برلن (شِنہوا) چین اور جرمنی کے حکام اور کاروباری نمائندوں نے ایک کاروباری فورم میں تجارت اور سرمایہ کاری روابط کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر چین کی وسیع صارف منڈی میں موجود مواقع اور دوطرفہ تجارت مزید متوازن بنانے کی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔
یہ فورم برلن میں جرمن ایوان صنعت و تجارت کی میزبانی میں 9 ویں چین بین الاقوامی درآمدی نمائش (سی آئی آئی ای) کی تشہیر کے لئے ایک تقریب کے ساتھ منعقد ہوا۔
چین کے نائب وزیر تجارت اور نائب چینی نمائندہ برائے بین الاقوامی تجارت لنگ جی نے کہا کہ چین دو طرفہ تجارت متوازن بنانے کے لئے اعلیٰ معیار کی جرمن مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور خدمات کی درآمدات بڑھانے کو تیار ہے۔
لنگ جی نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی درمیانی آمدنی والی آبادی کے حامل ملک اور دنیا کی دوسری بڑی صارف مارکیٹ چین نے گزشتہ سال غیر ملکی کمپنیوں کی چینی منڈی تک رسائی میں مدد کے لئے “چین کو برآمدات” کے اقدام کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی-چین اقتصادی اور تجارتی تعاون دو طرفہ تعلقات میں ایک مستحکم قوت کے طور پر کام کر رہا ہے اور اس نے چین اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی تعلقات میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
جرمنی کی وفاقی وزارت اقتصادی امور و توانائی کے اسٹیٹ سیکرٹری تھامس سٹیفن نے کہا کہ چین اب بھی جرمنی کے لئے ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی اور چین کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے جن میں آبادیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل تبدیلی اور کم کارربن والی معیشت کی طرف منتقلی شامل ہے۔ برآمدی معیشتیں ہونے کے ناطے دونوں ممالک مشترکہ وسیع اقتصادی مفادات بھی رکھتے ہیں۔
سٹیفن نے مزید کہا کہ جرمنی اس ادارہ جاتی مکالمے کا حامی ہے جو اعتبار، باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی اور دونوں ممالک کی مستحکم ترسیل اور آزاد تجارتی نظام برقرار رکھنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہو۔
ایڈیڈاس گروپ کے نائب صدر مینوئل پاؤزر جو کئی سالوں سے نمائش میں شرکت کر رہے ہیں، نے کہا کہ ہم اس سال کی پہلی سہ ماہی میں چینی منڈی میں ترقی کر کے دوہرے ہندسے میں داخل ہو گئے ہیں، اس نے چین پر ہمارے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایڈیڈاس کے لئے چین ایک اہم مارکیٹ ہے اور کمپنی چین میں اپنی مقامی موجودگی مزید بڑھائے گی کیونکہ وہاں کے بہتر ہوتے کاروباری ماحول نے طویل المدتی نمو کے حوالے سے اس کا اعتماد مضبوط کیا ہے۔
چین اور جرمنی کا برلن فورم میں تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات مزید گہرا کرنے پر زور



