تحریر: عابد حسین قریشی
عجز عاجزانہ کو شائع ہوئے ابھی بمشکل چھ ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا، کہ ہم اسکے دوسرے ایڈیشن کی طباعت اور اشاعت کے مرحلے میں داخل ہو چکے۔ یہ سب اللہ تعالٰی کا خاص کرم اور مہربانی اور سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خصوصی فیض و احسان ہے، کہ اس با برکت کتاب کا دوسرا ایڈیشن، بڑے خوبصورت اور ضخیم اٹھارہ مضامین کے اضافہ کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ عجز عاجزانہ میں قرآن پاک، حامل قرآن سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکی آل پاک کا ذکر بڑی چاہت سے، احترام سے، وارفتگی و آشفتگی سے، اک جرآت رندانہ سے، ایک پیار کی حلاوت سے، کیف و سرمستی کی لہر سے، قلب و روح کی مہک سے، عقیدت کی چاشنی سے، تقدس کی فراوانی سے اور پورے جذبہء ایمانی سے کیا ہے اور اسی جزب دروں کو پذیرائی انہی کے لطف و کرم سے ملی، جن کا ذکر پاک اس کتاب میں کیا گیا۔ میرے جیسے کم فہم اور خطا کار کے لئے کیا یہ کم اعزاز ہے، کہ میں اللہ تعالٰی کی سب سے خوبصورت تخلیق قرآن پاک، اور انکے محبوب ترین نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و توصیف میں پہلے 63 اور اب 18 یعنی 81 بڑے جامع اور پرمغز مضامین سپرد قلم کر گیا۔ یہ خاکسار نہ سکالر، نہ مفتی، نہ اس طرح کا کوئی دعوٰی، نہ اتنی اہلیت ، صرف قرآن پاک کا ایک طالب علم اور سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکی اہل بیت کا ایک ادنٰی غلام، عقیدہ ختم نبوت پر راسخ ایمان کے ساتھ، اللہ تعالٰی اور انکے نبی محتشم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کی تایئد و نصرت اور خصوصی شفقت کے سبب ایک ناممکن کام ممکن بن سکا۔ جب جذبوں میں عشق نبی کی رمق اور امنگ ہو، اور نبی محتشم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہ کہ جو وجہء تخلیق کائنات ہیں، جو راز کائنات ہیں، جو فخر آدمیت اور تاجدار ختم نبوت ہیں، جو انسانیت کی لاج اور ہم گناہ گاروں کی آس ہیں، اور وہی تو ہمارے دلوں کے پاس ہیں۔ انکی سیرت طیبہ پر کچھ لکھنا ازخود ایک اعزاز اور خوش نصیبی ہی تو ہے۔ اور اتنے خوبصورت اور جامع موضوعات کا احاطہ کرنا مجھ جیسے کم فہم انسان کے بس میں کہاں، مگر عجز عاجزانہ کے دونوں ایڈیشنز کی تیاری میں یوں لگا کہ ہر وقت نصرت ایزدی شامل حال ہے، نئے سے نئے اور روح پرور خیال اور موضوعات اور انکا فوری سپرد قلم ہوجانا سب کچھ حیرت انگیز مگر کسی غیبی ہاتھ کا مرہون منت ہی تو ہے، ورنہ من آنم کہ من دانم۔ ابھی ایک اور مقدس مگر ذرا مشکل مشن کا مرحلہ درپیش ہے۔ امید ہے، کہ اس سال کے اختتام تک ایک اور بہت منفرد کتاب انشاءاللہ لکھ کر شائع کرنے کی پوزیشن میں ہوں گا۔ ایک ہمدم دیرینہ کا یہ کہنا کہ ابھی ہم پہلی کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں، اور تم دوسری لکھ دیتے ہو، دلچسپ تبصرہ ہے، پچھلے پانچ سال میں پانچویں کتاب انشاءاللہ جلد عاشقان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں ہوگی۔ اگر اس کاوش کے سبب میری اور میرے والدین کی روز محشر آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم نے سفارش فرما دی، اور اللہ تعالٰی نے بھی ہماری اس کاوش کو شرف قبولیت بخش دیا تو بات بن جائے گی۔ کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ روز محشر بخشش کے لئے اللہ تعالٰی کے فضل و کرم کے ساتھ انکے محبوب ترین نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکی آل پاک سے محبت و عقیدت اور مروت و مودت کا عنصر بھی غالب رہے گا۔ ان، شاء اللہ۔ اس دوسرے ایڈیشن کی تحریک ہمارے بہت ہی قابل فخر بزرگ مجاہد ختم نبوت محمد متین خالد صاحب نے کی، اور مشاورت حسب معمول اپنے دوست اور کلاس فیلو میاں محمد آصف( ر) ایڈیشنل آئی جی پولیس جو خود بہت عمدہ ادبی ذوق تو رکھتے ہی ہیں، مگر انکا دینی فہم بھی قابل رشک ہے، اور اپنے دیرینہ دوست معروف شاعر و ادیب طارق بٹ شان کے ساتھ رہی۔ نستعلیق پبلیکیشنز کے روح رواں اپنے ادارہ کے نام کی طرح عادات و اطوار میں بھی نستعلیق ، معروف شاعر حسن عباسی نے حسب سابق اس کتاب کی اشاعت کے ہر مرحلہ پر رہنمائی فراہم کی اور اسکی جلد اشاعت کو ممکن بنایا۔ سیالکوٹ سے ہی ہمدم دیرینہ عقیدہ ختم نبوت کے بیباک مجاہد جناب محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ اور دینی عشق و سرمستی میں ڈوبے دو نوجوان ججز اور برادران عزیز محمد اسلم پنجھوتا اور احمد مجتبٰی فاروقی نے پورے جزبہ ایمانی اور ادبی چاشنی کے ساتھ پیش لفظ لکھے، جو اس دوسرے ایڈیشن میں شامل ہیں۔ میں ان تمام احباب کا طے دل سے شکر گزار ہوں۔ عابد حسین قریشی۔



