تاثرات: مظہر طفیل
کیا خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا طرزِ حکمرانی اس کے سیاسی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا پی ٹی أٸی کے پاس أٸیں باٸیں شاٸیں کے علاوہ کوٸی جواب نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں انتخابی نعروں اور عملی سیاست کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر انتخاب سے پہلے عوام کو تبدیلی، انصاف، احتساب، سادگی، کفایت شعاری، عوامی خدمت اور غربت کے خاتمے کے خواب دکھائے جاتے ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی ترجیحات یکسر تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے اکثر توجہ حکمران طبقے کی مراعات، سہولتوں اور اختیارات کے تحفظ پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے اندر یہ احساس مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں نظریات کے اختلاف کے باوجود مراعات کے معاملے میں ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں رہیں۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اراکین کی مراعات سے متعلق پیش کیا گیا بل بھی اسی تناظر میں ایک اہم سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس بل نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عوامی خدمت کے دعوے محض انتخابی نعروں تک محدود ہیں یا اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان پر عمل درآمد ہوتا ہے؟ اگر ایک ایسے وقت میں، جب عام شہری مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے ہوئے اخراجات، تعلیم اور صحت کی مشکلات سے دوچار ہو، منتخب نمائندوں کی اولین ترجیح اپنی مراعات میں اضافہ بن جائے تو فطری طور پر عوام کے ذہن میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران خود کو روایتی سیاست سے مختلف جماعت کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس کا بنیادی بیانیہ یہی تھا کہ وہ مراعات یافتہ طبقے کے خلاف کھڑی ہے، سادگی کو فروغ دے گی، قومی وسائل کی حفاظت کرے گی اور اقتدار کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنائے گی۔ اسی بیانیے کی بنیاد پر اس نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا۔ عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ اگر تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو حکمران اور عام شہری کے درمیان موجود مراعات کا فرق کم ہوگا، حکومتی اخراجات محدود ہوں گے اور وسائل کا رخ عوامی فلاح کی طرف موڑا جائے گا۔ اسی لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں مراعات سے متعلق بل پر سب سے زیادہ سوالات بھی تحریک انصاف کی طرف اٹھ رہے ہیں، کیونکہ سیاسی جماعتوں کا اصل امتحان ان کے بیانات سے نہیں بلکہ اقتدار میں کیے گئے فیصلوں سے ہوتا ہے۔ اگر ایک جماعت برسوں تک مراعاتی سیاست کی مخالفت کرتی رہے لیکن اقتدار میں آ کر اسی طرزِ عمل کا حصہ بنتی دکھائی دے تو اس کے ناقدین کے لیے تنقید کا دائرہ وسیع ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف بھی بالآخر اسی سیاسی روایت کا حصہ بن گئی ہے جسے وہ ماضی میں عوام کے سامنے پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ قرار دیتی رہی؟ یہ کہنا درست ہوگا کہ مراعات صرف ایک مالی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سیاسی سوال بھی ہیں۔ جب عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوں، نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہوں، سرکاری تعلیمی ادارے وسائل کی کمی کا شکار ہوں اور صحت کے شعبے میں عام آدمی بنیادی سہولتوں کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہا ہو، ایسے حالات میں منتخب نمائندوں کی مراعات میں اضافے کی قانون سازی عوامی ترجیحات سے متصادم محسوس ہوتی ہے۔ یہی تضاد عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور سیاست کے بارے میں مایوسی کو بڑھاتا ہے۔ تحریک انصاف کے حامی اس مؤقف سے اختلاف کر سکتے ہیں اور یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کا تعین ایک الگ انتظامی معاملہ ہے، تاہم سیاسی اعتبار سے یہ تاثر بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ عوام ایسے فیصلوں کو اپنے معاشی حالات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات صرف مالی نہیں بلکہ سیاسی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی مرحلے پر عوامی مفاد اور اپنی جماعتی یا انتظامی ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنے میں تنقید کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ اسی لیے عوام میں یہ احساس بڑھا ہے کہ انتخابات کے دوران ایک دوسرے پر مراعات، بدعنوانی اور اشرافیہ کی سیاست کے الزامات لگانے والی جماعتیں اقتدار میں آ کر اکثر ایک جیسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اگر یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان جمہوری نظام اور عوامی اعتماد کو پہنچے گا، کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہی ہوتا ہے، اور جب یہی اعتماد کمزور پڑ جائے تو سیاسی نعروں کی کشش بھی ختم ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مراعات کے اس بل کو محض ایک قانونی معاملہ سمجھنے کے بجائے ایک بڑے سیاسی اور اخلاقی سوال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس نے نہ صرف تحریک انصاف کے سابقہ بیانیے اور موجودہ طرزِ عمل کے درمیان تقابل کی بحث کو جنم دیا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان کی سیاست واقعی عوامی خدمت کی طرف بڑھ رہی ہے یا پھر اقتدار اب بھی مراعات کے تحفظ کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اگر تحریک انصاف اپنے آپ کو دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف قرار دیتی ہے تو پھر اس کا سب سے بڑا امتحان خیبر پختونخوا میں اس کی حکمرانی ہے، جہاں اسے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کا موقع ملا۔ ایک منتخب حکومت کی کامیابی کا پیمانہ صرف سیاسی بیانات یا جلسوں کی گونج نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں آنے والی عملی بہتری ہوتی ہے۔ اسی لیے آج یہ سوالات شدت سے اٹھ رہے ہیں کہ کیا صوبے میں تعلیم کا نظام عوام کی توقعات کے مطابق بہتر ہوا؟ کیا سرکاری اسپتالوں میں عام آدمی کو معیاری اور آسان طبی سہولتیں میسر آ سکیں؟ کیا بے روزگاری میں نمایاں کمی آئی؟ کیا ترقیاتی منصوبوں کی رفتار ایسی رہی جس سے عام شہری کی زندگی میں واضح تبدیلی محسوس کی جا سکے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا امن و امان کی صورتحال اس معیار تک پہنچی جس کا وعدہ عوام سے کیا گیا تھا؟ ان تمام سوالات پر مختلف آرا موجود ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ عوام اپنے روزمرہ کے تجربات کی بنیاد پر حکومتوں کی کارکردگی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ صوبائی حکومت کی سیاسی ترجیحات اکثر انتظامی اور عوامی معاملات کے بجائے قومی سطح کی سیاسی کشمکش پر زیادہ مرکوز رہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر کسی حکومت کی توانائی کا بڑا حصہ سیاسی محاذ آرائی، احتجاج یا مخالفین کے ساتھ کشیدگی میں صرف ہو تو عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ دوسری جانب حکومتی مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ سیاسی جدوجہد بھی جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ تاہم عوام کے لیے اصل پیمانہ یہ ہے کہ ان کے مسائل کس حد تک حل ہوئے، کیونکہ ایک عام شہری کی نظر میں اچھی حکومت وہی ہے جو اس کے بچوں کی تعلیم، علاج، روزگار، سڑک، پانی، بجلی اور تحفظ کو بہتر بنائے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران برداشت، مکالمے اور سیاسی شائستگی کی جگہ تلخ بیانی، الزام تراشی، سوشل میڈیا پر کردار کشی اور مستقل محاذ آرائی نے لے لی ہے۔ اس رجحان کا الزام مختلف سیاسی جماعتوں پر مختلف انداز سے عائد کیا جاتا رہا ہے، اور وقت کے ساتھ دیگر جماعتوں کے کارکنوں میں بھی اسی طرزِ سیاست کے اثرات نمایاں ہوئے۔ نتیجتاً قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمے کی روایت کمزور اور سیاسی تقسیم مزید گہری ہوتی چلی گئی۔ جب سیاست کا مرکز عوامی فلاح کے بجائے مسلسل تصادم بن جائے تو نقصان صرف ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مراعاتی سیاست کا مسئلہ بھی عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔ جب ایک طرف عام شہری بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو اور دوسری طرف منتخب نمائندوں کی مراعات میں اضافے کی خبریں سامنے آئیں تو یہ احساس پیدا ہونا فطری ہے کہ عوام اور حکمرانوں کی ترجیحات ایک جیسی نہیں رہیں۔ یہی احساس جمہوری نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ جمہوریت صرف انتخابات سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، خواہ وہ تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی یا کوئی اور، اپنی سیاسی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ اگر واقعی عوامی خدمت ان کا مقصد ہے تو قانون سازی کا مرکز اراکین کی مراعات نہیں بلکہ عوام کی زندگی آسان بنانے والے اقدامات ہونے چاہییں۔ حکمرانوں کی اصل پہچان ان کی مراعات نہیں بلکہ ان کے فیصلوں کے وہ مثبت اثرات ہوتے ہیں جو عام آدمی کی زندگی میں دکھائی دیں۔ جب سرکاری اسکول بہتر ہوں، اسپتالوں میں علاج آسان ہو، نوجوانوں کو روزگار ملے، امن و امان مضبوط ہو اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عوام تک پہنچیں، تب ہی عوام محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ووٹ کی قدر کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مراعات سے متعلق بل نے محض ایک انتظامی یا مالی بحث کو جنم نہیں دیا بلکہ اس نے سیاست کے بنیادی فلسفے پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیا ہے۔ کیا اقتدار عوام کی خدمت کے لیے حاصل کیا جاتا ہے یا مراعات کے تحفظ کے لیے؟ اس سوال کا جواب سیاسی تقاریر سے نہیں بلکہ عملی فیصلوں سے دیا جائے گا۔ اگر منتخب نمائندے اپنی ذات پر عوام کو ترجیح دیں گے تو اعتماد بحال ہوگا، لیکن اگر ذاتی مفادات عوامی مفادات پر غالب رہے تو سیاسی بیانیے اپنی کشش کھو بیٹھیں گے۔ جمہوریت کی مضبوطی کا راستہ عوام کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے، اور عوام کے دل صرف نعروں سے نہیں بلکہ انصاف، دیانت دار حکمرانی، شفاف فیصلوں، مساوی احتساب اور عوامی خدمت سے جیتے جاتے ہیں۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ہر حکومت اور ہر سیاسی جماعت کو خود اپنا احتساب کرنا ہوگا، کیونکہ تاریخ ہمیشہ دعووں سے زیادہ کردار اور کارکردگی کا فیصلہ کرتی ہے۔



