مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک موڑ پر: ٹرمپ اور ایران، امن کا نیا امتحان

تحریر: منظر نقوی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑی مشکل سے قائم ہونے والا نازک امن ایک بار پھر شدید آزمائش سے دوچار ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران کے فوجی ٹھکانوں پر فضائی حملوں نے نہ صرف جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک نئی کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا یہ امید کر رہی تھی کہ مذاکرات، محاذ آرائی کی جگہ لے لیں گے، تازہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن اب بھی انتہائی کمزور بنیادوں پر قائم ہے۔

امریکہ کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حملہ جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی تھا، جس کے جواب میں محدود فوجی کارروائی ناگزیر تھی۔ دوسری جانب ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی حملوں کو اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ تو مذاکرات کے اصولوں کا احترام کیا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے تقاضوں کا، بلکہ طاقت کے استعمال کو ہی اپنی پالیسی بنایا ہوا ہے۔

یہ صورتحال صرف امریکہ اور ایران تک محدود نہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ میں معمولی کشیدگی بھی عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، بحری تجارت، انشورنس اخراجات اور مہنگائی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا فوجی تصادم صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی تشویش کا باعث بنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کی کامیابی اس بات میں نہیں کہ کوئی واقعہ پیش ہی نہ آئے، بلکہ اس میں ہے کہ فریقین ایسے واقعات پر تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔ اگر ہر الزام کا جواب فوری فوجی کارروائی سے دیا جائے تو جنگ بندی محض ایک کاغذی معاہدہ بن کر رہ جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی بڑی جنگیں غلط اندازوں، جلد بازی اور انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں بھڑکی ہیں۔

آج سب سے بڑا نقصان اعتماد کا ہو رہا ہے۔ مذاکرات اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب فریقین ایک دوسرے کی نیت پر کسی حد تک یقین رکھتے ہوں۔ جب ایک فریق یہ محسوس کرے کہ دوسرا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے تو سفارتی عمل کمزور پڑ جاتا ہے اور بات چیت کی گنجائش سکڑنے لگتی ہے۔ یہی صورتحال اس وقت امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بھی نظر آ رہی ہے۔

اس تمام صورتحال میں عالمی برادری، خصوصاً وہ ممالک جو دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی میں کردار ادا کر سکتے ہیں، ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان، قطر، سوئٹزرلینڈ اور دیگر ایسے ممالک جو حالیہ سفارتی کوششوں میں کسی نہ کسی شکل میں شریک رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ مذاکرات کے دروازے بند نہ ہونے دیں۔ ہر ممکن کوشش کی جائے کہ الزامات کی تحقیقات غیر جانبدارانہ انداز میں ہوں اور عسکری کارروائی کے بجائے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔

مشرقِ وسطیٰ گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگوں، دہشت گردی، معاشی بحران اور انسانی المیوں کا شکار رہا ہے۔ اس خطے کے عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ امریکہ اور ایران دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ فوجی طاقت وقتی برتری تو دے سکتی ہے لیکن دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ پائیدار امن صرف مذاکرات، باہمی احترام، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ایک دوسرے کے جائز تحفظات کو سمجھنے سے ہی ممکن ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگ بندی کو بچانے کے لیے تحمل، تدبر اور سفارت کاری کو فوقیت دی جائے۔ اگر حالیہ واقعات کو مزید فوجی تصادم کا جواز بنایا گیا تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک نئے بحران کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ عالمی قیادت کے سامنے آج بھی دو راستے موجود ہیں؛ ایک تصادم، انتقام اور عدم استحکام کا، جبکہ دوسرا مذاکرات، دانشمندی اور پائیدار امن کا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا دوسرے راستے کا انتخاب کرے، کیونکہ یہی راستہ خطے اور عالمی امن دونوں کے مفاد میں ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان کی افغان سرحد پر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں، 29 خارجی جہنم واصل
شہریوں کی حفاظت ترجیح، حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد بڑی کارروائی کی: عطا تارڑ
ایران امریکہ نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کر لیا، امریکی نیوز ویب سائٹ
سندھ رینجرز کیمپ حملہ: سات روز قبل افغانستان سے پاکستان آئے، گرفتار دہشتگرد کا دعویٰ
سلووینیا نے ایران کیخلاف جنگ امریکہ اور اسرائیل کی بڑی غلطی قرار دیدی
حالیہ حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ اتوار کو تکنیکی مذاکرات میں شرکت نہیں کی، ایران
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج ہوگا
کراچی میں رینجرز کیمپ پر بھارتی حمایت یافتہ تنظیم کا حملہ، 3 جوان شہید





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر