بیجنگ (شِنہوا) جمعرات کے روز محض چند گھنٹوں کے اندر مشرق وسطیٰ ایک اور فوجی تصادم کے دہانے سے واپس سفارت کاری کے امکان کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دھمکی دی تھی کہ وہ اسی رات ایران کے خلاف “پہلے سے بڑے اور زیادہ طاقتور” حملے شروع کریں گے اور خارگ جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیں گے جہاں سے ایران کی 90 فیصد سے زائد تیل کی برآمدات کا انتظام سنبھالا جاتا ہے۔ تاہم چند گھنٹوں بعد انہوں نے جاری مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طے شدہ حملوں اور بمباری کو منسوخ کر دیا ہے۔
اس تیز رفتار تبدیلی نے ایک وسیع تر حقیقت کو اجاگر کیا جو دہائیوں سے خطے کی صورتحال پر اثرانداز رہی ہے کہ طاقت کا استعمال بحرانوں کو مزید شدت دے سکتا ہے، لیکن ان کا حل صرف مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔
مشرق وسطیٰ نے عدم اعتماد، مخاصمت اور سلامتی کے متصادم خدشات کی وجہ سے بارہا تصادم کے ادوار کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود فوجی کارروائی نے شاذ و نادر ہی کوئی پائیدار حل فراہم کیا ہے۔ اس کے برعکس اس نے اکثر تناؤ کو گہرا کیا، خلیج کو وسیع کیا اور ایک بڑے علاقائی تنازع کے خطرات کو بڑھایا ہے۔
حالیہ پیش رفت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کشیدگی بڑھانا بذات خود کوئی حل نہیں۔ ہر حملہ جوابی کارروائی کو جنم دیتا ہے اور ہر جوابی کارروائی سفارت کاری کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ ایک باہم جڑی ہوئی دنیا میں عدم استحکام کے اثرات تیزی سے قومی سرحدوں سے باہر پھیل سکتے ہیں جو توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور علاقائی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔
مکالمہ ہی مشرق وسطیٰ کے استحکام کا واحد قابل عمل راستہ



