واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکا نے پاکستان سمیت اپنے 60 تجارتی شراکت داروں پر نیا ’’جبری مشقت‘‘ٹیرف نافذ کر د یا ، درآمد مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کئے گئے ہیں، یہ اقدام جبری مشقت پر پابندیوں کے کمزور نفاذ کے الزامات کے تحت کیا جا رہا ہے ۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہے کہ نئی ڈیوٹیز کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریبا 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیا سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنٰی رکھا گیا ہے ،امریکا تقریبا ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کئے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے ۔امریکا نے پاکستان،ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ ، کینیڈا ، بھارت، انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جبکہ چین ویتنام سمیت 38ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے ، امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا ہے ۔ ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی اقتصادی سلامتی کی ماہر وینڈی کٹلر نے کہا کہ ان محصولات کے نتیجے میں کاروباروں اور صارفین کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے ،زیادہ تر تجارتی شراکت دار دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے کرکے امریکا پر اپنا انحصار کم کرنے کے طریقوں پر توجہ دیں گے ۔واضع رہے ٹرمپ نے فروری کے سپریم کورٹ فیصلے کے بعد 150 دن کیلئے عارضی 10 فیصد ٹیرف لگایا تھا جو گزشتہ روز ختم ہو گیا اورنیا ٹیرف اسی وقت نافذ ہو گیا ۔
امریکا کاپاکستان سمیت 60تجارتی شراکت داروں پر نیا ٹیرف



