نان چھانگ (شِنہوا) گرمیوں کی بارش ابھی تھمی ہی تھی کہ چین کے ’چینی مٹی کے دارالحکومت‘ جنگ دے ژین میں واقع تاؤ شی چھوان سرامک آرٹ ایونیو بارش کے بعد چمک اٹھا۔ یہاں سرخ اینٹوں سے بنی قدیم فیکٹریاں اور شیشے کی جدید عمارتیں ماضی اور حال کا دلکش امتزاج پیش کرتی ہیں۔ انہی کارخانوں میں سے ایک تاؤ شی چھوان آرٹ میوزیم میں 2026 انٹرنیشنل اکیڈمی آف سرامکس کی رکن نمائش خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ پاکستانی سرامک آرٹسٹ محمد حسن نے اپنے فن پاروں کی نمائش کے قریب موجود شائقین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “میرے فن پاروں میں چینی اور پاکستانی ثقافت کا امتزاج ہے، آدھا چین اور آدھا پاکستان۔ چین اور پاکستان کے تعلقات بھائیوں جیسے ہیں، گویا دونوں ایک ہی خاندان کے ممالک ہوں اور میری تخلیقات اسی دوستی کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔صوبہ سندھ کے نصرپور سے تعلق رکھنے والے 283 سال پرانے برتن ساز خاندان کے چشم و چراغ حسن نے انٹرنیشنل اکیڈمی آف سرامکس کا پہلا پاکستانی رکن بن کر تاریخ رقم کی ہے۔ مئی سے وہ جنگ دے ژین کے تاؤ شی چھوان فن کے مرکز میں 3 ماہ کے لئے بطور آرٹسٹ مقیم ہیں۔ جنگ دے ژین میں منعقدہ ‘انٹرنیشنل اکیڈمی آف سرامکس 2026’ کی کانگریس کا اس سال کا موضوع ’’وراثت اور اختراع‘‘ حسن کے تخلیقی اسلوب سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے فن پاروں کا ایک ایسا سلسلہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا جو چین اور پاکستان کی قدیم تہذیبی وراثتوں کو یکجا کرتا ہے۔محمد حسن کی نمائش کا سلسلہ، جس کا عنوان ” سندھ اور جنگ دے ژین کے بندھن: سرامکس کا ایک مکالمہ” ہے، ایسے فن پاروں پر مشتمل ہے جنہیں جان بوجھ کر دو الگ حصوں میں تخلیق کیا گیا ہے۔ہر فن پارے کا ایک حصہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے مقامی مواد سے تیار کیا گیا ہے، جس میں مقامی مٹی، سیاہ داب رنگ اور وادی سندھ کی تہذیب کے مٹی کے برتنوں کی نقل کردہ علامتیں شامل ہیں۔ جبکہ دوسرے حصے میں چین کی چینی مٹی، جنگ دے ژین کا مخصوص نیلا کوبالٹ رنگ اور روایتی چینی سرامک نقش و نگار استعمال کئے گئے ہیں۔محمد حسن نے کہا کہ “میں نے ان فن پاروں میں چینی خطاطی کے حروف اور وادی سندھ کی تہذیب کے نقش و نگار بھی شامل کئے ہیں۔ ایک ہی فن پارے میں 2 تہذیبی ورثوں کو یکجا کر کے یہ تخلیقات پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو فروغ دیتی ہیں اور مٹی کے برتنوں کو اتحاد، یادداشت اور باہمی احترام کی ایک داستان میں تبدیل کر دیتی ہیں۔حسن نے کہا کہ جب میں پہلی بار یہاں پہنچا تو مجھے بہت سی یکساں ثقافتی علامتیں ملیں۔ پرندوں، مچھلیوں اور جانوروں کے علامتی نقوش چینی فن اور پاکستان کی 5 ہزار سال قدیم سندھی تہذیب دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لوگوں نے ان قدیم علامتوں کی بنیاد پر اپنے منفرد فنکارانہ اسلوب تیار کئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قدیم زمانے کی یہ مشترکہ علامتی زبانیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جدید سرحدیں بننے سے بہت پہلے ہی ہماری ثقافتوں کے درمیان تعلقات موجود تھے۔حسن کی پیدائش برتن سازوں کے ایک ایسے خاندان میں ہوئی جہاں مٹی کے برتن بنانے کی وراثت ان کی رگوں میں دوڑتی ہے۔ تقریباً 3 صدیوں سے ان کا خاندان مٹی کے برتن بنانے کے اس فن سے وابستہ ہے۔ آبائی شہر میں ہائی سکول سے فراغت کے بعد حسن کی زندگی نے اس وقت ایک غیر متوقع موڑ لیا جب انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کا دورہ کیا۔ کالج کی ایک معائنہ ٹیم نے دیوار پر لگے ان کے فن پارے دیکھے اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر انہیں 4 سالہ مکمل سکالرشپ کی پیشکش کر دی۔ انہوں نے اپنی انڈر گریجویٹ تعلیم مکمل کی، فائنل تھیسز کے دفاع کے فوراً بعد انہیں فیکلٹی میں شامل ہونے کی دعوت ملی اور وہ ایک ہی ہفتے کے اندر سرامکس کے استاد بن گئے۔ حسن نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ 8 سال کی عمر میں میرے والد نے میرے ہاتھوں میں مٹی تھما کر کہا تھا کہ یہ فن ہماری ثقافتی وراثت اور ہماری شناخت ہے، انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں کبھی یہ نہ بھولوں کہ میں دستکاروں کے ایک خاندان میں پیدا ہوا۔آج حسن اسی لگن کے ساتھ جنگ دے ژین آئے ہیں جسے وہ ” سرامکس کا ایک زندہ میوزیم” قرار دیتے ہیں۔ یہاں سڑکوں کے چراغ نیلے اور سفید نقش و نگار سے سجائے گئے ہیں، عمارتوں میں چینی مٹی کے ٹوٹے ہوئے ٹائلز جڑے ہوئے ہیں حتیٰ کہ ریستورانوں کی دیواریں بھی چینی مٹی کے ٹکڑوں سے مزین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے مقامی لوگ اپنی ثقافت کو عزیز رکھتے ہیں، روایات ترک نہیں کرتے اور اب بھی روایتی برتن سازی سے جڑے ہیں۔حسن نے مزید کہا کہ آج کل بہت سے فنکار ہم عصر سرامک آرٹ کو ترجیح دیتے ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ روایتی دستکاری ہی ہماری بنیادی اساس ہے۔ اگر ہم روایت چھوڑ دیں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم اپنی مادری زبان بھول جائیں اور اپنی جڑیں کاٹ لیں۔مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد حسن نے کہا کہ وہ آئندہ ایک سال دونوں قدیم تہذیبوں کو اپنی سرامک تخلیقات میں یکجا کرنے پر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ “چینی مٹی پاکستان اور چین کی مشترکہ مادری زبان ہے۔ یہاں مجھے مختلف ناموں والے مگر تہذیبی اعتبار سے بھائی ملے ہیں۔ میں اپنے ہاتھوں کی مٹی سے سرحدوں سے ماورا دوستی کی داستان رقم کروں گا۔”
283 سالہ پاکستانی برتن ساز خاندان کے وارث کو جنگ دے ژین میں تہذیب کے “روحانی بھائی” مل گئے



