ہرارے (شِنہوا) چین نے پانی کے 300 کنوؤں کا انتظام جنوبی افریقی ملک زمبابوے کے حوالے کر دیا جس سے وہاں کے 75 ہزار سے زائد شہریوں کو صاف پانی میسر آیا ہے۔
چین کے تعاون سے کنویں کھودنے کے منصوبے کا آغاز 2024 میں ہوا جو 4 صوبوں کے 300 دیہات پر محیط تھا۔
زمبابوے میں چین کے سفیر ژو ڈنگ نے مانیکالینڈ صوبے میں کنویں حکام کے حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کنویں نہ صرف روزمرہ استعمال اور کاشتکاری کے لئے صاف اور محفوظ پانی فراہم کرتے ہیں بلکہ پانی سے لگنے والی بیماریاں کم کرنے اور زرعی استحکام میں بھی مدد کرتے ہیں۔
ژو نے کہا کہ پانی تک قابل اعتماد رسائی کے ساتھ مقامی افراد میں فصلوں کی کاشت، مویشی پالنے، مرغی بانی اور سبزیوں کی کاشت فروغ پا رہی ہے۔ اس منصوبے سے ہزاروں خواتین اور بچوں کو بااختیار بنانے میں مدد ملی اور انہیں تعلیم و بہتر روزگار کے حصول کے لئے کام کرنے کا وقت میسر آیا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران چین نے زمبابوے میں 1300 سے زائد کنویں کھودے ہیں، اس اقدام سے تقریباً پانچ لاکھ لوگوں کو صاف پانی اور آبپاشی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
وزیر بلدیات و تعمیرات عامہ ڈینیئل گاروے نے اس تعاون پر چینی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کنویں آفات سے متاثرہ برادریوں میں پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کی صورتحال بہتر بنائیں گے۔
وزیر نے اس منصوبے کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا یہ زمبابوے کی قومی ترقی کی حکمت عملی اور ویژن 2030 میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کا مقصد زمبابوے کو اپر مڈل انکم والی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
چین کے تعاون سے کنوؤں کے منصوبے سے زمبابوے کے 75 ہزار سے زائد افراد کو صاف پانی کی فراہمی



