ایئربس کے عہدیدار نے چین کی بڑھتی ہوئی ہوا بازی کی صلاحیتیں کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا

لندن (شِنہوا) ایئربس چائنہ کے کمرشل شعبے کے سربراہ ٹروئے وانگ نے کہا ہے کہ چین کی ہوا بازی کی صنعت کی صلاحیتوں میں توسیع عالمی ہوا بازی کے شعبے کے لئے ایک نہایت مثبت پیش رفت ہے۔
وانگ نے 20 سے 24 جولائی تک جاری رہنے والے فارنبورو بین الاقوامی ایئر شو کے موقع پر شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہوا بازی ایک عالمی اور انتہائی پیچیدہ صنعت ہے، جس میں مختلف شعبوں میں مہارت اور کام کی واضح تقسیم موجود ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ہر ملک اپنی صلاحیتوں سے بھرپور کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایئربس کی کامیابی کا بڑا سبب دنیا بھر سے وسائل اور مہارتوں کو یکجا کرنا رہا ہے۔
ان کے مطابق ایئربس کی سرگرمیاں یورپ کے علاوہ امریکہ اور چین میں بھی جاری ہیں جبکہ چینی منڈی ترقی اور جدت کے حوالے سے غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہوا بازی کے شعبے میں کئی برسوں کی ترقی کے بعد چینی کمپنیاں اب اپنے تجارتی مسافر طیارےخود تیار کر رہی ہیں اور انہیں منڈی میں متعارف بھی کرا رہی ہیں۔
چین کا تیار کردہ سی 909 علاقائی مسافر طیارہ حال ہی میں اپنی تجارتی پروازوں کے 10 سال مکمل کر چکا ہے۔ یہ طیارہ چین کی علاقائی فضائی منڈی میں ایک اہم مقام حاصل کر چکا ہے اور بیرون ملک بھی اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔
سی 909، جسے پہلے اے آر جے 21 کہا جاتا تھا، نے 28 جون 2016 کو اپنی پہلی تجارتی پرواز کی تھی۔ کمرشل ایئر کرافٹ کارپوریشن آف چائنہ (سی او ایم اے سی) کے مطابق اس طیارے کے ذریعے اب تک 3 کروڑ 70 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا ہے۔
وانگ نے کہا کہ ایئربس سی او ایم اے سی کی ترقی اور صنعت میں نئے اداروں کی شمولیت کو خوش آئند سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوا بازی کی صنعت کو صحت مند اور منصفانہ مسابقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی مسابقت کمپنیوں کو اپنی صلاحیتوں اور مصنوعات میں بہتری لانے پر آمادہ کرتی ہے، جدت کو فروغ دیتی ہے اور صارفین کے لئے زیادہ قدر پیدا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھی مسابقت کا مطلب ایک دوسرے کو ختم کرنا یا زندگی اور موت کی جنگ لڑنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کی ترقی میں مدد دینا اور مل کر منڈی کو وسعت دینا ہے۔
وانگ نے بتایا کہ چین ایئربس کے لئے دنیا کی سب سے بڑی واحد ملکی منڈی بن چکا ہے۔ چین میں ایئربس کے پیداواری اور معاون مراکز کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، جن میں یورپ سے باہر کمپنی کی پہلی حتمی اسمبلی لائن بھی شامل ہے جس کا افتتاح ستمبر 2008 میں تیانجن میں کیا گیا تھا۔
وانگ نے کہا کہ چین کی فضائی منڈی کا اندازہ صرف اس کے موجودہ حجم سے نہیں بلکہ اس کی مستقبل کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھ کر لگایا جانا چاہیے۔ اگرچہ کروڑوں چینی شہری فضائی سفر کرتے ہیں لیکن اب بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جس نے کبھی ہوائی سفر نہیں کیا۔
چین کی سول ایوی ایشن انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں ملک میں ہر سال تقریباً 4 کروڑ نئے فضائی مسافروں کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی تعداد 47 کروڑ تک پہنچ گئی جو 2019 کے مقابلے میں 16 کروڑ زیادہ ہے۔ اس وقت چین دنیا میں فضائی مسافروں کی سب سے بڑی تعداد رکھنے والا ملک ہے۔
وانگ کے مطابق ایئربس کو توقع ہے کہ آئندہ 20 برسوں میں چین کے تجارتی طیاروں کے بیڑے کا حجم تقریباً دوگناہو جائے گا جس کے نتیجے میں 8 ہزار 800 سے زائد نئے مسافر طیاروں کی ضرورت ہوگی۔



  تازہ ترین   
مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج
سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پُرعزم، حوثی ملیشیا حملے فوری بند کر دے: وزیراعظم
بہتر عوامی خدمات کیلئے ٹیکس وصولی، مالی وسائل کی فراہمی اور جوابدہی بدستور اہم چیلنجز
ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام
ریاض ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملہ، سعودی طیارے میں آگ بھڑک اٹھی
فیلڈ مارشل سے بحرینی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
امریکی صدر کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
یوکرین میں مسافر بسوں پر روسی گلائیڈ بم حملے، 30 افراد ہلاک





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر