ایرانی وزیرداخلہ کی اسلام آبادآمد امن معاہدہ کی بحالی کیلئے اہم

ویب ڈیسک(نیشنل ٹائمز)ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے دورہ اسلام آباد کا بنیادی مقصد تو دوطرفہ تعلقات باہمی تجارت کا عمل اور سکیورٹی معاملات میں بہتری ہے مگر ماہرین اس دورہ کی ٹائمنگ کو اہم قرار دیتے ہوئے اسے امن معاہدہ کی بحالی اور مکمل علاقائی جنگ کو روکنے کیلئے ایک تیز رفتار سفارتی کوشش قرار دیتے نظر آ رہے ہیں اور اس ضمن میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ان ریمارکس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے ایرانی وزیر داخلہ کا استقبال کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی تھی کہ وہ اچھی خبر لے کر آ رہے ہیں یہ دورہ اس وقت ہوا جب پاکستان دوست ملکوں کے تعاون سے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کی بحالی کے ساتھ انہیں جاری رکھنے کے لئے سرگرم عمل ہے اور اس ضمن میں پس پردہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے ۔سکندر مومنی کی وزیراعظم شہباز شریف ،فیلڈ مارشل عاصم منیر ودیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے ،البتہ ایران نے ثالثوں کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لینے اور سفارتکاری کے عزم کا اعادہ کیا ہے ،پاکستان مفاہمتی عمل بارے مطمئن نظر آ رہا ہے ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کے دورہ کے حوالے سے یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ایران نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دور شروع کر رکھا ہے۔

جس کی بنیاد باہمی تجارتی عمل کو قرار دیا جا رہا ہے اور دونوں ممالک اپنے درمیان تجارتی حجم کو 3ارب ڈالر سے دس ارب تک وسیع کرنے بارے پرعزم ہیں جس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر دو ہزار ٹرکوں کی آمد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے دونوں ممالک جو تقریباً 700کلو میٹر مشترکہ سرحد رکھتے ہیں جس سے زمینی تجارت آسان ہوتی ہے ،ایران توانائی کے بڑے ذخائر رکھتا ہے جبکہ پاکستان کو گیس بجلی اور پٹرولیم کی ضرورت ہے اس شعبہ میں تعاون دونوں کے لئے منافع بخش ہو سکتا ہے سرحدی تجارت بلوچستان اور ایران کے سرحدی علاقوں میں روزگار کاروبار اور ترقی کے مواقع پیدا کر سکتی ہے ایران کے راستے وسطی ایشیا اور ترقی تک رسائی اور پاکستان کے راستے سعودی عرب اور جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک پہنچ ممکن بن سکتی ہے ۔اطلاعات یہ ہیں کہ اسلام آباد میں وزیر داخلہ ایران سکندر مومنی کی حکومتی ذمہ داروں سے ملاقاتوں میں اہم شعبہ جات میں تعاون کے لئے اقدامات کو موثر بنانے پر زور دیا گیا اور معاشی شعبہ میں تعاون بڑھانے کے عمل کو باہمی اعتماد اور علاقائی استحکام کے لئے ناگزیر قرار دیا گیا۔

جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ امریکا ایرانی وزیر داخلہ کے دورہ اسلام آباد کو کیسے دیکھ رہا ہوگا تو امریکا یہ دیکھے گا کہ پاکستان ایران سے تعلقات کو کس حد تک امریکا ،خلیجی ممالک اور چین کے ساتھ توازن میں رکھتا ہے اور کیا پاکستان ایران کو مفاہمتی عمل کی طرف لانے میں کوئی کردار ادا کرتا ہے اگر دورے کا مقصد سرحدی سلامتی ،دہشت گردی کے خلاف تعاون ،دوطرفہ تجارت ہو تو امریکا اسے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات تصور کرے گا۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اسلام آباد کی ملاقاتوں میں پاکستان کی لیڈر شپ نے ایرانی وزیر داخلہ کو سعودی عرب کے حوالے سے اپنے مفادات اور ترجیحات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ ہم نہیں چاہیں گے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کار متاثر ہوں بلکہ ہماری کوشش ہوگی کہ خلیج کے ایشو پر ایران اور سعودی عرب اپنے تعلقات کار کو استعمال کرتے ہوئے علاقائی امن کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔



  تازہ ترین   
بلوچستان:سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 10 دہشتگرد ہلاک، 2 خواتین خودکش حملہ آور گرفتار
پاکستان جدید ٹیکنالوجی میں صفِ اول کی قوم بننے کی جانب گامزن ہے: شہباز شریف
ایران کے ہر حملے کے جواب میں ایک پل یا بجلی گھر تباہ کیا جائیگا: ٹرمپ
حوثیوں کی سعودیہ کو دھمکیاں قابل مذمت، تجارت کو نشانہ بنانا قومی سلامتی پر حملہ تصور ہوگا: پاکستان
ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ ’منفی بی‘ سے ’بی‘ کر دی
ایران کا خطے میں امریکی اڈوں پر تابڑ توڑ حملوں، ریڈار سسٹم تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکا کے مسلسل گیارہویں رات ایران پر شدید حملے، تبریز اور سیریک میں دھماکے
ٹرمپ نے سعودی عرب کیساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دیدی: امریکی اخبار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر