا گیا ہے جن میں اے آئی ڈیپ فیکس اور آواز کی کلوننگ، الگورتھم کے ذریعے قیمتوں میں تفریق اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ غلط معلومات شامل ہیں۔
قواعد میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ لوگ دوسروں کی اجازت کے بغیر ان کے قابل شناخت ڈیجیٹل روپ بشمول کلون کئے گئے چہرے اور آوازیں بنانے یا پھیلانے کے لئے مصنوعی ذہانت استعمال نہیں کر سکتے۔ ایسا کرنا افراد کے حقوق کی خلاف ورزی کر سکتا ہے جبکہ غلط دعوے پھیلانے یا کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لئے اے آئی کے تیار کردہ چہروں یا آوازوں کا استعمال بھی قانونی ذمہ داری کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ قواعد ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مصنوعی ذہانت کے ذریعے روپ دھارنا انتہائی آسان اور ایسا مواد اصلی سے الگ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ محض چند تصاویر یا ایک مختصر صوتی ریکارڈنگ قابل اعتبار ڈیجیٹل روپ تیار کرنے کے لئے کافی مواد فراہم کر سکتی ہے۔
ان رہنما اصولوں میں صارفین کے خلاف الگورتھم تفریق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جو کاروباری ادارے الگورتھم استعمال کرتے ہوئے کسی معقول وجہ کے بغیر ایک ہی سامان یا خدمات کے لئے مختلف قیمتیں یا لین دین کی دیگر شرائط پیش کرتے ہیں اور اگر اس عمل سے صارفین کو نقصان پہنچتا ہے تو اُنہیں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
ایس پی سی کے تحقیقی دفتر کے سربراہ ژو جیا ہائی نے کہا کہ ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ ہر صارف دھوکے کو پہچانننے کا ماہر بن جائے۔ صارفین کے جائز حقوق اور مفادات کی حفاظت کے لئے قانون کو فوری طور پر مداخلت کرنا ہوگی۔
ایک اور چیلنج یہ ہے کہ تخلیقی مصنوعی ذہانت کے نظام غلط یا غیر مستند معلومات پیدا کر سکتے ہیں جسے عام طور پر ’اے آئی ہیلوسینیشنز‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اے آئی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، اگر انہیں اطلاع دی جائے کہ ان کے نظام نے ایسا مواد تیار کیا ہے جو کسی شخص کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے لیکن وہ بروقت اقدام کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
صارفین کو بھی اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ جو شخص جان بوجھ کر پرامپٹس یا دیگر طریقے استعمال کرتے ہوئے کسی اے آئی سسٹم کو حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا مواد تیار کرنے پر اکساتا ہے اور کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچاتا ہے تو اسے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
یہ رہنما اصول لوگوں کو اس وقت فوری تحفظ حاصل کرنے کا طریقہ بھی فراہم کرتے ہیں جب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد سنگین اور ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہو۔ مثال کے طور پر کسی شخص کے چہرے کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کرکے جھوٹے اور ہتک آمیز جنسی دعوے پھیلانے کے لئے استعمال کیا جائے تو وہ عدالت سے حکم امتناعی کی درخواست کر سکتا ہے، اگر کارروائی میں تاخیر سے ایسا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو جس کا بعد میں ازالہ مشکل ہو۔



  تازہ ترین   
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب، مشترکہ اعلامیہ تیار
پاکستانی شہریوں کے قتل پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، باضابطہ احتجاج
گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو
خیبر پختونخوا حکومت نے لانگ مارچ کے ذریعے بدامنی کا منصوبہ بنا لیا: خواجہ آصف
سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی
حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات، آج دوبارہ دو بجے ملاقات ہوگی
اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل
بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر