حادثہ سے پہلے یا حادثہ کے بعد۔

تحریر: عابد حسین قریشی

پمز ہسپتال اسلام آباد میں 14 معصوم بچوں کا جل کر صرف دومنٹ میں راکھ ہو جانا، اتنا بڑا سانحہ، ٹریجڈی، المناک قصہ اور دل و دماغ پر گہری چوٹ لگانے والا واقعہ ہے، کہ اسکا صرف تصور کرتے ہوئے ہی دل میں شدید چھبن اور کوفت ہوتی ہے۔ جن مظلوم لوگوں کے یہ معصوم پھول تھے، جو بن کھلے ہی مچلے گئے، خاکستر ہوئے، ان کے جذبات و احساسات کو کس طرح الفاظ کے جامہ میں پرویا جا سکتا ہے، مگر اصل رونا تو یہ ہے، کہ وطن عزیز کے دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے معروف سرکاری ہسپتال میں یہ المیہ جنم پزیر ہوا۔ وائرنگ ناقص، یا ایئر کنڈیشنز گھٹیا کوالٹی کے، یا کوئی دیگر فنی یا ٹیکنیکل وجہ، مگر جو کچھ بھی تھا، ننھے بچوں کو rescue تو بر وقت کیا جا سکتا تھا۔ کوئی ہنگامی پلان سرے سے تھا ہی نہیں۔ ڈیوٹی پر معمور عملے کو اس طرح کی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کی کوئی تربیت مکمل مفقود۔ یہ صرف ایک ہسپتال کا معاملہ نہیں، ہر شعبہ زندگی میں اسی طرح کا بگاڑ اور ابتری ہے۔ سفارش اور اقربا پروری نے میرٹ کا جنازہ نکال دیا۔ کسی ادارہ میں بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کا کوئی موثر سسٹم ہے نہ تربیت۔ قدرتی آفات اور حادثات میں ہم روزانہ یہی دیکھتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے سول سرونٹس اور دیگر سرکاری اور نجی ملازمین کو تو ہجوم کے ساتھ نبٹنا بھی نہیں آتا۔ Mass psychology ایک خاص طرح کا طرز عمل مانگتی ہے۔ کون کس طرح اور کتنی طاقت سے react کرے گا، کوئی نہیں جانتا، مگر یہ تو تربیت دی جا سکتی ہے، کہ جو ہجوم کو کنٹرول کرنے جا رہا ہے، اسکے پاس کتنی طاقت ہے۔ اگر وہ بپھرے ہجوم پر قابو نہیں پا سکتا تو retreat کس طرح کرنا ہے، موقع پر کس زبان اور کس لہجے میں بات کرنی ہے، یہ ہے، وہ تربیت جو یا تو ہمارے ٹریننگ اداروں میں دی نہیں جاتی، یا درست طریقہ سے نہیں دی جاتی اور عموماً حالات کو کنٹرول کرنے والے اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگا کر حالات کو پہلے سے بھی زیادہ خراب کر دیتے ہیں۔ میرے خیال میں ہماری اکیڈیمیز میں، ٹریننگ انسٹیٹیوٹز میں crisis management کا ایک سیل بنایا جائے، نائب قاصد سے لیکر ادارہ کے سربراہ تک سب کو ہر طرح کی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لئے تیار کیا جائے۔ اگر ہو سکے تو یونیورسٹی لیول سے اسے ایک سبجیکٹ کے طور پر سکھایا اور پڑھایا جائے۔ کسی حادثہ کا ہونا فطری ہے، بعض اوقات کوشش کے باوجود حادثات نہیں رکتے ، ترقی یافتہ ملکوں میں بھی یہ ہوجاتے ہیں، مگر ہنگامی صورتحال سے کیسے نبٹنا ہے، یہ تو سکھایا جا سکتا ہے۔ اگر پمز ہسپتال کی نرسوں اور ڈیوٹی پر موجود دیگر سٹاف کو اس طرح کی ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کی ٹریننگ ہوتی تو شاید کچھ معصوم جانیں بچ جاتیں۔ مگر یہ تو شاید سارے سسٹم کی ہی خرابی ہے، کہ حادثہ روکنے کی بجائے ہم حادثے کے بعد ایکٹو ہوتے ہیں۔اسکے اسباب پر غور کرنے کے لئے انکوائری کمیٹیز اور کمشن بنتے ہیں۔ متاثرین کی مدد کرکے انکی اشک شوئی بھی کی جاتی ہے، کچھ سرکاری ملازم تادیبی کاروائی کی زد میں بھی آتے ہیں۔ اور پھر اگلے حادثہ یا سانحہ کا انتظار کیا جاتا ہے۔



  تازہ ترین   
ایران کا اربیل کے قریب امریکی نگرانی کرنے والا غبارہ مار گرانے کا دعویٰ
7 ستمبر شجاعت، غیرت اور پاک فضائیہ کے لازوال معرکوں کا تاریخ ساز دن
اسرائیلی فوج کے حملوں میں تیزی، باپ بیٹی سمیت 4 فلسطینی شہید، متعدد زخمی
وطن کی فضاؤں کے محافظ پوری قوم کا فخر، ملک بھر میں یوم فضائیہ آج منایا جارہا ہے
بھارت کو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی کروانے سے باز آنا ہوگا: صدر زرداری
مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں حقیقی اور دیرپا امن ممکن نہیں: وزیراعظم
خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 21 دہشت گرد ہلاک
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر