سائنس دان چین کی لاوا غاروں میں چاند پر رہنے کے امکانات کی تلاش میں مصروف

ہائیکو (شِنہوا) مستقبل میں چاند پر کیسے رہا جا سکے گا؟ سائنس دان چین کے انتہائی جنوبی جزیرہ صوبے ہائی نان کی ایک لاوا غار میں اس سوال کے جواب تلاش کر رہے ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ سے سائنس دانوں کی ایک ٹیم ہائی نان کے شمال میں ایک انتہائی تاریک لاوا غار میں سرگرم ہے، جہاں وہ مصنوعی زلزلہ نما ارتعاش پیدا کر رہے ہیں اور روشنی، ریڈیو لہروں اور زلزلہ جاتی لہروں کے ذریعے اس تاریکی میں راستے تلاش کر رہے ہیں۔ وہ دراصل اس کام کی مشق کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر انسانیت کی اگلی بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے یعنی چاند پر ایک مستقل پناہ گاہ کی تعمیر۔
دور دراز دنیا میں بھاری مشینری لے جائے بغیر زیر زمین “دیکھنے” کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرنے کی خاطر وہ مدد حاصل کرنے کے لئے ایک غیر متوقع ذریعے کی طرف رجوع کر رہے ہیں، یعنی ایک ایسے خلائی جہاز کی طرف جو چاند پر بھیجا جائے گا۔
ہائی نان ارتھ کوئیک ایجنسی، سدرن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ایس یو ایس ٹیک)، بیجنگ یونیورسٹی اور چائنہ ارتھ کوئیک ایڈمنسٹریشن کے انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس پر مشتمل مشترکہ ٹیم مختلف جدید آلات کے ساتھ ہائی نان کے لی چیونگ آتش فشانی میدان کی غاروں میں اتری۔ ان آلات میں تقسیم شدہ فائبر آپٹک سینسنگ سسٹم، وائبروسیس ٹرک، براڈ بینڈ زلزلہ پیما، زیر زمین ساخت کا جائزہ لینے والا ریڈار، لیڈار، روبوٹک کتے اور ڈرون پر نصب میگنیٹو میٹرز شامل تھے۔ ان تمام ذرائع کا مقصد غار کے پوشیدہ ڈھانچے کا سہ جہتی نقشہ تیار کرنا تھا۔
یہ لاوا غاریں، جو تقریباً 10 ہزار سال قبل ہونے والے آتش فشانی دھماکوں کے نتیجے میں تشکیل پائی تھیں، اپنی شکل اور بننے کے عمل کے اعتبار سے ان لاوا غاروں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہیں جن کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہ چاند کی سطح کے نیچے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اگر انسانیت واقعی دوسرے اجرام فلکی پر طویل المدتی اڈے قائم کرنے کے لئے سنجیدہ ہے، جہاں کی سطح تابکاری اور انتہائی درجہ حرارت کے باعث ایک خطرناک ماحول رکھتی ہے، تو سائنس دانوں کے مطابق اس کا حل زیر زمین موجود ہے۔ آتش فشانی لاوا غاریں نسبتاً مستحکم درجہ حرارت اور کائناتی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں، جس کے باعث یہ قدرتی پناہ گاہوں کے لئے موزوں مقام بن جاتی ہیں۔
عملی طور پر انسانی پناہ گاہوں کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انہیں کس جگہ اور کس بنیاد پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں زلزلہ پیما سائنس اہم کردار ادا کرتی ہے، جو زمین کی “دھڑکن” کو سننے کا علم ہے۔
ہائی نان ارتھ کوئیک ایجنسی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر چھن بو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بنیادی طور پر زیر زمین حصے کا سی ٹی سکین کرنے جیسا عمل ہے۔”
زلزلہ جاتی لہریں چٹان، ہوا اور پانی میں مختلف انداز سے سفر کرتی ہیں۔ سخت چٹانیں ان کی رفتار بڑھا دیتی ہیں، جبکہ خالی جگہیں یا دراڑیں انہیں سست کر دیتی ہیں، جس کے باعث یہ لہریں منعکس، منعطف اور منتشر ہوتی ہیں۔ معمولی ارتعاش پیدا کر کے اور ان کے واپس پلٹنے کے عمل کو ریکارڈ کر کے ٹیم زیر زمین موجود ساخت کو ازسر نو تشکیل دے سکتی ہے، جس میں خالی جگہیں، دراڑیں اور تہہ دار ساختیں شامل ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے تجربے سے حاصل ہونے والے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔
ایس یو ایس ٹیک کے پی ایچ ڈی کے طالب علم اور تحقیقی ٹیم کے رکن لیو پے یو نے بتایا کہ ٹیم کے لیڈار پوائنٹ کلاؤڈ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار، جو غاروں کے اندر موجود کھوکھلے حصوں کا بالائی نقشہ تیار کرتے ہیں، زلزلہ جاتی اور برقی سروے سے زیر زمین حاصل ہونے والے نتائج سے بڑی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔
اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ ٹیم نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا حساس فائبر آپٹک سینسنگ سسٹم غاروں کی شدید نمی اور گرمی کو برداشت کرتے ہوئے طویل عرصے تک مستحکم انداز میں کام کر سکتا ہے۔ لیو پے یو کے مطابق یہ اعداد و شمار مستقبل میں دوسرے سیاروں پر موجود لاوا غاروں کی کھوج کے لئے بنیادی حوالہ جاتی مواد فراہم کریں گے۔



  تازہ ترین   
مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج
سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پُرعزم، حوثی ملیشیا حملے فوری بند کر دے: وزیراعظم
بہتر عوامی خدمات کیلئے ٹیکس وصولی، مالی وسائل کی فراہمی اور جوابدہی بدستور اہم چیلنجز
ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام
ریاض ایئرپورٹ پر حوثی میزائل حملہ، سعودی طیارے میں آگ بھڑک اٹھی
فیلڈ مارشل سے بحرینی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
امریکی صدر کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
یوکرین میں مسافر بسوں پر روسی گلائیڈ بم حملے، 30 افراد ہلاک





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر