انقلاب کے سوداگر اور عوام کا حساب

لندن نامہ: محمد نذیر

انقلاب کے نعرے لگانا آسان ہے مگر انقلاب کی قیمت ادا کرنا آسان نہیں ہوتی اور ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ انقلاب کے سب سے بلند نعرے اکثر انہی لوگوں کی زبان سے بلند ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی اس عوام کی زندگی کا کرب اپنی جلد پر محسوس ہی نہیں کیا جس کے نام پر وہ انقلاب بیچتے ہیں یہ وہ طبقہ ہے جس کے لیے پاکستان ایک نقشے پر بنا ہوا ملک نہیں بلکہ اختیار دولت تعلقات اور مراعات کا ایک وسیع میدان ہے جس میں عام آدمی صرف اس وقت دکھائی دیتا ہے جب اس کا ووٹ درکار ہو جس کے بعد وہی عام آدمی مہنگائی کے بازار میں تنہا کھڑا رہ جاتا ہے اسپتال کے دروازے پر قطار میں لگ جاتا ہے سرکاری دفتر میں دھکے کھاتا ہے اپنے بچے کے داخلے کے لیے سفارش ڈھونڈتا ہے روزگار کے لیے در بدر پھرتا ہے اور بجلی کے بل کو دیکھ کر سوچتا ہے کہ گھر کا چولہا جلائے یا ریاست کا خزانہ بھرے یہ کیسا انقلاب ہے جس میں تقریر عوام کی ہوتی ہے مگر زندگی اشرافیہ کی بدلتی ہے یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں کروڑوں لوگ ووٹ دیتے ہیں مگر فیصلوں کی میز پر چند چہروں کی موجودگی مستقل رہتی ہے اور یہ کیسا نظام ہے جس میں غریب کو صبر کا درس دیا جاتا ہے مگر طاقتور کے لیے قانون کے دروازے ہمیشہ کشادہ رہتے ہیں جس شخص نے زندگی بھر آسودگی دیکھی ہو وہ غربت پر تقریر تو کر سکتا ہے لیکن غربت کی توہین برداشت کرنا اس کے لیے شاید ممکن نہ ہو جس نے صاف پانی کو کبھی مسئلہ نہ سمجھا ہو وہ پانی کی قلت پر منصوبے بنا سکتا ہے مگر اس ماں کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا جو اپنے بچوں کے لیے پانی کی چند بالٹیاں بھرنے کو میلوں چلتی ہے جس نے سرکاری اسکول کی ٹوٹی ہوئی دیوار اور خالی کلاس روم نہیں دیکھے وہ تعلیم کے انقلاب کی بات کر سکتا ہے مگر اس بچے کی قسمت نہیں بدل سکتا جس کے ہاتھ میں کتاب سے پہلے غربت کی لکیر تھما دی گئی ہے پاکستان کے کروڑوں شہریوں کو ہر چند برس بعد ایک نیا خواب دیا جاتا ہے کبھی انقلاب کے نام پر کبھی تبدیلی کے نام پر کبھی غریب کی حکومت کے نام پر اور کبھی نئے مستقبل کے نام پر لیکن عوام کو یہ بتانے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے کہ اس خواب کی تعبیر میں ان کا حقیقی حصہ کیا ہوگا اصل سوال یہی ہے کہ جو لوگ ریاست چلاتے ہیں کیا وہ کبھی ریاست کے عام شہری کی زندگی میں داخل بھی ہوئے ہیں یا صرف انتخابی مہم کے دوران اس کے دروازے تک پہنچتے ہیں عوام ان کے لیے ایک مستقل شہری نہیں بلکہ ایک موسمی ضرورت بن چکے ہیں الیکشن آیا تو کسان یاد آ گیا مزدور یاد آ گیا نوجوان یاد آ گیا عورت یاد آ گئی غریب یاد آ گیا اور الیکشن ختم ہوا تو وہی کسان قرض میں ڈوبتا رہا وہی مزدور اجرت کے لیے ترستا رہا وہی نوجوان روزگار کی تلاش میں بھٹکتا رہا اور وہی غریب علاج کے لیے اپنی جمع پونجی بیچتا رہا اگر یہی جمہوریت ہے تو پھر اس جمہوریت کا حساب بھی ہونا چاہیے کیونکہ شہری صرف ووٹر نہیں ٹیکس دینے والا بھی ہے مزدور بھی ہے کسان بھی ہے تاجر بھی ہے طالب علم بھی ہے سرکاری ملازم بھی ہے اور اس ریاست کی معیشت کو اپنے خون پسینے سے چلانے والا انسان بھی ہے اس لیے ریاستی اختیار کا ہر مراعات یافتہ منصب عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے صدر سے وزیر اعظم تک گورنر سے وزیر اعلیٰ تک پارلیمان سے اعلیٰ سرکاری عہدوں تک ہر منصب کے ساتھ ملنے والی تنخواہ مراعات رہائش سفر حفاظت پنشن اور دوسری سہولتوں کا واضح حساب عوام کے سامنے ہونا چاہیے کیونکہ یہ کسی فرد کی جیب سے نہیں بلکہ عوام کے خزانے سے ادا ہوتا ہے اور عوام کو اپنے ہی پیسے کا حساب مانگنے کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کسی عہدے دار کو سہولت کیوں دی گئی اصل مسئلہ یہ ہے کہ سہولت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور شاہانہ طرز زندگی کہاں سے شروع ہوتا ہے جواب دہی کا مطلب یہ ہے کہ اختیار رکھنے والا شخص عوام کے سامنے کھڑا ہو کر بتا سکے کہ اس نے کیا لیا اور اس کے بدلے ریاست کو کیا دیا اب ذرا زمین کی طرف آئیے کیونکہ اس ملک میں طاقت اور دولت کی سب سے پرانی کہانی زمین سے شروع ہوتی ہے قانون ریاست کو عوامی ضرورت کے لیے زمین حاصل کرنے کا اختیار دیتا ہے لیکن قانون کی کتاب اور زمین پر کھڑے کمزور مالک کی حقیقت میں اکثر زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ایک طرف وہ شخص ہے جس کی پوری جمع پونجی چند ایکڑ زمین ہے اور دوسری طرف ریاست یا ایسا طاقتور ادارہ ہے جس کے پاس اختیار بھی ہے وسائل بھی ہیں معلومات بھی ہیں اور فیصلے پر اثر انداز ہونے کی طاقت بھی اگر ایک کمزور زمین مالک کو اپنی زمین ایک قیمت پر دینی پڑے اور چند برس بعد اسی علاقے میں ریاستی ترقیاتی منصوبوں کے باعث زمین کی قیمت کئی گنا بڑھ جائے تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ قانون کے مطابق معاوضہ دے دیا گیا سوال یہ ہے کہ اس اضافی دولت کا فائدہ کس کو ملا اور کیوں ملا کیونکہ زمین صرف مٹی نہیں ہوتی زمین طاقت ہے زمین دولت ہے زمین مستقبل ہے اور جس کے ہاتھ میں زمین کی قیمت بڑھانے والے فیصلوں کا اختیار ہو اس کے ہاتھ میں دراصل ایک بہت بڑی معاشی قوت بھی ہوتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں عام آدمی کو سمجھنا ہوگا کہ اصل کھیل صرف دولت رکھنے کا نہیں بلکہ فیصلے کرنے کی طاقت رکھنے کا ہے مخصوص سماجی حلقوں کی بحث بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے مسئلہ کسی ایک کلب کسی ایک عمارت یا کسی ایک رکنیت کا نہیں مسئلہ اس تعلقاتی نظام کا ہے جہاں سیاست کاروبار سرکاری اختیار زمین دولت اور ذاتی روابط ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں ایک عام آدمی کو کسی دفتر میں معمولی کام کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑ سکتا ہے لیکن طاقتور شخص کا ایک فون کئی دروازے کھول دیتا ہے ایک نوجوان کو نوکری کے لیے برسوں مقابلہ کرنا پڑتا ہے لیکن کسی بااثر خاندان کی سفارش ایک ہی دن میں راستہ بنا دیتی ہے ایک چھوٹے کاروباری کو قانون کی ہر شق پوری کرنی پڑتی ہے لیکن بڑے مفاد والے منصوبوں کے لیے قواعد کی تشریح بھی بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں میرٹ کا جنازہ نکلتا ہے اور سفارش ریاستی اصول بن جاتی ہے پھر سوال اٹھتا ہے کہ اس ملک میں قابلیت کم ہے یا رسائی زیادہ قیمتی ہے اگر کسی شخص کی اصل طاقت اس کی اہلیت نہیں بلکہ اس کا تعلق ہو تو پھر ادارے کمزور نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا تقرریاں محض افراد کا انتخاب نہیں ہوتیں وہ ریاست کی سمت کا تعین کرتی ہیں جب کسی عہدے پر اہلیت کے بجائے وفاداری عزیز ہو جائے جب تجربے کے بجائے قربت معیار بن جائے اور جب میرٹ کے بجائے سفارش دروازہ کھولنے لگے تو ریاست کے ادارے بظاہر قائم رہتے ہیں مگر اندر سے کھوکھلے ہونا شروع ہو جاتے ہیں پھر عام آدمی پوچھتا ہے کہ میرٹ کس کے لیے ہے اور رسائی کس کے لیے ہے یہ سوال آج پہلے سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دولت کے ارتکاز کی پرانی کہانی اب صرف چند خاندانوں تک محدود نہیں رہی طاقت کے راستے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں سیاست کاروبار زمین سرکاری اختیار خاندان سماجی تعلقات اور معاشی مفادات ایک دوسرے میں ایسے پیوست ہو سکتے ہیں کہ طاقت کا ایک حلقہ دوسرے حلقے کو مضبوط کرتا چلا جائے اس لیے آج ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ پرانے بائیس خاندان کون تھے بلکہ یہ پوچھنا چاہیے کہ آج وہ کون سے راستے ہیں جن کے ذریعے دولت اور اختیار بار بار طاقتور لوگوں تک واپس پہنچتا ہے اور عام آدمی ہر بار اسی مقام پر کیوں کھڑا رہ جاتا ہے یہ ہے اصل سوال اور یہی وہ سوال ہے جس سے ہماری سیاسی اشرافیہ سب سے زیادہ گھبراتی ہے کیونکہ نعرے سننا آسان ہے حساب دینا مشکل ہے عوام کو انقلاب کی تقریر سنانا آسان ہے انقلاب کے بعد اقتدار کی تقسیم بتانا مشکل ہے غریب کے نام پر سیاست کرنا آسان ہے اپنے مراعاتی دائرے سے باہر نکلنا مشکل ہے عام آدمی کو قربانی کا درس دینا آسان ہے اپنی مراعات میں کمی قبول کرنا مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں اب نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا ہمیں پوچھنا ہوگا کہ ریاستی وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں بڑے عہدوں پر کتنی مراعات دی جاتی ہیں زمین کس قیمت پر حاصل کی جاتی ہے بعد میں اس کی قدر کتنی بڑھتی ہے سرکاری تقرریوں کے فیصلے کس بنیاد پر ہوتے ہیں کون سا شخص کس تک براہ راست پہنچ سکتا ہے اور عام شہری کو اپنے حق کے لیے کتنے دروازے کھٹکھٹانے پڑتے ہیں جب تک ان سوالات کے جواب نہیں ملتے تب تک انقلاب کے نعرے محض سیاسی شاعری ہیں اور تبدیلی کی تقریریں محض انتخابی تجارت ہیں اصل انقلاب اس دن ہوگا جب ایک غریب آدمی اپنے حق کے لیے کسی بااثر شخص کا دروازہ نہ کھٹکھٹائے بلکہ قانون کا دروازہ اس کے لیے خود کھلا ہو جب ایک نوجوان کو نوکری کے لیے سفارش نہیں بلکہ قابلیت درکار ہو جب ایک مریض کو علاج کے لیے تعلقات نہیں بلکہ ریاستی نظام میسر ہو جب ایک بچے کا مستقبل اس کے باپ کی دولت سے نہیں بلکہ اس کی اپنی صلاحیت سے طے ہو جب ایک کسان اپنی زمین کے معاملے میں طاقتور کے سامنے بے بس نہ ہو اور جب ایک عام شہری یہ محسوس کرے کہ ریاست اس کی رعایا نہیں بلکہ اس کی امانت ہے اس دن انقلاب کو کسی جلسے کسی نعرے یا کسی بڑے مقرر کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ انقلاب خود ریاست کے کردار میں دکھائی دے گا اس لیے اگلی بار جب کوئی صاحب اقتدار یا صاحب ثروت شخص آپ کے سامنے کھڑے ہو کر انقلاب کی داستان سنائے تو اس سے یہ مت پوچھئے کہ انقلاب کب آئے گا اس سے صرف اتنا پوچھئے کہ جناب انقلاب کے بعد طاقت کس کے پاس رہے گی دولت کے فیصلے کون کرے گا قانون کس پر برابر لاگو ہوگا اور عام آدمی کی حیثیت کیا ہوگی کیونکہ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں ہماری پوری سیاسی اشرافیہ کی اصل تصویر سامنے آتی ہے اور شاید یہی وہ الجبرا ہے جسے ہم برسوں سے نعروں کے شور میں سمجھنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔



  تازہ ترین   
بانی کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ کی نظرثانی کی جلد سماعت کی درخواست دائر
ایرانی ہیکرز کے برطانیہ پر پہلے سائبر حملے کا انکشاف، پاور پلانٹ 4 روز تک بند رہا
جڑواں شہروں میں شدید بارش، انڈر پاسز پانی سے بھر گئے، نالہ لئی میں طغیانی
نائیجیریا میں مسلح افراد کے متعدد دیہات پر حملے، 40 افراد ہلاک، 100 سے زائد اغوا
تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان
امریکی جج نے پاکستان سمیت 75 ممالک پر امیگریشن ویزا پابندی ختم کر دی
ایرانی بسیج کمانڈر کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ
بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر