ماسکو (شِنہوا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے جاپان پر زور دیا ہے کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے نتائج کو مکمل طور پر تسلیم کرے اور اپنی جنگی جارحیت کی تاریخ پر پردہ ڈالنے کی کوششیں بند کرے۔
شِنہوا نیوز ایجنسی کے ایک رپورٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زخارووا نے کہا کہ جاپان کی جانب سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کے اعلان کی 81 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریبات میں جاپانی حکومت نے نہ صرف ایشیا بحرالکاہل خطے میں اپنی جارحیت کا عوامی طور پر اعتراف کرنے، اس سے متاثرہ پڑوسی ممالک کے عوام سے خلوص دل سے معافی مانگنے اور اپنے آئین کی امن پسند دفعات سے وابستگی کا اعادہ کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ اس کے بجائے دوبارہ عسکریت پسندی کی راہ پر گامزن ہے اور تیزی سے ایک خطرناک راستے پر آگے بڑھ رہی ہے۔
زخارووا نے کہا کہ “جاپان کی جانب سے اپنے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنا، اپنے آئین کے بنیادی اصولوں پر نظرثانی کرنا اور نام نہاد 3 غیر ایٹمی اصولوں میں ترمیم پر دوبارہ بحث شروع کرنے کے یہ تمام اقدامات تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔”
زخارووا نے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم سنائی تاکائیچی کی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی قومی یادگاری تقریب سے خطاب، یاسوکونی مزار میں نذرانہ پیش کرنا اور مزار سے متعلق ان کے دیگر اقدامات، نیز وزیر دفاع شنجیرو کوئزومی سمیت جاپانی حکام کے یاسوکونی مزار کے دورے، یہ سب جاپان کی دوبارہ عسکریت پسندی کی راہ پر گامزن ہونے کے مظاہر ہیں۔
جاپان دوسری جنگ عظیم کے نتائج مکمل تسلیم کرکے جنگی جارحیت کی پردہ پوشی بند کرے، روس کی تاکید



