روم (نیشنل ٹائمز)اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید حیرت اور برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے اطالوی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ میلونی نے تصویر بنوانے کیلئے ان کے سامنے خوشامد کی تھی۔ میلونی نے ٹرمپ کی اس کہانی کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی ایک غیرت مند ملک ہے جو کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔فرانس میں منعقدہ جی7 اجلاس کے بعد، صدر ٹرمپ نے اٹلی کے ‘La7’ٹی وی چینل کو ایک فون انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے (میلونی نے )مجھ سے تصویر کھنچوانے کیلئے التجا کی تھی، مجھے ان پر ترس آ گیا ،اس لئے میں نے تصویر بنوا لی، وہ شاید خوش ہیں کہ میں نے ان سے بات کی۔ ٹرمپ کے اس بیان پر اطالوی وزیر اعظم نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا میں سچ مچ دنگ رہ گئی ہوں کہ ایک امریکی صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتا ہے ۔
میلونی نے ٹرمپ کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کاش وہ یہی سخت رخ مغرب اور امریکا کے اصل دشمنوں کے خلاف دکھاتے ، جن کے رہنماؤں کے ساتھ وہ اکثر نرم رویہ اپناتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا صدر ٹرمپ کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ نہ میں اور نہ ہی اٹلی کبھی بھیک مانگتے ہیں۔ اس تنازع کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ واضح ہو گئی ہے ۔ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ردعمل کے طور پر اگلے ہفتے کے اوائل میں طے شدہ اپنا دورۂ امریکا منسوخ کر دیا ہے ۔اٹلی کے صدر سرجیو ماتاریلا نے بھی فوری طور پر میلونی کو فون کر کے ان کی حمایت کا یقین دلایا۔ اس کے علاوہ اٹلی کی تمام سیاسی جماعتوں (چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں)نے ٹرمپ کے اس رویے کو متکبرانہ اور اٹلی کی توہین قرار دیتے ہوئے میلونی کا ساتھ دیا ہے ۔



