تحریر: شکیل احمد
(سیکرٹری جنرل، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس)
صحافت محض ایک پیشہ نہیں، یہ معاشرے کا آئینہ اور عوام کی آواز ہے۔ جب صحافی آزاد ہوتا ہے تو معاشرہ اپنے مسائل پر بات کر سکتا ہے، حکمرانوں سے سوال پوچھ سکتا ہے اور طاقت کے مراکز کا احتساب ممکن ہوتا ہے۔ لیکن جب صحافی معاشی دباؤ، بے روزگاری، دھمکیوں، مقدمات اور عدم تحفظ کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر صرف ایک فرد یا ایک میڈیا ادارے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری جمہوری اور سماجی ریاست متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی تاریخ دراصل پاکستانی صحافیوں کی قربانیوں، جدوجہد اور آزادیٔ صحافت کے لیے دی جانے والی لازوال قربانیوں کی تاریخ ہے۔ ہماری یونین نے آمریت کے ادوار دیکھے، سنسر شپ کا مقابلہ کیا، گرفتاریوں اور پابندیوں کا سامنا کیا، لیکن صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ اظہار کے اصول پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
آج صورتحال ایک نئے چیلنج کے ساتھ ہمارے سامنے ہے۔ میڈیا انڈسٹری شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ کئی اداروں میں ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں، کہیں تنخواہوں میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، کہیں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو اچانک ملازمت سے فارغ کر دیا جاتا ہے اور کہیں پورے کے پورے ادارے بند ہو جاتے ہیں۔
یہ محض اعداد و شمار نہیں۔ ہر برطرفی کے پیچھے ایک خاندان ہے، ہر رکی ہوئی تنخواہ کے پیچھے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ اور روزمرہ زندگی کی ضروریات ہیں۔ ہم جب ایک میڈیا ورکر کی ملازمت کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک خاندان کے معاشی مستقبل کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔
اسی احساس کے ساتھ میں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے یہ فیصلہ کیا کہ پاکستانی صحافیوں کے مسائل کو صرف پاکستان کے اندر نہیں بلکہ عالمی صحافتی برادری کے سامنے بھی بھرپور انداز میں اٹھایا جائے۔
میں نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا، بین الاقوامی میڈیا تنظیموں کے رہنماؤں، صحافتی یونینز اور آزادیٔ صحافت کے لیے کام کرنے والے اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کی حقیقی صورتحال سے آگاہ کیا۔
میرا مقصد ان ملاقاتوں کو محض رسمی ملاقاتوں تک محدود رکھنا نہیں تھا۔ میں نے ہر فورم پر یہ سوال اٹھایا کہ اگر پاکستان میں صحافی کو تنخواہ نہیں مل رہی، اگر اسے غیر قانونی طور پر ملازمت سے نکالا جا رہا ہے، اگر اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں یا اس کے خلاف مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں تو عالمی صحافتی برادری اس صورتحال پر خاموش کیسے رہ سکتی ہے؟
برسلز میں ایک اہم ملاقات
اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی برسلز میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے ہیڈ کوارٹرز میں آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری اینتھونی بیلانگرز سے میری ملاقات تھی۔
میں نے انہیں پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اور میڈیا ورکرز کو درپیش مشکلات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ میں نے بتایا کہ بعض میڈیا اداروں کو اشتہارات کی بندش اور دیگر مالی مشکلات کے باعث شدید بحران کا سامنا ہے، جس کا براہ راست اثر میڈیا ورکرز پر پڑ رہا ہے۔
میں نے ان کے سامنے غیر قانونی چھانٹیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، تنخواہوں میں کٹوتی، ملازمت کے عدم تحفظ، ہراسمنٹ اور صحافیوں کو درپیش سکیورٹی خطرات کا معاملہ بھی اٹھایا۔
ہم نے آزادیٔ صحافت کو درپیش قانونی چیلنجز پر بھی گفتگو کی، جن میں پیکا ایکٹ اور این سی سی اے کے تحت صحافیوں کو درپیش مقدمات اور خدشات شامل ہیں۔
میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ متعدد سینئر صحافیوں کو دھمکیوں کا سامنا ہے اور صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنا کئی حالات میں پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آئی ایف جے کے جنرل سیکرٹری اینتھونی بیلانگرز نے پاکستانی صحافیوں کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ عالمی صحافتی برادری پاکستانی صحافیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے حکومت پاکستان کے سامنے یہ مسائل اٹھانے، عالمی سطح پر معاملے کو اجاگر کرنے اور پاکستان کا دورہ کرکے متعلقہ حکام سے ملاقات کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
میرے لیے یہ ملاقات اس لحاظ سے اہم تھی کہ یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی بلکہ پاکستانی صحافیوں کے مسائل کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور ان کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی۔
ہماری لڑائی کسی حکومت کے خلاف نہیں، ناانصافی کے خلاف ہے
یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ پی ایف یو جے کی جدوجہد کسی مخصوص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں۔ ہماری لڑائی ناانصافی، دباؤ، غیر قانونی برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور آزادیٔ صحافت پر قدغنوں کے خلاف ہے۔
جو حکومت صحافیوں کے حقوق کا احترام کرے گی، ہم اس کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں گے۔ جو میڈیا مالکان کارکنوں کے حقوق ادا کریں گے، ہم ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ لیکن جہاں کسی صحافی یا میڈیا ورکر کے ساتھ زیادتی ہوگی، وہاں پی ایف یو جے خاموش نہیں رہے گی۔
ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ میڈیا مالکان اور حکومت، دونوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں۔ لیکن ان مسائل کا حل میڈیا ورکر کے معاشی استحصال کی صورت میں نہیں نکالا جا سکتا۔
صحافی کو صرف آزادی نہیں، معاشی تحفظ بھی چاہیے
ہم آزادیٔ صحافت کی بات تو بہت کرتے ہیں، لیکن اس آزادی کی بنیاد معاشی تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
جو صحافی کئی ماہ کی تنخواہ کا منتظر ہو، جسے ہر روز یہ خوف ہو کہ کل اس کی نوکری رہے گی یا نہیں، وہ کس حد تک آزادانہ صحافت کر سکتا ہے؟
اسی لیے میری نظر میں صحافیوں کے حقوق کا ایجنڈا صرف آزادیٔ اظہار تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں بروقت تنخواہ، ملازمت کا تحفظ، سوشل سکیورٹی، انشورنس، پنشن، قانونی معاونت، محفوظ ورک پلیس اور پیشہ ورانہ تربیت کو بھی صحافتی حقوق کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔
نئی نسل کے صحافی ہماری ذمہ داری ہیں
آج صحافت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجی نے صحافت کے روایتی انداز کو بدل دیا ہے۔
ہمیں اپنے نوجوان صحافیوں کو اس تبدیلی کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ انہیں جدید صحافتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل رپورٹنگ، تحقیقاتی صحافت اور ذمہ دارانہ صحافت کی تربیت فراہم کرنا ہوگی۔
میری کوشش ہے کہ پی ایف یو جے صرف بحران کے وقت صحافی کے ساتھ کھڑی ہونے والی تنظیم نہ رہے بلکہ صحافی کے پورے پیشہ ورانہ مستقبل کی محافظ بنے۔
عالمی رابطے جاری رہیں گے
میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے صحافیوں کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانا وقت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک کے دوروں اور بین الاقوامی میڈیا رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔
ہم عالمی صحافتی تنظیموں کو پاکستان کی صورتحال سے مسلسل آگاہ کرتے رہیں گے، ان سے تعاون حاصل کریں گے اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں عالمی سطح پر پاکستانی صحافیوں کے حق میں آواز اٹھوائیں گے۔
ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو یہ معلوم ہو کہ پاکستان کا صحافی مشکلات کے باوجود اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔ وہ عوام کے مسائل اجاگر کر رہا ہے، سوال پوچھ رہا ہے اور سچ کو سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پی ایف یو جے کا عہد
ہماری منزل صرف احتجاج کرنا نہیں بلکہ مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ میڈیا ادارے مضبوط ہوں، صحافی خوشحال ہوں، میڈیا ورکرز کو بروقت تنخواہیں ملیں، کسی کارکن کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے نہ نکالا جائے، صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے اور ریاستی و غیر ریاستی ہر سطح پر آزادیٔ صحافت کا احترام کیا جائے۔
ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور سوال پوچھنے والے صحافی کو ریاست یا معاشرے کے لیے خطرہ تصور نہ کیا جائے۔
کیونکہ صحافی سوال پوچھتا ہے، جواب ریاست اور معاشرے نے دینا ہوتا ہے۔
میں بطور سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یہ عہد کرتا ہوں کہ جہاں کہیں پاکستانی صحافی یا میڈیا ورکر اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے گا، پی ایف یو جے اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
ہم نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں، آج بھی جدوجہد کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ:
صحافی محفوظ ہوگا تو صحافت آزاد ہوگی،
صحافت آزاد ہوگی تو معاشرہ باخبر ہوگا،
اور معاشرہ باخبر ہوگا تو جمہوریت مضبوط ہوگی۔



