نئی دہلی(نیشنل ٹائمز) بنگلہ دیش کی مفرور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اسی سال اپنے ملک واپس جائیں گی۔بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں شیخ حسینہ نے کہا کہ انہیں موت کا کوئی خوف نہیں اور ان کے خلاف دیا گیا فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور سیاسی محرکات پر مبنی عمل کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہامیرے خلاف بے شمار سازشیں کی گئیں، لیکن میں ہر سازش کا مقابلہ کرتی رہی۔ عوام نے مجھے پانچ مرتبہ ووٹ دے کر وزیر اعظم منتخب کیا اور میں نے ملک کی بے مثال ترقی کے لیے کام کیا۔سزائے موت کے فیصلے کے باوجود وطن واپسی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہامیں واضح طور پر کہنا چاہتی ہوں کہ تمام رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود میں اسی سال اپنے ملک واپس جا ؤں گی۔واضح رہے گزشتہ سال نومبر میں ڈھاکہ کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو اشتعال انگیزی، قتل کے احکامات دینے اور مظالم روکنے میں ناکامی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ بنگلہ دیش مسلسل بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے ۔78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبا کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد ہمسایہ ملک بھارت فرار ہوگئی تھیں۔ اس تحریک نے ان کی 15 سالہ سخت گیر حکمرانی کا خاتمہ کر دیا تھا۔
سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ کا رواں سال وطن واپسی کا اعلان



