چکوال (نیشنل ٹائمز)چکوال میں سی سی ڈی کے ہاتھوں قتل ہونے والی 9 سالہ ہانیہ احمد کے والد عدیل احمد نے پولیس کی کارروائی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں سب انسپکٹر اور کانسٹیبل نے زبردستی ان سے سادے کاغذ پر دستخط کروائے،ڈی پی او کو دی گئی درخواست میں 9 سالہ ہانیہ احمد کے والدعدیل احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ وقوعے کے دوران ڈاکوؤں نے کوئی فائرنگ نہیں کی تھی بلکہ واقعہ کانسٹیبل کی سیدھی فائرنگ کے باعث پیش آیا۔
والد کے مطابق تھانہ سٹی کے سب انسپیکٹر احسن عبداللہ نے وقوعے کو غلط رنگ دیا، جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پولیس خدمت کاؤنٹر پر تعینات سپاہی نے ان کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کی۔عدیل احمد نے مزید الزام لگایا کہ سب انسپیکٹر اور سپاہی نے علاج شروع ہونے سے پہلے سادے کاغذ پر زبردستی دستخط کرائے۔عدیل احمد نے متعلقہ سب انسپیکٹر اور کانسٹیبل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست میں مدعی نے مؤقف اپنایا کہ تفتیشی افسر کو بعد میں حقائق پر مبنی الگ بیان ریکارڈ کروایا گیا، اگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو شفاف تفتیش متاثر ہوسکتی ہے۔
اس سے قبل پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر مقدمہ دفعہ 322 (قتلِ خطا) کے تحت درج کیا گیا تھا، تاہم تفتیش کے دوران حاصل ہونے والے شواہد اور فرانزک جائزے کی روشنی میں مقدمے میں دفعہ تین سو دو شامل کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مقدمے میں نامزد سی سی ڈی اہلکار شجاع کے قبضے سے فائرنگ میں استعمال ہونے والی رائفل بھی برآمد کر لی گئی ہے جب کہ ملزم کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔



