تحریر: عابد حسین قریشی
ایک گھٹن زدہ، مصنوعی سے معاشرے میں، جہاں ہر شخص وہ نظر آنے کی کوشش میں ہو جو وہ ہے نہیں، تو خود احتسابی کا ہونا ایک خواب سا نظر آتا ہے۔ ویسے بھی خود احتسابی تو اللہ کے چند برگزیدہ بندوں کا ہی کام ہے۔ ہمارے جیسے عام اور کم فہم مگر گناہ گار تو خود شناسی کی منزل ہی طے کر لیں تو بڑی بات ہے۔ دنیا کا سب سے آسان ترین کام دوسروں پر تنقید کرنا اور دوسروں کو غلط اور کمتر سمجھنا ہے۔
خود شناسی کے لیے بھی تو آنکھیں بند کرکے مراقبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم تو کھلی آنکھوں سے بھی دوسروں کو کمتر اور اپنے آپ کو ہر خوبی، ہر اعزاز اور ہر توقیر سے مزین دیکھتے ہیں۔ خود شناسی ایک عطا ہے، ایک راز ہے، جو انسان کو اندر سے شناخت کرانے میں مدد کرتا ہے۔ خود شناسی من کی دنیا کا سراغ لگانے اور روح کی حقیقت کو جاننے میں بھی ہے، مگر یہ تو روحانی باتیں ہیں۔
چلیں، تھوڑی دیر کے لیے ذرا دنیاوی حوالے سے خود شناسی کو تلاش کرتے ہیں۔ اپنے بارے میں غلط اندازے، مفروضے، خیالی پلاؤ، من گھڑت قصے کہانیاں انسان کو اتنی غلط فہمیوں میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ پھر اس کا پٹری پر واپس آنا محال ہوتا ہے، اور وہ بقیہ عمر سرابوں کے تعاقب میں گزار دیتا ہے۔
دورانِ سروس تو کبھی یہ مہلت ہی نہیں ملتی کہ اپنے صحیح مقام کا تعین کر سکیں، کیونکہ اس وقت انسان کی نظر اور عقل عہدوں کی چکاچوند سے دھندلا سی جاتی ہے، اور اچھا خاصا معقول انسان بھی کافی ساری غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ البتہ بعد از ریٹائرمنٹ آپ کے پاس کافی وقت ہوتا ہے کہ اپنے آپ پر غور کریں، اور اپنی خامیوں اور خوبیوں، اگر کوئی ہوں، تو ان کا تجزیہ کریں۔ اگر جواب اطمینان میں آئے، اور بہت سارے پچھتاوے اور regrets دل پر وار نہ کریں، تو سمجھیں زندگی کچھ ٹھیک گزر گئی۔ لیکن اگر جواب کچھ دوسری طرح کا آئے، تو پھر بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے خود شناسی کی کوشش تو کی، اور رہی غلطیاں اور کوتاہیاں، تو بطورِ انسان کون ان سے بچ سکا ہے جو ہم بچ پاتے۔ البتہ توبہ کا در کھلا ہے، اور بروقت توبہ بھی خود شناسی ہی کی ایک اہم شکل ہے۔ خود شناسی کے لیے نیت کا اخلاص ضروری ہے۔
ہمارے ہاں اکثر پارسائی کے دعوے کے ساتھ ہلکی پھلکی ریاکاری اور منافقت کا تڑکہ لگایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں خود کو پارسا سمجھنے اور ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو گناہ گار اور اپنے سے بُرا سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ اپنے آپ کو نیک اور دوسرے کو بد سمجھ کر بات کرنے کا نشہ ہی الگ ہے۔ تکبر، نحوست، انا اور احساسِ تفاخر مشکل وقت میں بندے کو گھٹنوں کے بل جھکنے پر مجبور کر دیتا ہے، جبکہ بردباری اور عاجزی بڑے ظرف کا قرینہ ہے۔
میرے خیال میں ایک تو مثبت سوچ اس دورِ پُرآشوب میں اللہ کا انعام ہے، اور دوسرا کسی کو برا کہنے سے پہلے ذرا اپنے دامن پر بھی نظر ڈال لی جائے تو بہتر ہوگا۔ ممکن ہے یہ دامن زیادہ آلودہ نکلے۔ میں نے جب بھی اپنے گناہوں، غلطیوں اور کوتاہیوں پر نظر ڈالی، مجھے دوسرے لوگوں میں زیادہ خوبیاں نظر آنا شروع ہو گئیں۔
لوگوں پر ہنسنا آسان اور خود پر ہنسنا کافی مشکل ہے۔ مزہ اس میں ہے کہ لوگوں پر ہنسنے کی بجائے لوگوں کے ساتھ ہنسا جائے۔ کہتے ہیں کہ جوں جوں انسان کی عقل پختہ ہوتی جاتی ہے، اس کی گفتگو مختصر ہوتی جاتی ہے، مگر اپنا معاملہ اس کے ذرا برعکس رہا۔
اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ دنیاوی طور پر کچھ حاصل کرنے کے لیے پورا زور اور جتن لگا کر ناکامی کی صورت میں مقدر اور قدرت کے حوالے کر دینا خود شناسی سے ناآشنا لوگوں کا کام ہے۔ اگر جوانی گزارنے کے بعد بھی آپ یہ تعین نہیں کر سکے کہ آپ کیا ہیں، آپ کی صلاحیتیں کیا ہیں، آپ کے کمزور اور strong points کیا ہیں، تو پھر قسمت یا مقدر کا رونا رونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ قسمت بھی تو بہادر لوگوں کا ساتھ دیتی ہے۔
زندگی کا سفر مشکل بھی ہے اور خوبصورت بھی۔ آپ کے رویے اسے اسی رنگ میں ڈھال دیتے ہیں جس رنگ میں آپ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ زندگی ایک عاشق کی آنکھ سے دیکھیں تو گل و بلبل کی داستان ہے۔ محبوب کی آنکھ سے دیکھیں تو اس کا دوست ہی محورِ زندگی ہے۔ ایک کمانڈر کی آنکھ سے دیکھیں تو میدانِ کارزار ہے۔ غزہ کی کسی معصوم بچی کی آخری ہچکی میں دیکھیں تو ظلم و بربریت کی المناک شام ہے۔ کسی کامیاب آدمی کی نظر سے دیکھیں تو باغ و بہار ہے، اور کسی ناکام انسان کی آنکھ سے دیکھیں تو ایک نہ ختم ہونے والی ٹریجڈی اور غم و اندوہ میں گھری ایک عبرت آموز داستان ہے۔
خود شناسی کے سفر پر روانہ ہونے کے لیے تھوڑی سی حکمت، تھوڑی سی دانائی، کچھ سوچ سمجھ، کچھ فکر، کچھ شکرگزاری، درگزر، عاجزی اور انکساری ہی تو درکار ہوتے ہیں۔
حکمت اور معاملہ فہمی کے درمیان حماقت اور بے وقوفی کے پڑاؤ بھی آتے ہیں۔ مسافر پر منحصر ہے کہ کہاں ٹھہرتا ہے۔ جلد باز اور خود ناآشنا حماقت والے پڑاؤ پر ہی بسیرا کر جاتے ہیں۔ حالانکہ “ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں” کے مصداق انسان کے لیے کوشش و کاوش میں بڑی برکت رکھی گئی ہے۔
یہ حضرتِ انسان جھوٹ بولنے اور گھڑنے کے لیے کئی تاویلیں ڈھونڈتا ہے، مگر سچ بولنے، سچ سننے اور سچ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اگر آپ کچھ سیکھنے کی سعی ہی نہیں کرتے، زندگی کے کسی تجربے سے کچھ نہیں سیکھتے، اگر کہیں ناکام ہوئے تو اس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے سے بھی محروم ہیں، تو پھر آپ خود شناسی سے بھی کوسوں دور ہیں۔ آنکھیں بند کرکے سرابوں میں رہنا وقتی طور پر تو کچھ آسودگی دے سکتا ہے، مگر یہ عمل دیرپا نہیں۔ جلد یا بدیر جب بھی حقیقت سامنے آئے گی، تکلیف دہ ہوگی۔
کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے آپ سے تو سچ بولو۔ کسی شام کو تاروں بھری رات کی تنہائی میں کچھ دیر آنکھیں موند لیں، جسم اور دماغ کو relax کرکے ذرا اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں، کبھی یادِ الٰہی میں انہماک و یکسوئی اور لجاجت و گریہ سے اپنے رب کے سامنے دستِ دعا کرکے دیکھ لیں۔ خود شناسی سچ کی تلاش ہی تو ہے۔ اگر خود شناسی کی جستجو ہے، لگن ہے، تڑپ ہے، اور پھر بھی منزل نہیں مل رہی، تو اللہ کی مخلوق اور اس کے بندوں سے پیار کرکے دیکھ لیں، شاید خود شناسی کی گمشدہ منزل مل جائے۔
(اپنی کتاب “تجاہلِ عادلانہ” سے ایک منتخب اقتباس)



