کابل(نیشنل ٹائمز)طالبان حکومت نے افغانستان میں ہر قسم کے احتجاج پر عائد پابندی کا دفاع کرتے ہوئے اسے اسلامی شریعت کے مطابق قرار دے دیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اسلامی نظام میں احتجاج کا تصور موجود نہیں، عوام اپنے مسائل حکومت کے سامنے براہ راست پیش کرسکتے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ ماہ ملک میں تمام اقسام کے مظاہروں پر پابندی عائد کی تھی، جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی ۔ ہیومن رائٹس واچ نے پابندی کو اختلاف رائے دبانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پابندی کو افغانستان میں انسانی حقوق پر وسیع حملہ قرار دیا ہے ۔
اسلامی نظام میں احتجاج کی گنجائش نہیں:ترجمان افغان طالبان



