تہران، واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین اور روس کے صدور نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کریں گے ، تاہم اگر یہ دونوں ممالک جنگ میں شامل ہوئے تو یہ ان کیلئے اچھا نہیں ہوگا۔ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران یقین دلایا تھا کہ چین بشمول اس کی کمپنیاں، ایران کو کسی قسم کے ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ ان کے بقول روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی اسی نوعیت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا چین یا روس اس جنگ میں شامل ہوں گے ، لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ ان کے اپنے مفاد میں نہیں ہوگا۔دوسری جانب امریکا نے ایران کے جنوب سے شمال تک متعدد مقامات پر میزائل حملے کیے ۔ ایرانی حکام کے مطابق صوبہ گیلان کے علاقے زیباکنار میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جس سے تنصیبات اور آلات کو نقصان پہنچا۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق جون کے آخر میں دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد اب تک 59 افراد شہید اور 666 زخمی ہو چکے ہیں۔ ایرانی فوج کی اعلیٰ مشترکہ کمان نے کہا ہے کہ ہر ہلاک ہونے والے ایرانی کے بدلے ایک امریکی فوجی کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکی دباؤ یا ناجائز مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گا اور آبنائے ہرمز میں اپنے مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ادھر ایران نے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے ۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین میں امریکی کمپنی ایمازون کے ڈیٹا سینٹر، شیخ عیسیٰ ایئربیس اور امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹرز کے واچ ٹاور کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اردن کے الازرق ایئربیس اور دیگر فوجی تنصیبات پر بھی ڈرون حملے کیے گئے ۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں ایندھن کے ذخائر، اسلحہ گوداموں اور فوجی رہائشی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔پاسدارانِ انقلاب نے ان ممالک کے شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے جہاں امریکی فوجی موجود ہیں کہ وہ امریکی فوجی رہائش گاہوں سے کم از کم 500 میٹر دور رہیں۔خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، تاہم جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 4 ڈالر سے زائد کمی کے بعد تقریباً 96 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
دریں اثنا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کیلئے سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہوگئیں۔ عمان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا، جبکہ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے ملاقات میں امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی یقینی بنائیں۔ادھر یورپی یونین نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں ایران کے 5 ججوں اور سائبر گروپ ’’آشیانے ‘‘ کے بانی نیما صالحی پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔ یورپی یونین کے مطابق ایران سے متعلق پابندیوں کی فہرست میں اب تک 269 افراد اور 53 ادارے شامل کیے جا چکے ہیں۔



