بیجنگ (شِنہوا) سائنسی جریدے سیل ریسرچ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ تحقیقی مضمون میں بتایا گیا ہے کہ چینی محققین نے زیبرا فش میں سیمی- کلوننگ کی ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔
سیمی کلوننگ جانوروں کی انفرادی نمونے پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے، جبکہ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کی نشوونما اور ان کی بیماریوں کے مطالعے کے لئے زیبرا فش کو ایک انتہائی اہم نمونے کے جاندار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس)کے مطابق اس وقت دستیاب ٹیکنالوجیز میں بعض خامیاں یا محدود کارکردگی پائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس شعبے میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ زیبرا فش کے ماڈلز کی تیز رفتار اور موثر تیاری طویل عرصے سے ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔
سی اے ایس سنٹر فار ایکسی لینس ان مولیکیولر سیل سائنس کے محققین نے ایسی زیبرا فش، جو آگے نسل بڑھانے کے قابل ہوں، کی تیاری کے لئے بلاسٹوسسٹ مرحلےکے تازہ ہیپلائیڈ خلیات کا استعمال کیا۔ اس طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے کے بعد کامیابی کی شرح بڑھ کر تقریباً 30 فیصد تک پہنچ گئی۔
ہیپلائیڈ بلاسٹوسسٹ سیل نیوکلیئر ٹرانسفر پر مبنی یہ ٹیکنالوجی یکساں خصوصیات کی حامل سیمی کلونڈ زیبرا فش پیدا کرتی ہے۔ ہیپلائیڈ ایمبریوز میں بیک وقت کئی جینیاتی تبدیلیاں کر کے یہ طریقہ کار مختلف جینیاتی امتزاج والے ڈونر خلیات کی یکمشت تیاری کو ممکن بناتا ہے اور اس سے نر اور مادہ دونوں اقسام کی سیمی کلونڈ زیبرا فش پیدا کی جا سکتی ہیں۔
چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کا کہنا ہے کہ ان نئی دریافتوں نے سیمی کلوننگ کے اس نظام کو زیبرا فش کے جینیاتی تجزیے کے لئے ایک انتہائی قیمتی اور مفید پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔
چینی محققین نے زیبرا فش میں سیمی- کلوننگ کے لئے نئی ٹیکنالوجی تیار کر لی



