بیجنگ (شِنہوا) چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنیوں کو بدنام کرنا اور انہیں پابندیوں کی دھمکیاں دینا بند کرے۔
چین نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات حقائق اور قانونی بنیادوں سے محروم ہیں اور یہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بالادستی قائم کرنے کی ایک عام مثال ہیں۔
چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے پیر کے روز یہ بات ان خبروں کے جواب میں کہی جن کے مطابق بعض اعلیٰ امریکی حکام نے عوامی طور پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان حکام کا الزام ہے کہ ان کمپنیوں نے جدید امریکی ماڈلز کی مبینہ “ڈسٹلیشن” کی ہے اور وہ مبینہ طور پر “امریکی تخلیقی املاک کی چوری” جیسے الزامات کی بنیاد پر ان کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔
___
چین میں پہلی ششماہی کے دوران الیکٹرانکس کی صنعت کے منافع میں 96.9 فیصد اضافہ
بیجنگ (شِنہوا) چین کی الیکٹرانکس صنعت کے منافع میں 2026 کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کی نسبت 96.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے بڑے صنعتی اداروں کے مجموعی منافع میں اضافے میں 8.5 فیصد پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔
چین کے قومی ادارہ شماریات (این بی ایس) نے پیر کے روز بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے وسیع پیمانے پر استعمال اور کمپیوٹنگ طاقت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کمپیوٹر مینوفیکچرنگ اور کمپیوٹر کے معاون آلات (جن میں ماؤس، کی بورڈ اور مانیٹر شامل ہیں) بنانے والی صنعتوں کے منافع میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بالترتیب 689.3 فیصد اور 305.8 فیصد اضافہ ہوا۔
الیکٹرانک آلات کی تیاری کے شعبے میں مربوط سرکٹ (آئی سی) مینوفیکچرنگ کے منافع میں 2579.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ ٹرانزسٹرز اور ڈائیوڈز جیسے ڈسکریٹ سیمی کنڈکٹر آلات بنانے والی صنعت کے منافع میں 31.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
الیکٹرانک اجزاء کے شعبے میں خصوصی الیکٹرانک مواد بنانے والی صنعت کے منافع میں 209.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ الیکٹرانک سرکٹ مینوفیکچرنگ کے منافع میں 26.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پیر کو جاری ہونےوالے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ چین کے بڑے صنعتی اداروں یعنی وہ ادارے جن کی سالانہ بنیادی کاروباری آمدنی کم از کم 2 کروڑ یوآن (تقریباً 29 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر) ہے، کے منافع میں 2026 کی پہلی ششماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 18.7 فیصد اضافہ ہوا۔
قومی ادارہ شماریات کے ماہر شماریات یو وی ننگ نے کہا کہ مسلسل ترقی کے باوجود بیرونی ماحول اب بھی پیچیدہ اور غیر یقینی ہے، جبکہ بین الاقوامی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ صنعتی اداروں کو مارکیٹ کی ناکافی طلب اور سرمائے کے گردش سے متعلق دباؤ جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
یو نے کہا کہ مستقبل میں چین نئی اور ابھرتی ہوئی صنعتوں کو فروغ دیتا رہے گا، روایتی صنعتوں کو جدید بنائے گا، ترقی کے پرانے محرکات کی جگہ نئے محرکات لانے کے عمل کو تیز کرے گا اور صنعتی معیشت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دے گا۔
امریکہ چینی اے آئی کمپنیوں کو پابندیوں کی دھمکیاں دینا بند کرے، چین کا انتباہ



