بیجنگ (شِنہوا) قومی توانائی انتظامیہ نے کہا ہے کہ چین میں فوٹو وولٹک (پی وی) بجلی کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت پہلی بار کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی صلاحیت سے تجاوز کر گئی ہے جس کے بعد پی وی بجلی نصب شدہ صلاحیت کے اعتبار سے ملک میں توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق جولائی کے اختتام تک چین میں نصب شدہ فوٹو وولٹک توانائی کی پیداواری صلاحیت 1.286 ارب کلوواٹ تک پہنچ گئی جو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی 1.285 ارب کلوواٹ صلاحیت سے معمولی زیادہ ہے۔
چائنہ الیکٹرسٹی کونسل کے ماہر لیو ژی چھیانگ نے کہا کہ یہ چین کی ماحول دوست اور کم کاربن توانائی کی منتقلی میں ایک سنگ میل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے توانائی ذرائع کو مرکزی حیثیت دینے والا چین کا نیا بجلی نظام تیزی سے تشکیل پا رہا ہے۔
جولائی کے اختتام تک فوٹو وولٹک توانائی چین کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی پیداواری صلاحیت کا 30 فیصد سے زائد حصہ بن چکی تھی۔ نئی شامل کی گئی پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے پہلے 7 ماہ میں فوٹو وولٹک توانائی کا حصہ 40 فیصد سے تجاوز کر گیا جو فوٹو وولٹک توانائی کے شعبے کی تیزی سے توسیع کو ظاہر کرتا ہے۔
چین نے فوٹو وولٹک توانائی کے شعبے میں تحقیق، ڈیزائن اور پیداوار سمیت ایک مکمل صنعتی سلسلہ قائم کر لیا ہے۔ خاص طور پر فوٹو وولٹک توانائی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی کارکردگی میں بہتری سمیت ٹیکنالوجی میں ترقی نے اس شعبے کو جدید بنانے اور لاگت میں تیزی سے کمی لانے میں مدد دی ہے۔
چین میں فوٹو وولٹک توانائی اور دیگر نئی توانائی ذرائع کی تیز رفتار ترقی عالمی سطح پر بھی مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے اور تیزی سے ترقی کرتے قابل تجدید توانائی کے نظام کے ساتھ چین دنیا بھر میں 80 فیصد سے زائد فوٹو وولٹک ماڈیولز اور 70 فیصد ونڈ پاور آلات فراہم کر رہا ہے، جس سے متعدد ممالک کو ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں مدد مل رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر توانائی اور اہم خام مال کی فراہمی میں غیر یقینی صورتحال کے دوران چین میں نئی توانائی کی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت نے نہ صرف ملک کی داخلی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور ترسیلی سلسلوں کے استحکام میں بھی مثبت کردار ادا کیا ہے۔
چین میں شمسی توانائی کی پیداواری صلاحیت پہلی بار کوئلے والے بجلی گھروں کی صلاحیت سے تجاوز کر گئی



