اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تمام محاذوں پر لڑائی بند ہونی چاہیے۔
گوتریس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “خطے کے تمام محاذوں پر لڑائی رکنی چاہیے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے اندر اور ان کے اطراف بین الاقوامی جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے اور سفارت کاری کو غالب آنا چاہیے۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ خلیج میں فوجی کشیدگی کے چھ ماہ بعد جو کچھ ایک علاقائی تنازع کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ تیزی سے عالمی عدم استحکام کا باعث بنتا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت میں نمایاں کمی آئی ہے، توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا ہے، خوراک اور اہم کھادوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جبکہ سپلائی چینز دباؤ کا شکار ہیں۔
گوتریس نے کہا کہ “دنیا بھر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ خاندان کھانے کا انتظام کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، کسان بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں اور کمزور ممالک مزید مشکلات کے قریب پہنچ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں 4 کروڑ 50 لاکھ تک افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سست اقتصادی ترقی مزید لاکھوں افراد کو دوبارہ غربت کی طرف دھکیلنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔
انہوں نے حماس کی جانب سے اپنے ہتھیار ترک کرنے اور اسرائیل کی جانب سے غزہ سے اپنی افواج واپس بلانے کے معاہدے سے متعلق امریکی اعلان کو “اچھی خبر” قرار دیا۔
گوتریس نے کہا کہ “یہ پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے کہ ان مقاصد پر عملدرآمد کے لئے ایک لائحہ عمل موجود ہے۔ اس لائحہ عمل پر کسی سوال، شکوک و شبہات یا اسے ناکام بنانے کی کوششوں کے بغیر عمل کیا جانا چاہیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں فریق طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کریں۔”
اقوام متحدہ کے سربراہ کا مشرق وسطیٰ میں تمام جنگی کارروائیاں ختم کرنے کا مطالبہ



