پاکستان ماحول دوست تبدیلی کے لئے چین کے سمارٹ توانائی حل سے استفادہ کرنے کا خواہش مند

چھنگ دو (شِنہوا) چائنہ سمارٹ انرجی کانفرنس 2026 میں شریک پاکستانی حکام اور صنعتی رہنماؤں نے چین کے ساتھ سمارٹ گرڈز سے لے کر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے بجلی کے نظام تک تعاون کو مزید گہرا کرنے کی بھرپور خواہش کا اظہار کیا۔ جیسے جیسے ماحول دوست توانائی کا حصہ بڑھ رہا ہے، پہاڑی ممالک کو توانائی کی منتقلی کے دوران نئے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث ٹیکنالوجی کی منتقلی، صنعتی شراکت داری اور استعداد کار میں اضافے کے لئے قریبی تعاون پر زور دیا جا رہا ہے۔کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا اور ڈیجیٹل ٹوئنز کی ٹیکنالوجیز تیزی سے توانائی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم اور استعمال کے شعبوں میں ضم ہو رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں چین کا سمارٹ انرجی شعبہ انفرادی اختراعات سے آگے بڑھ کر مکمل ویلیو چین پر مبنی حل فراہم کر رہا ہے، جو پائیدار توانائی کی جانب بڑھنے کے خواہش مند ممالک کے لئے ایک نئی راہ متعین کرتا ہے۔پاکستان کے وزیر توانائی کے معاون محفوظ احمد بھٹی نے کہا کہ “چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تعاون کے ایک اہم شعبے کے طور پر پاکستان مسلسل اپنی ماحول دوست توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھا رہا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 55 فیصد بجلی ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے پیدا کی جا رہی ہے، جس کے باعث بجلی کے گرڈ کی موثر تقسیم اور ڈیجیٹلائزیشن کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔بھٹی نے کہا کہ “ہمارے پاس 12 ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اور ایک قومی گرڈ کمپنی ہے اور ہر جگہ ہمیں ایسے مضبوط شراکت داروں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے جن کے لئے ہم چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر سکیں۔بھٹی نے حال ہی میں گلگت بلتستان میں شروع کئے گئے 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے(82 میگاواٹ مرکزی اور 18 میگاواٹ تقسیم شدہ نظام) کا بھی ذکر کیا، جو سرکاری اداروں کو بجلی فراہم کرے گا اور پہاڑی علاقوں کے 13 لاکھ سے زائد رہائشیوں کو فائدہ پہنچائے گا۔انہوں نے کہا کہ “یہ سرمایہ کاری مل کر دور دراز پہاڑی اضلاع میں رہنے والے 13 لاکھ سے زائد افراد کو صاف، قابل اعتماد اور کم لاگت بجلی فراہم کرے گی، جس سے توانائی کا تحفظ مضبوط ہوگا اور پائیدار و موسمیاتی لحاظ سے مضبوط ترقی کو فروغ ملے گا۔پاکستانی کاروباری شعبے کی ضروریات اس سے بھی زیادہ مقامی نوعیت کی ہیں۔ گلوبل ٹیک انوویشن کے ڈائریکٹر انجینئر اسد محمود نے زور دے کر کہا کہ مستقبل کی شراکت داری صرف آلات کی تجارت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم صرف درآمدات نہیں چاہتے، بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ مینوفیکچرنگ کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی شمسی توانائی کی مارکیٹ سمارٹ گرڈز اور ڈیجیٹل توانائی کے حل کی مسلسل طلب پیدا کر رہی ہے۔انٹرنیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیویلپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی)کے سینئر ماہر معاشیات حسین عابد نے کہا کہ پہاڑی ممالک کو دشوار گزار جغرافیہ اور بجلی کے گرڈ کی بلند لاگت جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی آئی ایم او ڈی چین کے مصنوعی ذہانت پر مبنی توانائی ماڈلز کو پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ہمالیائی ممالک تک وسعت دینے کے لئے پرعزم ہے۔صنعتی ماہرین نے اتفاق کیا کہ مربوط اور مکمل ویلیو چین پر مبنی توانائی حل کی جانب چین کا ارتقا ماحول دوست اور کم کاربن ترقی کے خواہاں پہاڑی ممالک کے لئے ایک موثر، عملی اور پائیدار راستہ فراہم کرتا ہے۔



  تازہ ترین   
سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حوثیوں کیخلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان
پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا گیا
ٹرمپ کا پوتن سے ٹیلی فونک رابطہ، توانائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
فرانس کی ایران کیلئے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت دوہرا معیار ہے: اسماعیل بقائی
ٹرمپ نے ایران کے مسئلے کے حل میں روس کی شمولیت کا خیر مقدم کیا، کریملن
مودی سرکار نے احتجاج روکنے کیلئے دہلی کو مقبوضہ علاقہ بنا دیا، جگہ جگہ فوج تعینات
ایران اب بھی امریکا کو جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بلومبرگ
مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر