پاک۔چین کہانیاں |پاکستانی سکالر چینی طبی ٹیکنالوجی وطن لاکر مزید مریضوں کو فائدہ پہنچانے کا خواہاں

چھونگ چھنگ (شِنہوا)صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ اشفاق اللہ نے چین کے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ کا رخ کیا، جہاں انہوں نے اپنی ماسٹرز ڈگری مکمل کی اور اب چھونگ چھنگ میڈیکل یونیورسٹی کے دوسرے ملحقہ ہسپتال میں جنرل پریکٹس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران انہوں نے جدید طبی تحقیق کے شعبے میں منظم تربیت حاصل کی ہے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس جانے کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے تاکہ چین میں حاصل کئے گئے علم اور مہارت کو پاکستان لے جا کر بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکیں۔اشفاق نے پشاور میں واقع حفیظ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سے ایمرجنسی اینڈ انٹینسیو کیئر ٹیکنالوجی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 2 سال تک ایک سرکاری طبی ادارے میں کام کیا، جہاں وہ بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرتے رہے۔کام کے تجربے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ مریضوں کو بہتر طبی نگہداشت فراہم کرنے کے لئے مضبوط پیشہ ورانہ علم اور جدید طبی مہارتیں ضروری ہیں۔ چین میں تعلیم حاصل کرنے اور وہاں کے تعلیمی ماحول سے مستفید ہونے والے پاکستانی طلبہ سے متاثر ہو کر انہوں نے چھونگ چھنگ میڈیکل یونیورسٹی کے دوسرے ملحقہ ہسپتال میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے درخواست دی۔ہسپتال میں اشفاق کی تحقیق کا مرکز ہائی بلڈ پریشر اور قلبی امراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاون تدریسی فلسفے اور بہترین تعلیمی ماحول نے ان کی تحقیقی پیش رفت کو نمایاں طور پر تیز کیا ہے۔ وہ اپنے نگران استاد اور چینی ہم جماعتوں کے ساتھ کئی تحقیقی منصوبوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔اشفاق نے کہا کہ “چین آنے کے بعد مجھے سائنسی تحقیق کی حقیقی اہمیت کا احساس ہوا۔انہوں نے کہا کہ “اگرچہ میں اس سے پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکا تھا، لیکن یہیں آ کر مجھے اعلیٰ سطح کی تحقیق میں عملی طور پر شامل ہونے کا موقع ملا۔ یونیورسٹی نے مجھے تحقیقی طریقہ کار کی منظم تربیت دی اور یہ سمجھنے میں مدد کی کہ جدید طب اور عوامی صحت کی ترقی کے لئے سائنسی تحقیق کتنی اہم ہے۔اشفاق اللہ کے لئے چین میں تعلیم حاصل کرنے کا تجربہ صرف پیشہ ورانہ علم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے انہیں وسیع تر بین الاقوامی نقطہ نظر بھی فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ “میں نے سائنسی تحقیق سیکھی، چینی زبان کا مطالعہ کیا اور چین سمیت کئی دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہم جماعتوں سے دوستی کی۔ ہم ایک دوسرے سے سیکھتے اور مل کر ترقی کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ کثیر الثقافتی تعلیمی ماحول نے انہیں بین الاقوامی طبی تعاون کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی ہے۔ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اشفاق پاکستان واپس جا کر سرکاری شعبہ صحت میں دوبارہ خدمات انجام دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “مجھے امید ہے کہ میں چین میں حاصل کردہ جدید طبی علم اور تحقیقی تجربہ پاکستان واپس لے جاؤں گا تاکہ مقامی لوگوں کی بہتر خدمت کر سکوں ۔ میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ طبی خدمات اور سائنسی تحقیق دونوں شعبوں میں بڑی ذمہ داریاں سنبھالوں گا اور اپنے آبائی علاقے میں بنیادی صحت کی خدمات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کروں گا۔حالیہ برسوں میں چین اور پاکستان نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو مسلسل فروغ دیا ہے، جس کے نتیجے میں طبی شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور طبی تعلیم کے حوالے سے باہمی تبادلے بھی بڑھ رہے ہیں۔اشفاق کا ماننا ہے کہ وہ نہ صرف چین اور پاکستان کے درمیان طبی تعلیم میں بڑھتے ہوئے تعاون سے مستفید ہونے والے فرد ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طبی تبادلوں کے ایک پل کا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “میرے سپروائزر نے مجھے چینی نام ’وانگ جی یے‘ دیا ہے، جس کا مفہوم علمی مہارت کے حصول کو جاری رکھنا اور اپنے طبی کیریئر کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ “مجھے یہ نام بہت پسند ہے کیونکہ یہ زندگی بھر سیکھنے اور اپنے پیشہ ورانہ اہداف کے حصول کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ میں مستقبل میں چھونگ چھنگ میڈیکل یونیورسٹی کے دوسرے ملحقہ ہسپتال کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنا چاہتا ہوں اور مزید مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دے کر اور چین و پاکستان کے درمیان طبی تبادلوں اور تعاون میں کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی امید رکھتا ہوں۔”



  تازہ ترین   
بھارت کو پاکستان میں پراکسیز کے ذریعے دہشتگردی کروانے سے باز آنا ہوگا: صدر زرداری
مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر جنوبی ایشیا میں حقیقی اور دیرپا امن ممکن نہیں: وزیراعظم
خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 21 دہشت گرد ہلاک
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو
ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان
خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس
یوم دفاع کے موقع پر مسلح افواج کا شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت
بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر