تحریر: منظر نقوی
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد 4 جولائی سے 9 جولائی تک منعقد ہونے والی سرکاری تدفین اور تعزیتی تقریبات صرف ایک قومی یا مذہبی تقریب نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا بھی اہم موقع بن چکی ہیں۔ تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد ہونے والی یہ تقریبات دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہوں گی، کیونکہ ایسے مواقع پر کسی بھی ملک کی سفارتی ترجیحات اور خارجہ پالیسی کا اظہار صرف بیانات سے نہیں بلکہ مدعو کیے جانے والے مہمانوں سے بھی ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ان تقریبات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس خبر نے سفارتی حلقوں میں ایک اہم سوچ کو جنم دیا ہےکہ بھارت گزشتہ کئی برسوں سے امریکہ اور اسرائیل کا قریبی تزویراتی شراکت دار رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی متعدد مواقع پر اسرائیل کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں، جبکہ نئی دہلی نے واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ اپنے دفاعی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔
ایسے پس منظر میں ایران کی جانب سے وزیراعظم مودی کو دعوت دینا ایک اہم سفارتی سوال پیدا کرتا ہے۔ یقیناً ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قومی تقریبات میں جسے چاہے مدعو کرے، لیکن تاریخی مواقع پر دی جانے والی دعوتیں محض رسمی کارروائی نہیں ہوتیں بلکہ وہ ایک وسیع سیاسی اور سفارتی پیغام بھی دیتی ہیں۔
اگر ایران یہ سمجھتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود سفارت کاری کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں، تو وزیراعظم مودی کو دعوت دینا اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کئی مواقع پر بڑے رہنماؤں کی آخری رسومات نے ایسے ممالک کو بھی ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع دیا جو برسوں تک ایک دوسرے کے مخالف رہے۔
اگر یہی اصول ہے تو پھر ایک دوسرا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ کیا یہی سفارتی اصول امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں بھی زیر غور نہیں آنا چاہیے تھا؟
ایران مسلسل امریکہ اور اسرائیل پر اپنے خلاف جارحانہ پالیسیوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے اور حالیہ جنگ کے بعد بھی تہران نے انہی ممالک کو بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی اور جانی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا۔ ایسے حالات میں یقیناً ان رہنماؤں کو دعوت دینا ایک غیر معمولی قدم ہوتا، لیکن اگر مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ سفارت کاری دشمنی سے بالاتر ہو سکتی ہے تو ایسا اقدام عالمی سطح پر ایک منفرد علامتی پیغام بھی بن سکتا تھا۔
دوسری جانب اگر ایران کی رائے یہ ہے کہ یہ تقریب صرف اپنے دوست ممالک اور ان شخصیات کے لیے ہے جو اس کے مؤقف سے اتفاق رکھتے ہیں، تو یہ بھی اس کا خودمختار فیصلہ ہے۔ تاہم جب ایسے ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا جاتا ہے جن کے قریبی تعلقات ایران کے مخالفین کے ساتھ ہیں تو سفارتی اصولوں میں یکسانیت کے بارے میں سوالات پیدا ہونا فطری امر ہے۔
بین الاقوامی تعلقات میں بعض اوقات ایک دعوت نامہ کئی سرکاری بیانات سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اسی لیے دنیا صرف یہ نہیں دیکھتی کہ تقریب میں کون شریک ہوا بلکہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ کس کو دعوت دی گئی اور کسے نہیں۔
ان تقریبات کا وقت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امید پیدا ہوئی تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی، لیکن حالیہ جنگی صورتحال نے ان امیدوں کو ایک مرتبہ پھر غیر یقینی بنا دیا ہے۔
اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو ممکن ہے ایران سیکیورٹی مزید سخت کرے، عوامی اجتماعات محدود کرے، غیر ملکی وفود کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگائے یا تقریبات کے بعض انتظامات میں تبدیلی کرے۔ تاہم فی الحال ایرانی حکومت نے طے شدہ پروگرام میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا ہے۔
دنیا ان تقریبات کو صرف مذہبی یا قومی اجتماع کے طور پر نہیں بلکہ ایک سفارتی امتحان کے طور پر بھی دیکھے گی۔ خارجہ پالیسی صرف مذاکرات سے نہیں بلکہ علامتی اقدامات سے بھی تشکیل پاتی ہے، اور ایسے مواقع پر دی جانے والی دعوتیں مستقبل کے تعلقات کی سمت کا اشارہ دیتی ہیں۔
بالآخر یہ بحث صرف نریندر مودی کے بارے میں نہیں بلکہ سفارت کاری کے بنیادی اصولوں کے بارے میں ہے۔ اگر سیاسی اختلافات کے باوجود مکالمے کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں تو پھر اس اصول کا اطلاق یکساں ہونا بھی ضروری ہے۔
ایران کو اپنی سفارتی ترجیحات طے کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن عالمی برادری کو بھی ان فیصلوں کے سیاسی اور سفارتی اثرات پر غور کرنے کا حق ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال آج بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر اختلافات کے باوجود نریندر مودی کو دعوت دی جا سکتی ہے تو کیا اسی سفارتی اصول کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کو بھی دعوت دینے پر غور کیا جا سکتا تھا؟ یہی سوال آنے والے دنوں میں سفارتی حلقوں میں زیر بحث رہے گا۔



