اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے دارالحکومت کونمنگ میں 11 سے 16 جون تک جاری چین-جنوبی ایشیا ایکسپو علاقائی اقتصادی تعاون اور عالمی خوشحالی کو نئی توانائی فراہم کرے گی کیونکہ یہ چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔پاکستان ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ٹی ڈی اے پی) کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد نے شِنہوا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ ایکسپو محض ایک تجارتی نمائش نہیں رہی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکی ہے جو حکومتوں، کاروباری اداروں، صنعتی تنظیموں اور محققین کو اقتصادی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کے لئے یکجا کرتی ہے۔تجارت میں تنوع اور سرمایہ کاری کے فروغ میں ایکسپو کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریک ممالک کو جدید مصنوعات پیش کرنے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور مینوفیکچرنگ، زراعت، ڈیجیٹل معیشت اور ماحول دوست ترقی سمیت مختلف شعبوں میں سپلائی چین تعاون کو مضبوط بنانے کے مواقع میسر آتے ہیں۔فیض احمد کے مطابق پاکستان کے لئے یہ ایکسپو اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھولے گی اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو ابھرتے ہوئے شعبوں میں روابط مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ برسوں کے دوران جدید مینوفیکچرنگ، آٹومیشن، صنعتی پارکس اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں میں نمایاں صلاحیتیں حاصل کی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’پاکستان سمیت جنوبی ایشیائی ممالک ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید پیداواری طریقوں کو اپنانے اور پیداواری صلاحیت و معیار میں بہتری کے ذریعے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس سے مقامی صنعتیں بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بن سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کی توجہ صنعت کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی فلاح پر مرکوز ہے۔ ایسے پلیٹ فارم عملی منصوبوں کی نشاندہی اور نجی شعبے کی زیادہ شمولیت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔فیض احمد کے مطابق ایکسپو میں شرکت کے ذریعے پاکستان کو چینی منڈیوں اور سرمایہ کاروں تک زیادہ رسائی حاصل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں نمایاں صلاحیتوں کا حامل ہے۔ ایکسپو پاکستانی کمپنیوں کو چینی خریداروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری شراکت داروں کے وسیع حلقے کے سامنے اپنی مصنوعات اور صلاحیتیں پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔اختراع اور ڈیجیٹل معیشت میں تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے ای کامرس، ڈیجیٹل ادائیگیوں، سمارٹ مینوفیکچرنگ اور تکنیکی جدت جیسے شعبوں میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے، جس سے جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان، فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔فیض احمد نے ماحول دوست ترقی اور پائیدار اقتصادی نمو میں تعاون کے وسیع امکانات کی جانب بھی اشارہ کیا۔انہوں نے کہا کہ’’جنوبی ایشیائی ممالک پائیدار ترقی کے اہداف پر بڑھتی ہوئی توجہ دے رہے ہیں۔ ایکسپو قابل تجدید توانائی، ماحول دوست ٹیکنالوجیز اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے سکتی ہے، جو مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لئے نہایت اہم ہوں گے۔تجارت اور سرمایہ کاری سے آگے بڑھتے ہوئے فیض احمد نے عوامی روابط اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ’’اقتصادی تعاون اس وقت زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتا ہے جب اس کی بنیاد گہری ثقافتی ہم آہنگی اور انسانی روابط پر ہو۔‘‘ ان کے مطابق ایکسپو کاروباری شخصیات، محققین اور نوجوان نمائندوں کے درمیان تبادلہ خیال اور روابط کو فروغ دیتی ہے۔تقریب کے بارے میں امید کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایکسپو کھلے پن، باہمی رابطوں اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’چین اور پاکستان دونوں کے لئے یہ عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور جامع و ہمہ گیر ترقی کو فروغ دینے کا ایک قیمتی موقع فراہم کرتی ہے۔‘‘
پاکستانی عہدیدار نے چین-جنوبی ایشیا ایکسپو کو علاقائی تعاون کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دے دیا



