اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)تحریک انصاف کے زیر اہتمام بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں طاقت کا استعمال ترک کرکے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے ، لاپتا افراد کی بازیابی، شفاف انتخابات، مقامی افراد میں وسائل کی تقسیم کے مطالبات پیش کئے ۔ آل پارٹیز کانفرنس خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔ جس کی صدارت اختر خان مینگل نے کی۔کانفرنس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت بلوچستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اختر خان مینگل، شاہد خاقان عباسی، اسد قیصر، مصطفی نواز کھوکھر، محسن داوڑ اور دیگر نے شرکت کی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جیتنے کے باوجود ہمارے پاس بلوچستان میں نشستیں نہیں ہیں، ہم بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، دہشت گردی کے ایجنڈے پر سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا، بلوچستان کو محفوظ بنانا پاکستان کو محفوظ بنانا ہے ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ناانصافی سے نفرت بڑھتی ہے اور اس کے نتیجے میں بات دہشت گردی تک پہنچتی ہے ، یہاں احتجاج کرنے والوں سے بات نہیں کی جاتی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جبر مسئلے کا حل نہیں ہمیں بات کرنا ہوگی، ادھر کے لوگوں کی بات سُننا ہوگی ، زیارت کا واقعہ عام واقعہ نہیں ہے ۔ اعلامیے کے مطابق اے پی سی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں غیرنمائندہ حکومت اور پالیسیاں بحران کا سبب ہیں، بلوچستان کے مسئلے کے حل کیلئے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن بنایا جائے ، بلوچستان میں تمام سیاسی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کیے جائیں ۔



