روایتی چینی طب کے جرمن طالب علم نے چینی ثقافت میں زندگی کی حکمت پا لی

لان ژو (شِنہوا) چین میں پہاڑی راستے پر سفر کے دوران ایک نوجوان خاتون اچانک بے ہوش ہو گئی تو جوئل میکائل واکر نے وہاں موجود لوگوں کے یہ سوچنے سے قبل کہ اس وقت کیا کرنا چاہیے، فوراً امدادی کارروائی کی۔
روایتی چینی طب کے اس جرمن طالب علم نے فوراً اس خاتون کی کہنیوں کے اندرونی حصے کو تھپتھپایا اور جسم کے مخصوص آکو پوائنٹس کو دبایا اور غور کیا کہ خاتون کا جسم اس علاج سے کوئی ردعمل ظاہر کرتا ہے یا نہیں۔ چند منٹوں کے بعد جب خاتون کی نبض دوبارہ چلنے لگی تو اس نے سکون کا سانس لیا۔
طبی امداد دینے کی ایک ویڈیو فوراً انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔ بہت سے چینی شہری نہ صرف واکر کی روایتی چینی طب کی مہارت پر دنگ رہ گئے بلکہ اس کے بولنے کے انداز نے بھی انہیں حیران کر دیا۔ سنہری بالوں والا یہ جرمن نوجوان نہ صرف روانی سے چینی زبان بول رہا تھا بلکہ اس کے ہینان کے مقامی لہجے سے اکثر لوگوں کو ایسا لگا کہ وہ غیر ملکی نہیں بلکہ وہیں کا رہائشی ہے۔
31 سالہ واکر گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے چین کے وسطی صوبے ہینان میں روایتی چینی طب کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔
حال ہی میں چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کے شہر دون ہوانگ میں ماہرین چینی امور کی ایک کانفرنس میں شرکت کے دوران واکر نے کہا کہ چین میں گزارے وقت نے چینی ثقافت کے بارے میں اس کی سوچ بدل دی ہے۔ یہ ثقافت عجائب گھر کے شیشوں کے پیچھے محفوظ کوئی بے جان نشانیاں نہیں بلکہ یہ سوچ اور حکمت کا ایک زندہ و جاوید نظام ہے جو آج بھی انسانوں کی ذہنی و روحانی الجھنیں سلجھانے کی طاقت رکھتا ہے، خاص طور پر ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر طرف بے یقینی کا ماحول ہے۔
واکر کا چینی ثقافت کی جانب راغب ہونا اتفاقیہ طور پر اس کی جوانی میں اس وقت شروع ہوا جب اس کا پہلی بار یِن اور یانگ اور پانچ عناصر کے نظریات سے تعارف ہوا۔ واکر نے جو چند اقتباسات اور تحریری حصے پڑھے، وہ اس کے ذہن کو جھنجھوڑ دینے کے لئے کافی تھے۔
واکر نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ کائنات کو ایک متحرک اور متوازن کل کے طور پر سمجھنے والے اس طرز فکر نے مجھے ایک ایسا دھچکا دیا جس کی مثال میری زندگی میں پہلے کبھی نہیں ملی تھی۔
اس جھٹکے نے بالآخر اسے ہینان پہنچا دیا جسے عموماً چینی تہذیب کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ ابتدائی دن مشکل تھے۔ زبان اجنبی، روزمرہ کی عادات مختلف اور روایتی چینی طب کی مخصوص اصطلاحات چینی زبان بولنے والے مقامی لوگوں کے لئے بھی کافی مشکل ثابت ہو سکتی تھیں۔
واکر نے بتایا کہ شروع میں تو اس کے لئے یِن-یانگ اور پانچ عناصر جیسی اصطلاحات کا ٹھیک تلفظ مشکل تھا تاہم جلد ہی جڑی بوٹیوں کے نسخے، آکو پوائنٹس کی شناخت اور تشخیص کے طریقے یاد ہونا شروع ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ چینی ثقافت ان انتہائی بنیادی چیلنجز کی بات کرتی ہے جن کا سامنا پوری انسانیت کو ہے۔ سچی حکمت مشرق و مغرب کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔
واکر نے کہا کہ آج دنیا کو تصادم کے بجائے مکالمے اور تعصب کے بجائے افہام و تفہیم کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں چینی ثقافت کے پاس پیش کرنے کے لئے بہت کچھ ہے۔



  تازہ ترین   
صدر آصف زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال
لاہور کے علاقے سکھ نہر میں مکان کی چھت گر گئی، 3 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق
سعودی وزیر دفاع کی امریکی نائب صدر سے ملاقات، ایران سے کشیدگی میں کمی کا اعادہ
جاپان: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی، شدید گرمی اور حبس کی لہر برقرار
امریکا کے ایک بار پھر ایران پر حملے، درجنوں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
سعودی عرب نے پاکستان کے 5 ارب ڈالر قرض کی واپسی 3 سال کیلئے مؤخر کر دی
پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے 30 پولنگ سٹیشنز کے نتائج مسترد کر دیے، ری پولنگ کا مطالبہ
سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر