نیویارک(نیشنل ٹائمز)وال اسٹریٹ اور عالمی معاشی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ، خلائی تحقیقاتی کمپنی اسپیس ایکس کے شیئرز پہلی بار فروخت کے لیے پیش کیے جانے کے بعد ایلون مسک تاریخ کے پہلے ٹریلینیئر بن گئے ۔وہ اس کمپنی کے بانی اور سر بر اہ ہیں ۔ ان کی دولت 1,000,000,000,000یعنی ایک ہزار ارب ڈالر سے بھی زیادہ 1.1 ٹریلین تک پہنچ گئی ہے ۔ رائٹرز کے مطابق اگر فی سیکنڈ ایک ڈالر جمع کیا جائے تو 1.1ٹریلین تک پہنچنے کے لیے 34900سال لگیں گے ۔عالمی میڈیا کے مطابق یہ انسانی تاریخ میں کسی بھی شخص کی جانب سے جمع کی جانے والی سب سے بڑی دولت ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اسپیس ایکس نے امریکی اسٹاک مارکیٹ (Nasdaq) میں قدم رکھتے ہی دھوم مچا دی ہے ۔ کمپنی نے 135 ڈالر فی شیئر کے حساب سے 75 ارب ڈالر مالیت کے حصص فروخت کیے ہیں، جو کہ سعودی آرامکو کے 2019 کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او بن گیا ہے ۔ شیئرز کی فروخت کے بعد اسپیس ایکس کی مجموعی مالیت 1.77 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے ۔ مارکیٹ کھلتے ہی اس کے شیئرز کی قیمت میں مزید 11 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس سے کمپنی کی مالیت 1.96 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔
آئی پی او سے قبل ایلون مسک کی دولت تقریباً 813 ارب ڈالر تھی، تاہم اسپیس ایکس میں ان کے 42 فیصد شیئرز اور آپشنز کی نئی قیمت لگنے کے بعد ان کی مجموعی مالیت 1 ٹریلین ڈالر (1000 ارب ڈالر) کی حد عبور کر گئی ہے ۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اس تاریخی آغاز کے نتیجے میں اسپیس ایکس کے تقریباً 4400 موجودہ اور سابق ملازمین بھی راتوں رات کروڑ پتی (Millionaires) بن گئے ہیں۔ٹیکساس میں واقع کمپنی کے ہیڈ کوارٹر ‘اسٹار بیس’سے روایتی گھنٹی بجا کر ٹریڈنگ کا آغاز کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا ایک وقت تھا جب یہ کمپنی ایک چھوٹے سے گودام سے شروع ہوئی تھی اور آج یہ تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او بن چکی ہے ۔ عوام سے یہ سرمایہ کاری ہم مریخ پر انسانی بستیاں بسانے اور کائنات کے حقائق کو سمجھنے کے لیے استعمال کریں گے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی دولت اب ان کے آبائی ملک جنوبی افریقہ کی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) سے بھی دگنی ہو چکی ہے ، جہاں وال اسٹریٹ کے سرمایہ کار اس کامیابی پر جشن منا رہے ہیں، وہیں سماجی تنظیموں (جیسے آکسفیم) نے اس پر تنقید کرتے ہوئے اسے دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کا ایک تشویشناک ثبوت قرار دیا ہے ۔مسک کی زیادہ تر دولت نقد نہیں بلکہ کمپنی کے حصص (شیئرز) کی شکل میں ہے ۔



