تاثرات: مظہر طفیل
پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کے مجوزہ مسودے نے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ اس بحث کا ایک حصہ قانون کی روح اور بدلتی ہوئی عالمی دفاعی حقیقتوں کو سمجھنے کے بجائے سیاسی تعصب اور سوشل میڈیا کی تند و تیز مہمات کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے حالانکہ یہ معاملہ محض کسی ایک ادارے یا شخصیت کے حق اور مخالفت کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی اور مستقبل کے دفاعی ڈھانچے سے متعلق ایک بنیادی سوال ہے۔ مجوزہ قانون میں آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کے منصب کی قانونی بنیاد رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے اور اس کے ذریعے بری فوج فضائیہ اور بحریہ کے درمیان مشترکہ آپریشنل رابطے کو زیادہ مؤثر بنانے کا تصور پیش کیا گیا ہے جبکہ ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کو مسلح افواج کا مرکزی ہیڈکوارٹر بنانے اور چیف آف ڈیفنس فورسز کو اس کا سربراہ مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ بادی النظر میں یہ تصور اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اکیسویں صدی کی جنگ اب صرف توپ اور ٹینک کی جنگ نہیں رہی بلکہ یہ فضائی طاقت بحری قوت میزائل ٹیکنالوجی ڈرونز سائبر وارفیئر مصنوعی ذہانت انٹیلی جنس اور برق رفتاری سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے امتزاج کا نام ہے اور جس ریاست کی افواج ان تمام شعبوں میں مربوط انداز میں فیصلہ سازی اور کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں وہی اپنے دفاع کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔ ایسے میں تینوں مسلح افواج کے درمیان بہتر رابطہ مشترکہ آپریشنل صلاحیت اور قومی سلامتی کے معاملات میں مربوط کمان کا قیام کسی شخص کو طاقتور بنانے سے زیادہ ایک جدید ریاست کے دفاعی تقاضوں کا جواب قرار دیا جاسکتا ہے۔ مسودے میں وزیراعظم کو مسلح افواج سے متعلق اہم امور میں مشورہ دینے کی ذمہ داری اور بعض معاملات میں وزیراعظم کی منظوری کی ضرورت اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ دفاعی کمان کو ریاستی آئینی ڈھانچے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 کے ساتھ قانونی تسلسل برقرار رکھنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ قانون کس شخصیت کے حق میں ہے بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا پاکستان کو آج کی جنگی دنیا میں ایک ایسی مربوط دفاعی کمان کی ضرورت ہے یا نہیں اور اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر اسے آئینی دائرے پارلیمانی نگرانی اور مؤثر احتساب کے ساتھ کیسے بہتر بنایا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جذباتی شور اور قومی مفاد کے درمیان فرق نمایاں ہوجاتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی حقیقت کو سمجھنے کے لیے آج کے عالمی منظرنامے پر ایک نظر ڈالنا کافی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا باہمی دفاعی معاہدہ اور ترکیہ سمیت خطے کے اہم ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو محض اندرون ملک سیاسی بحث کے پیمانے سے نہیں پرکھا جاسکتا۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تربیت مشترکہ مشقوں اور دفاعی رابطوں کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے نے اس تعلق کو مزید واضح اور ادارہ جاتی شکل دی اور 2026 میں پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون میں بڑھتی ہوئی قربت نے اسٹریٹجک منظرنامے کو مزید اہم بنا دیا۔ دنیا کے وہ ممالک جو اپنی قومی سلامتی کے فیصلے جذبات کے بجائے عملی ضرورتوں کی بنیاد پر کرتے ہیں وہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور اس کے عسکری تجربے کو اہمیت دے رہے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے پاکستان کے بعض سوشل میڈیا حلقوں میں فوج مخالف بیانیے کے زیر اثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اختلاف رائے بلاشبہ جمہوریت کا حسن ہے اور کسی بھی قانون پر تنقید شہری کا بنیادی حق ہے مگر تنقید اور تعصب میں فرق ہوتا ہے۔ تنقید قانون کی شق پڑھ کر سوال اٹھاتی ہے جبکہ تعصب پہلے فیصلہ کرتا ہے اور بعد میں دلیل تلاش کرتا ہے۔ اگر کسی شق میں آئینی ابہام ہے تو اسے پارلیمان میں زیر بحث لایا جائے اگر کسی اختیار کے غلط استعمال کا خدشہ ہے تو احتساب اور نگرانی کے مؤثر طریقے تجویز کیے جائیں اگر کسی انتظامی ڈھانچے میں بہتری کی گنجائش ہے تو ماہرین اپنی تجاویز دیں لیکن محض اس بنیاد پر پورے قانون کو مسترد کردینا کہ اسے فوج سے منسوب کیا جارہا ہے قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو سیاسی نعروں کے سپرد کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس پس منظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ذکر بھی ناگزیر ہوجاتا ہے کیونکہ موجودہ دفاعی منظرنامے میں ان کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے دفاعی تیاری جدید جنگی تقاضوں مشترکہ آپریشنل صلاحیت اور بین الاقوامی دفاعی شراکت داریوں کو اہمیت دی ہے۔ ان کی قیادت کے حوالے سے سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے دفاعی سفارت کاری کو اپنی وسیع تر قومی سلامتی کی حکمت عملی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کو زیادہ منظم اور اسٹریٹجک سطح تک لے جانے میں عسکری قیادت کا کردار نمایاں رہا ہے۔ کسی بھی عسکری سربراہ کی اصل کامیابی محض میدان جنگ میں طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایسی دفاعی صلاحیت پیدا کرنا ہے جو جنگ کو روکنے کے لیے مؤثر بازدار قوت ثابت ہو اور قومی خود مختاری کو محفوظ رکھتے ہوئے امن کے امکانات کو بڑھائے۔ یہی وہ اصول ہے جس کے تحت پاکستان کی دفاعی تیاری کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک مضبوط فوج کا مطلب لازماً جنگ نہیں ہوتا بلکہ اکثر ایک مضبوط فوج ہی جنگ کو روکنے کی سب سے بڑی ضمانت بنتی ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہورہا ہے جہاں سرحدی خطرات موجود ہیں جہاں دہشت گردی کے چیلنجز ختم نہیں ہوئے اور جہاں جدید ٹیکنالوجی نے جنگ کے مفہوم کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر ریاست اپنی دفاعی کمان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے محض سیاسی تنازع کا عنوان بنانا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی مسلح افواج صرف وردی پہنے افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ ملک کے دفاع کی ایک قومی ذمہ داری کا ادارہ ہیں جس کی کامیابی یا ناکامی براہ راست ریاست کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس ادارے کے بارے میں اختلاف ہوسکتا ہے پالیسیوں پر سوال ہوسکتا ہے فیصلوں پر بحث ہوسکتی ہے مگر قومی دفاع کی بنیادی ضرورت سے انکار کسی بھی ذمہ دار ریاست کے لیے ممکن نہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 2026 کو جذباتی نعروں کی آگ میں جھونکنے کے بجائے پارلیمانی دانش آئینی اصولوں اور قومی سلامتی کے وسیع تر مفاد کے ساتھ دیکھا جائے۔ پاکستان کو ایسی دفاعی کمان چاہیے جو جدید جنگ کے تقاضوں کو سمجھتی ہو ایسی فوج چاہیے جو پیشہ ورانہ اعتبار سے مضبوط ہو ایسی سیاسی قیادت چاہیے جو قومی سلامتی کے معاملات کو وقتی سیاست سے بلند رکھ سکے اور ایسا پارلیمانی نظام چاہیے جو طاقت کے ہر مرکز کے لیے مؤثر آئینی نگرانی فراہم کرے۔ یہی توازن ایک مضبوط ریاست کی علامت ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت ہو یا مستقبل کی کوئی اور عسکری قیادت اصل کامیابی اسی میں ہوگی کہ پاکستان اپنی دفاعی طاقت کو قومی خود مختاری امن اور ریاستی استحکام کے لیے استعمال کرے۔ آج جب دنیا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطحوں تک لے جانے میں دلچسپی دکھا رہی ہے تو ہمیں اپنے ہی ملک میں اپنی دفاعی صلاحیت کو محض سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کی طاقت کسی ایک شخص کی طاقت نہیں بلکہ ایک ریاست کی قوت ہے اور ریاستیں جذبات سے نہیں حکمت عملی سے زندہ رہتی ہیں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم دفاع کے معاملے میں اختلاف ضرور کریں مگر دلیل کے ساتھ تنقید ضرور کریں مگر تحقیق کے ساتھ اور اصلاح ضرور کریں مگر قومی سلامتی کو سامنے رکھتے ہوئے کیونکہ سرحدوں کی حفاظت صرف فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور جو قوم اپنی دفاعی طاقت کی قدر کرنا سیکھ لیتی ہے دنیا بھی اس کی خود مختاری کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھتی ہے لہٰذا ریاستوں کی تاریخ میں دفاعی قوت صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ قومی خود مختاری اور امن کے لیے بازدار قوت بھی فراہم کرتی ہے اور ایک ذمہ دار قوم اپنے دفاعی نظام کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مضبوط بنانے کے عمل کو نفرت اور تعصب کے بجائے علم قانون اور قومی مفاد کی روشنی میں دیکھتی ہے۔



