محصولات کی کمی کا حل خوف نہیں، معیشت کا پہیہ چلانا ہے

تاثرات: مظہر طفیل

پاکستان میں اس وقت محصولات کی کمی اور وفاقی محصولات کے ہدف میں پیدا ہونے والا خلا محض وصولی کے نظام کی ناکامی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ہماری معاشی پالیسیوں کی سمت کا سوال بھی موجود ہے۔ اگر حکومت ایک طرف کاروبار، سرمایہ کاری اور تعمیراتی سرگرمیوں کو محدود کرے، دوسری طرف لوگوں کو مسلسل نئے ٹیکسوں، چھان بین، بینکنگ لین دین اور جائیداد کے معاملات میں خوف و ہراس کا سامنا ہو، تو پھر کاروباری سرگرمیوں میں کمی، سرمایہ کے جمود اور بالآخر محصولات میں کمی کا خدشہ پیدا ہونا کوئی حیران کن بات نہیں۔ پاکستان میں ٹیکس وصولی کا ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں شہری ٹیکس کو ریاستی ذمہ داری سمجھ کر ادا کرے، نہ کہ کسی خوف، دباؤ یا ممکنہ کارروائی کے ڈر سے۔ وفاقی محصولات کے ادارے کو یہ بنیادی اصول سامنے رکھنا ہوگا کہ ٹیکس کا نظام جتنا سادہ، شفاف، قابلِ پیش گوئی اور کاروبار دوست ہوگا، اتنا ہی زیادہ لوگ رسمی معیشت کا حصہ بنیں گے اور حکومت کے محصولات میں اضافہ ہوگا۔ جائیداد اور تعمیرات کا شعبہ اس بحث میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں تعمیرات اور جائیداد صرف پلاٹ یا مکان کی خرید و فروخت کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ سیمنٹ، سریا، اینٹ، بجری، بجلی کا سامان، لکڑی، شیشہ، فرنیچر، ٹرانسپورٹ، تعمیراتی مزدور، انجینئر، معمار، نقشہ ساز، وکیل، رجسٹریشن کا عمل، بینکنگ اور بے شمار چھوٹے کاروبار وابستہ ہیں۔ ایک مکان کی تعمیر درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں معاشی سرگرمیوں کو جنم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تعمیرات اور جائیداد کی منڈی میں تیزی آتی ہے تو اس کے اثرات پوری معیشت میں محسوس ہوتے ہیں، اور جب یہ سرگرمی رکتی ہے تو اس کا اثر بھی کئی شعبوں تک پہنچتا ہے۔ مالی سال ۲۰۲۰-۲۱ میں پاکستان کی معیشت میں تعمیراتی سرگرمی نے خاص اہمیت حاصل کی تھی۔ اس دور میں تعمیرات کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت کی جانب سے مراعاتی اقدامات کیے گئے اور اسٹیٹ بینک نے بھی تعمیرات اور مکانات کی مالی معاونت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے۔ اسٹیٹ بینک نے اس وقت واضح کیا تھا کہ تعمیرات سے وابستہ صنعتیں صنعتی سرگرمی میں نمایاں رفتار پیدا کر رہی تھیں۔ قومی شماریات کے مطابق ۲۰۲۰-۲۱ میں جائیداد سے متعلق سرگرمیوں کی مجموعی قدر تقریباً دو کھرب آٹھ ارب روپے تھی، جبکہ اسی عرصے میں مجموعی ملکی پیداوار کی بنیادی قیمت تقریباً چھتیس کھرب ستاون ارب روپے رہی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جائیداد سے متعلق سرگرمیاں معیشت کا ایک باقاعدہ اور قابلِ ذکر حصہ تھیں۔ یہاں ایک اور اہم پہلو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو جائیداد کے شعبے سے صرف براہِ راست ٹیکس نہیں ملتا بلکہ اس شعبے کی سرگرمی پورے معاشی نظام میں کئی سطحوں پر محصولات پیدا کرتی ہے۔ جب کوئی شخص پلاٹ خریدتا ہے، مکان بناتا ہے یا تجارتی عمارت تعمیر کرتا ہے تو اس کے ساتھ تعمیراتی سامان، خدمات، اجرت، نقل و حمل اور مالی لین دین کی پوری زنجیر متحرک ہوتی ہے۔ اس لیے جائیداد کی منڈی کو صرف ایک سرمایہ کاری کا شعبہ سمجھنا معاشی حقیقت کو بہت محدود کرکے دیکھنا ہوگا۔ وفاقی محصولات کے اپنے اعداد و شمار بھی اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مالی سال ۲۰۲۲-۲۳ کی پہلی ششماہی میں جائیداد کی خرید یا منتقلی پر عائد پیشگی آمدنی ٹیکس کی مد میں ۳۸ ارب ۱۷ کروڑ روپے وصول ہوئے، جبکہ جائیداد کی فروخت یا منتقلی پر ۳۰ ارب ۵۶ کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ دونوں مدوں کو ملا کر یہ رقم تقریباً ۶۸ ارب ۷۳ کروڑ روپے بنتی ہے، اور یہ صرف ایک چھ ماہ کی مدت کا وفاقی محصول تھا۔ اسی عرصے میں جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی پر الگ سے ۱۷ ارب ۱۵ کروڑ روپے بھی وصول ہوئے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جائیداد کی منڈی حکومت کے لیے محصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا ایسی پالیسی جو جائیداد کی خرید و فروخت ہی کو کم کر دے، وہ بظاہر ہر لین دین پر زیادہ ٹیکس لینے کی کوشش تو ہوسکتی ہے، مگر اگر اس کے نتیجے میں لین دین کی مجموعی تعداد بہت کم ہوجائے تو حکومت کو مطلوبہ اضافی محصول حاصل ہونے کے بجائے مجموعی وصولی میں کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر موجودہ ٹیکس پالیسی کو دوبارہ غور کرنا چاہیے: کیا حکومت ہر لین دین پر زیادہ ٹیکس لگا کر زیادہ آمدنی حاصل کرنا چاہتی ہے، یا کم شرح، وسیع دائرۂ کار اور زیادہ کاروباری سرگرمی کے ذریعے مجموعی محصولات بڑھانا چاہتی ہے؟ حالیہ برسوں میں جائیداد کے شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ کئی مرتبہ بڑھایا گیا۔ مالی سال ۲۰۲۴-۲۵ کی پالیسی میں جائیداد کی فروخت پر مقررہ قیمت کے حساب سے مختلف شرحیں نافذ کی گئیں، جبکہ غیر گوشوارہ جمع کرانے والوں کے لیے شرح مزید بلند رکھی گئی۔ اسی عرصے میں جائیداد کے منافع پر بھی نئی نوعیت کا ٹیکس نظام متعارف کرایا گیا۔ مالی سال ۲۰۲۴-۲۵ کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت کے معاملات میں خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کے لیے مختلف شرحیں مقرر کی گئیں، جبکہ غیر گوشوارہ جمع کرانے والوں کے لیے شرحیں بہت زیادہ رکھی گئیں۔ وفاقی محصولات کے سالانہ جائزے کے مطابق پہلی فروخت یا منتقلی پر وفاقی محصول بھی عائد کیا گیا، جس کی شرح گوشوارہ جمع کرانے والوں کے لیے تین فیصد، تاخیر سے گوشوارہ جمع کرانے والوں کے لیے پانچ فیصد اور غیر گوشوارہ جمع کرانے والوں کے لیے سات فیصد مقرر کی گئی تھی۔ اس کے بعد مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ میں بھی جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق پیشگی ٹیکس کی شرحوں میں مزید تبدیلیاں کی گئیں۔ موجودہ وفاقی محصولات کے مطابق ۵ کروڑ روپے تک کی جائیداد کی خرید پر بروقت گوشوارہ جمع کرانے والے شخص کے لیے شرح ڈیڑھ فیصد، تاخیر سے گوشوارہ جمع کرانے والے کے لیے ساڑھے چار فیصد اور غیر گوشوارہ جمع کرانے والے کے لیے ساڑھے دس فیصد ہے۔ اس سے زیادہ مالیت کی جائیدادوں پر شرح مزید بڑھتی ہے۔ فروخت کنندہ کے لیے بھی مختلف شرحیں مقرر ہیں۔ حکومت کا مقصد یقیناً ٹیکس چوری روکنا اور زیادہ لوگوں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے ایسا ماحول بنانا ضروری ہے جس میں عام شہری بھی جائیداد خریدنے یا بیچنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے؟ اگر ایک شخص اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر خریدنا چاہتا ہے، یا اپنا پلاٹ بیچ کر بچوں کی تعلیم، کاروبار یا کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے، تو اسے ایک پیچیدہ اور غیر یقینی ٹیکس نظام کا سامنا ہو تو وہ فطری طور پر لین دین مؤخر کرے گا۔ اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی جائیداد کا شعبہ نہایت اہم ہے۔ بیرون ملک پاکستانی اگر پاکستان میں گھر، پلاٹ یا تجارتی جائیداد خریدتے ہیں تو اس سے براہِ راست سرمایہ آتا ہے اور تعمیراتی سرگرمی کو فروغ ملتا ہے۔ موجودہ نظام میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بعض شرائط پوری ہونے پر جائیداد کی خرید و فروخت میں گوشوارہ جمع کرانے والے کی شرح کا فائدہ موجود ہے، جو اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ حکومت خود اس طبقے کو جائیداد کے شعبے میں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ مسئلہ صرف شرحوں کا نہیں، اعتماد کا بھی ہے۔ اگر کاروباری شخص کو یہ یقین نہ ہو کہ آج جو قانون ہے وہ کل بھی یہی رہے گا، اگر اسے بار بار نئی تشریحات، نئی قدر بندیوں، نئے گوشواروں اور نئے تقاضوں کا سامنا ہو، تو سرمایہ کاری رک جاتی ہے۔ سرمایہ ہمیشہ اس جگہ جاتا ہے جہاں قانون واضح، پالیسی مستقل اور کاروباری ماحول قابلِ پیش گوئی ہو۔ وفاقی محصولات کے ادارے کی جانب سے جائیداد کی قیمتوں کے تعین کے لیے مختلف شہروں میں نئی قدر بندیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ۲۰۲۶ میں لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ سمیت مختلف علاقوں کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی نئی قدر بندیوں سے متعلق احکامات جاری کیے گئے۔ قدر بندی کو حقیقت پسندانہ بنانا اپنی جگہ ضروری ہے، مگر اگر سرکاری قدر بندی اور حقیقی منڈی کے حالات میں بڑا فرق ہو، یا اچانک تبدیلی سے لین دین مشکل ہوجائے، تو اس کے اثرات کا جامع معاشی جائزہ بھی ضروری ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری ایک حقیقی مسئلہ ہے اور ریاست کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن ٹیکس چوری روکنے اور ہر شہری کو مشتبہ سمجھنے میں فرق ہے۔ ایک مؤثر ریاست وہ ہے جو بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کرنے والوں، جعلی لین دین اور غیر قانونی دولت کے خلاف سخت کارروائی کرے، لیکن عام خریدار، چھوٹے تاجر، تعمیراتی کاروبار اور متوسط طبقے کے شہری کو غیر ضروری خوف میں مبتلا نہ کرے۔ بینکنگ نظام کے ذریعے لین دین کو دستاویزی بنانا اصولی طور پر درست قدم ہے۔ لیکن اگر بینکنگ لین دین، جائیداد کی خرید و فروخت، گوشواروں اور محصولات کے مختلف تقاضے اس قدر پیچیدہ ہوجائیں کہ عام آدمی قانونی طریقے سے لین دین کرنے سے بھی گھبرانے لگے تو اس کا نتیجہ رسمی معیشت کے پھیلاؤ کے بجائے غیر رسمی معیشت کی طرف واپسی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محصولات صرف دباؤ سے نہیں بڑھتے، معاشی سرگرمی سے بڑھتے ہیں۔ اگر بازار میں خرید و فروخت ہو، لوگ گھر بنائیں، ہاؤسنگ منصوبے شروع ہوں، تعمیراتی کمپنیوں کو کام ملے، سیمنٹ اور سریے کی کھپت بڑھے، بینک قرض دیں، مزدوروں کو روزگار ملے اور سرمایہ گردش کرے تو حکومت مختلف مرحلوں پر محصولات حاصل کرتی ہے۔ اس لیے جائیداد کے شعبے کو سزا دینے کے بجائے اسے دستاویزی، شفاف اور منظم بنانا زیادہ بہتر راستہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ جائیداد کے لیے ایک ایسا سادہ نظام بنائے جس میں ایک ہی لین دین پر مختلف اداروں اور مختلف مدوں میں بے شمار ٹیکس اور فیسوں کا بوجھ نہ ہو۔ ایک واضح، متناسب اور قابلِ پیش گوئی محصول عائد کیا جائے اور اس کے بعد غیر ضروری پوچھ گچھ اور پیچیدہ کارروائی کو کم کیا جائے۔ ہاؤسنگ منصوبوں کے بارے میں بھی حکومت کو جذبات کے بجائے اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ ملک میں دفاعی ہاؤسنگ اداروں کے علاوہ بحریہ کے مختلف رہائشی منصوبے، نجی ہاؤسنگ منصوبے، بڑے شہری ترقیاتی منصوبے اور ہزاروں چھوٹی بڑی رہائشی آبادیاں موجود ہیں۔ ان تمام منصوبوں سے براہِ راست اور بالواسطہ لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ کسی ایک مخصوص ادارے یا رہائشی منصوبے کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ لازماً خسارے میں ہے، اس وقت تک درست نہیں ہوگا جب تک اس کے مستند مالی حسابات عوامی طور پر دستیاب نہ ہوں۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جائیداد کی منڈی میں سست روی اور سرمایہ کاری میں کمی نے بڑے اور چھوٹے دونوں طرح کے منصوبوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر جائیداد کی منڈی میں خریدار موجود نہ ہوں تو صرف پلاٹ کی قیمت بڑھا دینے سے کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کامیابی کے لیے خرید و فروخت، تعمیر، آبادکاری اور سرمایہ کی مسلسل گردش ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو ہاؤسنگ کے شعبے کو محض ٹیکس وصولی کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی نمو کے انجن کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ پاکستان کو اس وقت ایسے معاشی فیصلوں کی ضرورت ہے جو خزانے کو بھی مضبوط کریں اور معیشت کو بھی حرکت دیں۔ اگر حکومت کا مقصد محصولات میں اضافہ ہے تو جائیداد کے شعبے کو مکمل طور پر دبانے کے بجائے اس میں لین دین بڑھانے کی پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔ شرحیں مناسب ہوں، قوانین واضح ہوں، چھان بین خطرے کی بنیاد پر ہو، ہر شہری کو مجرم سمجھنے کے بجائے بڑے ٹیکس چوروں کو نشانہ بنایا جائے اور کاروباری افراد کو یہ اعتماد دیا جائے کہ ان کی جائز سرمایہ کاری محفوظ ہے۔ وفاقی محصولات کے ادارے کو بھی اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا ہوگا۔ ٹیکس افسر کا کام محصول وصول کرنا ہے، خوف پیدا کرنا نہیں۔ ایک ایسا نظام جس میں شہری ٹیکس ادا کرنے سے پہلے یہ سوچے کہ کہیں اس کے خلاف کارروائی نہ شروع ہوجائے، طویل مدت میں ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک ایسا نظام جس میں شہری کو معلوم ہو کہ قانون کیا ہے، کتنا ٹیکس دینا ہے اور معاملہ کس مدت میں مکمل ہوجائے گا، زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت اگر واقعی محصولات کا بحران ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف ٹیکس شرحوں میں اضافہ کرنے کے بجائے ٹیکس بنیاد وسیع کرنا ہوگی۔ جو لوگ آج ٹیکس نظام سے باہر ہیں، انہیں سہولت اور اعتماد کے ذریعے نظام میں لانا ہوگا۔ جائیداد کے کاروبار کو دوبارہ متحرک کرنا ہوگا۔ تعمیراتی سرگرمی کو فروغ دینا ہوگا۔ بینکوں کو ہاؤسنگ اور تعمیرات کے لیے مؤثر مالی معاونت کی طرف لانا ہوگا۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول آسان بنانا ہوگا اور ٹیکس قوانین میں بار بار تبدیلی کے بجائے طویل مدتی پالیسی دینی ہوگی۔ پاکستان کے پاس ایک بہت بڑا شہری اور رہائشی بازار موجود ہے۔ قومی اقتصادی مردم شماری کے مطابق ملک میں تقریباً ۳ کروڑ ۸۳ لاکھ عمارتیں اور تعمیرات موجود ہیں، جن میں تقریباً ۳ کروڑ ۴ لاکھ عام رہائشی عمارتیں شامل ہیں۔ یہ اعداد خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ رہائش، تعمیر اور شہری ترقی پاکستان کی معیشت کے معمولی شعبے نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی حقیقت ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت محصولات کی کمی کا علاج کاروبار کو مزید محدود کرکے نہیں بلکہ کاروبار کو دوبارہ متحرک کرکے کرے۔ جائیداد کے شعبے میں قانون کی حکمرانی، شفافیت اور دستاویز بندی ضرور ہونی چاہیے، مگر ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے جو جائز خریدار اور سرمایہ کار کو بھی بازار سے باہر کردے۔ پاکستان میں محصولات بڑھانے کا پائیدار راستہ یہ ہے کہ معاشی سرگرمی بڑھے، کاروبار بڑھے، تعمیرات بڑھیں، سرمایہ گردش کرے اور ٹیکس دینے والوں کی تعداد بڑھے۔ اگر حکومت ہر لین دین سے زیادہ وصول کرنے کی کوشش میں مجموعی لین دین ہی کم کردے تو خزانہ مضبوط ہونے کے بجائے کمزور بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو فوری طور پر جائیداد اور تعمیرات کے شعبے کے لیے ایک جامع معاشی پیکیج پر غور کرنا چاہیے۔ ٹیکس کی شرحوں کو معقول بنایا جائے، غیر ضروری پابندیاں کم کی جائیں، قوانین میں استحکام لایا جائے، ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات محدود کیے جائیں، جائز بینکنگ لین دین کو آسان بنایا جائے، ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے مالی سہولت پیدا کی جائے اور ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی عام شہری کے بجائے اصل بڑے نادہندگان اور غیر قانونی دولت کے خلاف مرکوز کی جائے۔ آخر میں حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک سکڑتی ہوئی معیشت سے زیادہ ٹیکس لینا چاہتی ہے یا ایک بڑھتی ہوئی معیشت سے مناسب شرح پر زیادہ ٹیکس حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے دوسرا راستہ ہی زیادہ پائیدار ہے۔ معیشت کو ڈرا کر نہیں، چلا کر محصولات بڑھائے جاسکتے ہیں۔ جائیداد اور تعمیرات کے شعبے کو دوبارہ حرکت دی جائے، کاروباری اعتماد بحال کیا جائے اور ٹیکس نظام کو خوف کی علامت کے بجائے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہی پاکستان کے محصولات کے مسئلے کا زیادہ مؤثر اور دیرپا حل ہوسکتا ہے۔



  تازہ ترین   
بھارت ایک سال بعد بھی معرکہ حق میں شکست تسلیم کرنے سے انکاری ہے: آئی ایس پی آر
بھارت میں گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں: دفتر خارجہ
مون سون شجرکاری کا آغاز، درختوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: صدر مملکت
پاکستان نے اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ کی صدارت سنبھال لی
میر واعظ عمر فاروق کو نظر بند کر کے مذہبی اجتماع میں شرکت سے روک دیا گیا
لاہور: داماد نے بیوی سمیت 4 سسرالی قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی
امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ ہوئے: فرزانے صادق
ٹرمپ کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت کو سراہتے ہیں: وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر