تحریر: محمد نذیر
ایک ایسا ملک جہاں کروڑوں افراد مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہوں، جہاں ہر سال بجٹ کے ساتھ نئے ٹیکسوں اور اضافی مالی بوجھ کی خبریں سامنے آئیں، جہاں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں اور جہاں ریاست اپنی آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہی ہو، وہاں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آخر قومی وسائل کی ترجیحات کیا ہیں اور ان وسائل سے سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی دہائیوں سے قرضوں، مالی خساروں، کمزور ٹیکس نظام، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں، بڑھتے ہوئے انتظامی اخراجات اور غیر پیداواری حکومتی ڈھانچے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ہر آنے والی حکومت معیشت کی بحالی، اصلاحات اور کفایت شعاری کے دعوے کرتی ہے، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ریاستی اخراجات کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے جبکہ عوامی خدمات کا معیار مطلوبہ رفتار سے بہتر نہیں ہو پا رہا۔
انیس سو اٹھاسی سے لے کر دو ہزار چھبیس تک پاکستان کے قرضوں کی تاریخ دراصل ریاستی مالیاتی پالیسیوں، سیاسی عدم استحکام اور معاشی ترجیحات کی تاریخ بھی ہے۔ انیس سو اٹھاسی میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ نسبتاً محدود تھا، لیکن آنے والی دہائیوں میں مسلسل مالی خساروں، درآمدی انحصار، کمزور برآمدی نمو اور بار بار بیرونی مالی امداد کی ضرورت نے قرضوں کے حجم میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ مختلف ادوار میں عالمی مالیاتی اداروں، دوست ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے حاصل کیے گئے قرضے وقتی سہارا تو بنتے رہے، مگر پائیدار معاشی اصلاحات کے فقدان نے قرضوں کے بوجھ کو کم ہونے کے بجائے مزید بڑھا دیا۔ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں میں متعدد مرتبہ عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگراموں میں شامل ہو چکا ہے۔ ہر پروگرام کے ساتھ مالیاتی نظم و ضبط، سبسڈیوں میں کمی، ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات پر کنٹرول کی شرائط وابستہ رہی ہیں۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ہر چند سال بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے تو پھر ماضی کی اصلاحات کے نتائج کہاں گئے؟ اس کا جواب صرف قرضوں میں نہیں بلکہ حکمرانی کے پورے ڈھانچے میں پوشیدہ ہے۔ آج پاکستان کا ایک بڑا مالی مسئلہ قرضوں کی خدمت ہے۔ قومی آمدن کا ایک بڑا حصہ قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں صحت، تعلیم، روزگار، تحقیق، صنعت اور انفراسٹرکچر کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کو قرضوں پر انحصار کم کرکے پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی۔
قومی مالیات کا ایک اہم پہلو ریاستی انتظامی اخراجات بھی ہیں۔ ایوانِ صدر، وزیراعظم آفس، پارلیمنٹ، مختلف وفاقی و صوبائی وزارتیں، گورنر ہاؤسز، سرکاری رہائش گاہیں، پروٹوکول یونٹس اور انتظامی ڈھانچے قومی خزانے سے وسائل حاصل کرتے ہیں۔ یہ ادارے ریاستی نظام کا حصہ ہیں اور ان کا وجود ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اخراجات ملک کی معاشی حقیقتوں کے مطابق ہیں؟ ایک ایسے ملک میں جہاں سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی کمی ہو اور سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہوں، وہاں عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ریاستی وسائل کس حد تک عوامی فلاح اور کس حد تک انتظامی ڈھانچے پر خرچ ہو رہے ہیں۔ پروٹوکول کلچر بھی پاکستان کی معاشی اور انتظامی بحث کا اہم موضوع ہے۔ اہم شخصیات کی نقل و حرکت کے لیے گاڑیوں کے بڑے قافلے، سیکیورٹی انتظامات، سرکاری وسائل اور متعدد اداروں کی خدمات استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ سیکیورٹی کی ضروریات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک قرضوں میں ڈوبی معیشت میں کفایت شعاری اور سادگی کا کلچر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ حکومتی شخصیات نسبتاً سادہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ کام کرتی ہیں اور ریاستی وسائل کے استعمال میں احتیاط برتی جاتی ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے بیڑے بھی قومی اخراجات کا ایک اہم حصہ ہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہزاروں گاڑیاں مختلف محکموں اور عہدیداروں کے استعمال میں ہیں۔ ان گاڑیوں کی خریداری، مرمت، ایندھن، انشورنس اور عملے پر سالانہ بھاری اخراجات آتے ہیں۔ کئی ممالک نے اس نظام میں اصلاحات کرکے اخراجات میں نمایاں کمی کی، لیکن پاکستان میں اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح سرکاری رہائش گاہوں کا نظام بھی قومی وسائل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، ججوں، بیوروکریٹس اور دیگر حکام کے لیے مختص رہائش گاہوں کی دیکھ بھال، مرمت، سیکیورٹی اور یوٹیلٹی سہولیات پر مسلسل اخراجات ہوتے ہیں۔ یہ سہولیات انتظامی ضروریات کے تحت فراہم کی جاتی ہیں، لیکن ان کے دائرہ کار اور مالی بوجھ پر سنجیدہ بحث کی ضرورت موجود ہے۔ پاکستان کے مالی بحران کا ایک بڑا سبب خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بھی ہیں۔ قومی ایئرلائن، توانائی کے شعبے کے بعض ادارے، تقسیم کار کمپنیاں اور دیگر سرکاری کارپوریشنیں برسوں سے مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان اداروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے قومی خزانے سے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر آتا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ ان اداروں کی تنظیمِ نو، پیشہ ورانہ انتظام اور شفاف احتساب کے بغیر قومی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنا مشکل ہوگا۔ پنشن اخراجات بھی ایک ابھرتا ہوا مالی چیلنج ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پنشن اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آبادی میں اضافے، ریٹائرڈ ملازمین کی تعداد بڑھنے اور پنشن کے روایتی نظام کے باعث یہ بوجھ سال بہ سال بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک نے پنشن فنڈز اور شراکتی نظام متعارف کروا کر اس مسئلے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے اصلاحات پر بحث جاری ہے۔ ٹیکس نظام کی کمزوری بھی معاشی بحران کی بنیادی وجوہات میں شامل ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ محدود ہے اور معیشت کا بڑا حصہ غیر دستاویزی ہے۔ نتیجتاً ٹیکسوں کا بوجھ محدود تعداد میں رجسٹرڈ افراد اور کاروباروں پر آ جاتا ہے۔ ایک مضبوط معیشت کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام منصفانہ، سادہ اور وسیع ہو تاکہ ریاست کو ترقیاتی اور سماجی شعبوں کے لیے مطلوبہ وسائل میسر آ سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے معاشی مسائل کا حل کسی ایک طبقے، ایک ادارے یا ایک حکومت کے پاس نہیں۔ یہ ایک جامع قومی چیلنج ہے جس کے لیے طویل المدتی اصلاحات، شفاف حکمرانی، مالی نظم و ضبط، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری، ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ پاکستان کو آج ایک نئے معاشی وژن کی ضرورت ہے۔ ایسا وژن جس میں ریاستی وسائل کا مرکز عوام ہوں، جس میں صحت، تعلیم، روزگار، تحقیق اور صنعت کو اولین ترجیح دی جائے، جس میں ترقیاتی منصوبے سیاسی وابستگی کے بجائے قومی ضرورت کی بنیاد پر منتخب ہوں اور جس میں حکمران طبقہ خود کفایت شعاری اور جوابدہی کی مثال قائم کرے۔
قرضوں کے گرداب سے نکلنے کا راستہ صرف نئے قرضے نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، مؤثر ادارے، شفاف مالیاتی نظام اور درست قومی ترجیحات ہیں۔ اگر پاکستان اپنے محدود وسائل کو دانشمندانہ انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائے تو موجودہ معاشی مشکلات پر قابو پانا ناممکن نہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ قومی سطح پر یہ طے کیا جائے کہ ریاستی وسائل کا پہلا حق مراعات یافتہ طبقات کا نہیں بلکہ عوام کا ہے۔
قرضوں کے گرداب میں پھنسا پاکستان: مراعات، خسارے اور حکمرانی کا بحران



