مریم نواز کی گڈ گورننس یا خوف کی حکمرانی

تاثرات: مظہر طفیل

وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف جب پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئیں تو ان کے سامنے ایک ایسا صوبہ تھا جو مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباؤ، سیاسی کشمکش، انتظامی کمزوری اور عوامی بے اعتمادی کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ ایسے میں ایک منتخب حکومت سے توقع تھی کہ وہ اقتدار کو طاقت کے مظاہرے کے بجائے خدمت کا وسیلہ بنائے گی، قانون کو خوف کے بجائے تحفظ کی علامت بنائے گی اور ریاستی اداروں کو سیاسی اختیار کے اظہار کے بجائے عوامی سہولت کا ذریعہ بنائے گی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ پنجاب میں حکمرانی کی جو تصویر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے، اس میں گڈ گورننس کے نعروں سے کہیں زیادہ طاقت کا اظہار، انتظامی جبر، نمائشی منصوبہ بندی اور عوامی وسائل کے بے دریغ استعمال کے سوالات نمایاں ہیں۔ پنجاب پولیس ہو، سی سی ڈی ہو، پیرا فورس ہو، ٹریفک پولیس ہو، تجاوزات کے خلاف کارروائیاں ہوں، صاف ستھرا پنجاب ہو، بیوٹیفیکیشن منصوبے ہوں یا سرکاری وسائل کا استعمال، ہر سمت ایک ہی بنیادی سوال کھڑا دکھائی دیتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے ہے یا حکومت اپنی انتظامی قوت کا ایسا مظاہرہ کرنا چاہتی ہے جس میں شہری ریاست کے سامنے سوال کرنے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دینے لگے؟ جرائم کے خلاف ریاستی کارروائی بلاشبہ ضروری ہے اور کوئی مہذب معاشرہ جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتا، مگر ریاست اور جنگل کے قانون میں بنیادی فرق یہی ہے کہ ریاست طاقت استعمال کرتے ہوئے بھی قانون کی پابند رہتی ہے۔ سی سی ڈی کا مقصد اگر جرائم کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کرنا ہے تو اس کی کامیابی کا پیمانہ پولیس مقابلوں کی تعداد یا ہلاکتوں کے اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے مقدمات شفاف تفتیش کے بعد عدالتوں تک پہنچے، کتنے مجرم قانون کے مطابق سزا کے مستحق ثابت ہوئے اور کتنے بے گناہ شہری ریاستی طاقت کی زد سے محفوظ رہے۔ جب کسی پولیس کارروائی میں ہلاکت ہو، جب کسی مقابلے کے قانونی جواز پر سوال اٹھے، جب خاندان اپنے پیاروں کے بارے میں وضاحت اور شفاف تحقیقات کے لیے دروازے کھٹکھٹائیں تو حکومت کی ذمہ داری صرف یہ کہہ دینا نہیں کہ مرنے والے مجرم تھے، بلکہ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ریاست نے قانون کے ہر تقاضے کو پورا کیا تھا، کیونکہ مہذب ریاست میں مجرم بھی عدالت سے سزا پاتا ہے اور پولیس مقابلہ عدالت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ چکوال، سرگودھا اور دیگر علاقوں میں پولیس اور سی سی ڈی کی کارروائیوں کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اسی لیے اہم ہیں کہ ریاست کی طاقت جب قانون کے تابع رہتی ہے تو وہ تحفظ بن جاتی ہے اور جب قانون سے بالاتر دکھائی دینے لگے تو وہ خوف کی علامت بن جاتی ہے۔ یہی معاملہ پیرا فورس اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا ہے۔ تجاوزات کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے، شہر منظم ہونے چاہئیں، سڑکیں، فٹ پاتھ اور بازار غیر قانونی قبضوں سے آزاد ہونے چاہئیں، مگر انتظامی اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ غریب کی روزی بھی سرکاری مشینری کے ایک حکم سے چھین لی جائے۔ ایک ریڑھی بان، ایک خوانچہ فروش، ایک چھوٹا دکاندار یا ایک مزدور اگر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے سڑک کنارے کاروبار کرتا ہے تو ریاست کا کام صرف اس کا سامان اٹھا لینا نہیں، بلکہ اس کے لیے متبادل راستہ پیدا کرنا بھی ہے۔ شہر خوبصورت ضرور ہونے چاہئیں، مگر خوبصورتی ایسی نہیں ہونی چاہیے جس کی قیمت غریب کی روٹی بن جائے۔ اگر کسی دکاندار یا ریڑھی بان نے قانون توڑا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کیجیے، مگر قانون کے نام پر تذلیل، دھمکی، ناجائز مطالبات یا روزگار کی تباہی کسی مہذب انتظامیہ کا طرہ امتیاز نہیں ہو سکتی۔ معروف شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی سے متعلق سامنے آنے والی شکایات نے بھی اسی بنیادی سوال کو جنم دیا کہ جب ایک شہری کسی انتظامی کارروائی پر اعتراض کرے تو ریاست اسے سننے کے لیے کھڑی ہوتی ہے یا طاقت کے دروازے اس کے سامنے بند کر دیتی ہے؟ اگر ان کے ڈھابے کے حوالے سے کوئی قانونی خلاف ورزی تھی تو شفاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے تھی اور اگر کسی اہلکار پر مالی مطالبے یا دھمکی کے الزامات تھے تو فوری تحقیقات ہونی چاہیے تھیں، کیونکہ ریاست کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ کمزور کو چند لمحوں میں بے بس کر دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے طاقتور اہلکار کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ بنا دے۔ پنجاب کی ٹریفک پولیس بھی اس حکمرانی کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دعووں اور حقیقت کا فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے، مگر ٹریفک پولیس کا وجود صرف چالان کاٹنے کے لیے نہیں۔ ٹریفک پولیس کا اصل فرض شہریوں کو محفوظ راستہ دینا، ٹریفک کو رواں رکھنا، حادثات کم کرنا اور شہریوں میں قانون کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اگر لاہور سمیت بڑے شہروں میں شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہیں، اگر ایک معمولی حادثہ پوری شاہراہ کو مفلوج کر دے، اگر پارکنگ کا نظام سڑکوں کو نگل جائے، اگر تجاوزات ٹریفک کا گلا گھونٹ دیں اور پھر حکومت چالانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کامیابی سمجھنے لگے تو یہ گڈ گورننس نہیں، بلکہ انتظامی اعداد و شمار کا کھیل ہے۔ حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ کتنے چوراہوں پر ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوا، کتنے خطرناک مقامات پر حادثات کم ہوئے، کتنی سڑکیں بہتر ہوئیں، کتنے شہریوں کو قوانین سے آگاہ کیا گیا اور شہریوں کا روزانہ سفر کتنے منٹ کم ہوا۔ ریاست اگر شہری کو قانون سمجھانے کے بجائے صرف جرمانہ کرنا شروع کر دے تو قانون اصلاح کا ذریعہ نہیں رہتا، بلکہ وصولی کا نظام بن جاتا ہے۔ پولیس اور ٹریفک پولیس کو ریونیو جمع کرنے والی مشین بنا دینا نہ پولیسنگ ہے، نہ گورننس۔ ریاستی ادارے عوام کے لیے ہوتے ہیں، عوام ریاستی اداروں کے لیے نہیں۔ صاف ستھرا پنجاب اور بیوٹیفیکیشن کے منصوبے بھی اسی سوال سے بچ نہیں سکتے۔ شہر صاف اور خوبصورت ہوں، یہ ہر شہری کی خواہش ہے، مگر اشتہار میں چمکتا ہوا شہر اور زمین پر بدبودار گلی میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ حکومت کو منصوبوں کے افتتاح سے زیادہ ان کے نتائج دکھانے چاہئیں۔ اگر صفائی کے نام پر خطیر رقم خرچ ہو اور شہری پھر بھی کچرے، نکاسی آب اور گندگی کے مسائل میں گھرے رہیں تو مسئلہ عوام میں نہیں، انتظامی ماڈل میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح بیوٹیفیکیشن کے منصوبے اپنی جگہ، مگر جب بارش آتے ہی سڑکیں تالاب بن جائیں، نکاسی آب جواب دے جائے، شہری علاقوں میں پانی کھڑا ہو جائے اور بنیادی انفراسٹرکچر اپنی کمزوری کا اعلان کرنے لگے تو بارش محض موسم نہیں رہتی، بلکہ حکومت کی کارکردگی کا امتحان بن جاتی ہے۔ شہر کو خوبصورت بنانے سے پہلے اسے قابل رہائش بنانا ضروری ہے۔ چوکوں پر چراغاں سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ شہری کے گھر تک صاف پانی پہنچے، سڑک محفوظ ہو، سیوریج کام کرے، پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہو اور بارش کے بعد شہر ڈوبنے کے بجائے چلتا رہے۔ اور پھر آتا ہے عوامی خزانے کا وہ سوال جس سے کوئی حکومت اشتہاری مہم کے ذریعے نہیں بچ سکتی۔ سرکاری وسائل عوام کی امانت ہوتے ہیں، کسی حکمران، کسی وزیر یا کسی سیاسی خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں۔ عوام مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، بے روزگاری، علاج اور تعلیم کے اخراجات میں پس رہے ہوں اور دوسری طرف سرکاری خزانے سے شاہانہ سہولتوں کے سوال اٹھیں تو حکومت کو جواب دینا پڑتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے گیارہ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے لگژری جیٹ کی خریداری کے معاملے میں پہلے تردید اور پھر اسمبلی کے فلور پر اس خریداری کے اعتراف کے بعد اختیار کیا جانے والا تحکمانہ انداز اس پورے معاملے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اگر خریداری قانونی ہے، اگر عوامی ضرورت کے تحت ہے، اگر اس میں مکمل شفافیت موجود ہے تو پھر تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے میں تامل کیوں ہو؟ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے پیسے سے کیا خریدا گیا، کیوں خریدا گیا، کس نے منظوری دی، اس کی ضرورت کیا تھی اور اس سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔ جمہوریت میں سوال جرم نہیں ہوتا، سوال کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہوتا ہے اور جو اقتدار سوال کو گستاخی سمجھنے لگے، وہ دراصل اپنی جواب دہی سے فرار کی راہ اختیار کر رہا ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں سرکاری فنڈز کی تقسیم، اراکین اسمبلی کو نوازنے اور سرکاری وسائل سے مراعات فراہم کرنے کے معاملات بھی جواب طلب ہیں۔ حالیہ حج سیزن میں اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹیرینز کو سرکاری اخراجات پر حج کی سہولت فراہم کیے جانے کے سوال نے بھی یہ بحث چھیڑی کہ قومی خزانے کا استعمال آخر کس اصول کے تحت ہو رہا ہے۔ ایک غریب شہری اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ترس رہا ہو اور دوسری طرف عوامی خزانے سے حکمران طبقے کے لیے خصوصی سہولتیں پیدا کی جائیں تو پھر حکمرانوں کو عوام کے غصے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ ریاستی خزانہ کسی کی جاگیر نہیں، یہ اس مزدور، کسان، دکاندار، ملازم اور عام شہری کی امانت ہے جو اپنی محدود آمدنی سے ریاست کو ٹیکس دیتا ہے۔ اس امانت میں خیانت صرف مالی جرم نہیں، بلکہ اخلاقی زوال بھی ہے۔ پنجاب کی حکمرانی کا ایک اور تلخ سوال لاہور کی میٹرو بس اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ لاکھوں شہری روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ طالب علم، مزدور، ملازم، مریض اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ سہولت کسی عیاشی کا نام نہیں، بلکہ زندگی کی ضرورت ہے۔ اگر ایک منصوبہ چند برس بعد مالی دباؤ، ایندھن کے اخراجات یا انتظامی کمزوریوں کے باعث بند ہونے کے خطرے تک پہنچ جائے تو سوال صرف اس منصوبے کا نہیں، بلکہ اس منصوبہ بندی کا ہے جو منصوبہ بناتے وقت اس کے مستقبل کا سوچنے میں ناکام رہی۔ حکومت کا کام صرف منصوبے کا افتتاح کرنا نہیں، بلکہ اس کی مالی پائیداری، آپریشنل لاگت اور مستقبل کی ضروریات کا بندوبست کرنا بھی ہے۔ یہی فرق حقیقی گورننس اور تصویری گورننس کے درمیان ہے۔ اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ پنجاب میں گڈ گورننس کا پیمانہ ہی بدل دیا گیا ہے۔ چالان زیادہ ہوں تو کامیابی، آپریشن زیادہ ہوں تو کامیابی، چوک زیادہ خوبصورت ہوں تو کامیابی، اشتہارات زیادہ ہوں تو کامیابی، مگر عوام کی زندگی کتنی آسان ہوئی، اس سوال کا جواب کہاں ہے؟ ایک حکومت کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس نے کتنی طاقت دکھائی، بلکہ اس سے ناپی جاتی ہے کہ اس نے کتنے لوگوں کو تحفظ دیا، کتنے خاندانوں کو روزگار کے مواقع دیے، کتنے شہریوں کا وقت بچایا، کتنے مریضوں کو سہولت دی، کتنے بچوں کو بہتر تعلیم دی، کتنے علاقوں کو صاف پانی ملا اور کتنے غریبوں کو ریاست کے سامنے عزت کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ ملا۔ مریم نواز شریف کے سامنے اصل امتحان اپوزیشن نہیں، بلکہ ان کی اپنی حکمرانی کا ماڈل ہے۔ سیاسی مخالفین کو خاموش کرایا جا سکتا ہے، میڈیا کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے، سوالات کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر عوام کے ذہن میں پیدا ہونے والا سوال دبایا نہیں جا سکتا۔ پنجاب کسی سیاسی خاندان کی جاگیر نہیں، یہ کروڑوں انسانوں کا گھر ہے۔ یہاں کا ہر شہری برابر عزت، برابر تحفظ اور برابر انصاف کا حق رکھتا ہے۔ پولیس حکومت کی ذاتی طاقت نہیں، ریاست کی طاقت ہے۔ خزانہ حکمرانوں کی ملکیت نہیں، عوام کی امانت ہے۔ قانون غریب کے لیے ڈنڈا اور طاقتور کے لیے ڈھال نہیں ہو سکتا اور ترقی کا مطلب چند چمکتے ہوئے منصوبے نہیں، بلکہ عام آدمی کی زندگی میں حقیقی آسانی ہے۔ اقتدار کا نشہ انسان کو یہ بھلا دیتا ہے کہ کرسی ہمیشہ قائم نہیں رہتی، مگر تاریخ کسی حکمران کے لہجے، فیصلوں اور رویے کو نہیں بھولتی۔ آج جو حکومت اپنے اختیار کے غرور میں سوال کو حقارت سے دیکھتی ہے، کل وہی سوال تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ آج جو ادارہ کمزور شہری کے لیے خوف کی علامت بنتا ہے، کل اسی ادارے سے طاقتور کو بھی حساب دینا پڑ سکتا ہے۔ وقت کا پہیہ کسی کے لیے نہیں رکتا، اس لیے پنجاب حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے دور کو خوف کی حکمرانی کے طور پر یاد کروانا چاہتی ہے یا قانون، انصاف، خدمت اور عوامی اعتماد کی حکمرانی کے طور پر، کیونکہ اصل گڈ گورننس وہ نہیں جو اشتہار میں دکھائی جائے، اصل گڈ گورننس وہ ہے جو غریب کے گھر میں محسوس ہو، جو مزدور کی زندگی آسان کرے، جو شہری کو پولیس سے خوفزدہ نہ کرے، جو دکاندار کو ریاست سے لڑنے پر مجبور نہ کرے، جو ٹریفک میں پھنسی عوام کو راستہ دے، جو بارش میں شہر کو ڈوبنے سے بچائے اور جو قومی خزانے کے ایک ایک روپے کو مقدس امانت سمجھ کر خرچ کرے، ورنہ خوبصورت سڑکوں، چمکتے چوکوں، بلند دعووں اور طاقت کے مظاہروں کے باوجود تاریخ اپنا فیصلہ سنا دے گی کہ پنجاب میں گڈ گورننس نہیں، بلکہ خوف کی حکمرانی کا ایک اور باب لکھا جا رہا تھا۔



  تازہ ترین   
بانی کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ کی نظرثانی کی جلد سماعت کی درخواست دائر
ایرانی ہیکرز کے برطانیہ پر پہلے سائبر حملے کا انکشاف، پاور پلانٹ 4 روز تک بند رہا
جڑواں شہروں میں شدید بارش، انڈر پاسز پانی سے بھر گئے، نالہ لئی میں طغیانی
نائیجیریا میں مسلح افراد کے متعدد دیہات پر حملے، 40 افراد ہلاک، 100 سے زائد اغوا
تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان
امریکی جج نے پاکستان سمیت 75 ممالک پر امیگریشن ویزا پابندی ختم کر دی
ایرانی بسیج کمانڈر کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ
بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر