تاثرات: مظہر طفیل
آزاد جموں و کشمیر میں ایکشن کمیٹی کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں دی جانے والی ہڑتال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال یقیناً تشویش کا باعث ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد ہلاکتوں اور زخمیوں کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئیں جنہوں نے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ ایسے حالات میں جب صبر، تحمل، تدبر اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے، بعض بیانات اور الفاظ نے پہلے سے موجود کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے کا تاثر پیدا کیا۔ خصوصاً سینئر صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کی جانب سے کشمیری عوام کے بارے میں استعمال کی جانے والی زبان کو مختلف حلقوں نے غیر مناسب، غیر ذمہ دارانہ اور باعثِ تشویش قرار دیا ہے۔ ایک ایسے شخص سے جو کئی دہائیوں سے صحافت سے وابستہ ہو اور قومی معاملات پر رائے سازی میں کردار ادا کرتا رہا ہو، یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا، کیونکہ بعض اوقات الفاظ وہ زخم لگا جاتے ہیں جن کا ازالہ برسوں میں بھی ممکن نہیں ہوتا۔ کشمیری عوام کے بارے میں ایسے الفاظ کا استعمال اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ محض جغرافیائی یا سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی، تاریخی، مذہبی اور جذباتی بنیادوں پر قائم ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہر حکومت، ہر سیاسی جماعت، ہر قومی ادارے اور پاکستان کے عوام نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی فورم پر کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی، ان کے مقدمے کی وکالت کی اور ان پر ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ ہر سال یومِ یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کشمیر کے حق میں قراردادیں منظور ہوتی ہیں، اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کرتی رہی ہے کہ کشمیری عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے پاکستان اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں کو اپنے جسم کا حصہ سمجھتے ہیں اور کشمیری بھی پاکستان کے ساتھ ایک خصوصی قلبی وابستگی رکھتے ہیں۔ یہی پس منظر اس حالیہ صورتحال کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات اور اس کے بعد سامنے آنے والے بعض بیانات نے کشمیری عوام کے دلوں میں دکھ، مایوسی اور بے چینی کی کیفیت پیدا کی ہے۔ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر میں رہنے والے کشمیری اس وقت جذباتی طور پر ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں اور ان کے احساسات و جذبات کا احترام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، مطالبات پیش کرنا ہر شہری کا حق ہے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا ہے، لیکن جب معاملات تصادم کی صورت اختیار کر جائیں تو سب سے زیادہ نقصان قومی یکجہتی کو پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دکھ اور کرب کا ازالہ صرف اور صرف مکالمے، برداشت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس صورتحال پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی بعض سیاسی شخصیات اور رہنماؤں نے بھی افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم کشمیری خصوصاً برطانیہ، یورپ، خلیجی ممالک اور شمالی امریکہ میں آباد کشمیری برادری بھی اس صورتحال کو گہری تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ ایک طرف وہ اپنے کشمیری بھائیوں کے دکھ اور تکلیف پر رنجیدہ ہیں تو دوسری جانب بعض بیانات اور رویوں پر شدید ناراضی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ یہ ردِعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی معاملہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے لاکھوں کشمیریوں کے جذبات اور شناخت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی سیاسی قیادت، مذہبی قیادت، پارلیمان، حکومت، عسکری قیادت اور تمام قومی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن سے کشمیری عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے دکھ اور بے چینی کا مداوا ہو سکے۔ حکومت کے وزراء اور ذمہ دار شخصیات کو بھی اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی زبان اور ایسے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے جو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہوں۔ یہ صرف ایک داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک حساس قومی مسئلہ بھی ہے، کیونکہ پاکستان کے دشمن خصوصاً بھارت ہمیشہ ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جنہیں وہ پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکیں۔ اگر ایسے بیانات کی بروقت اور واضح انداز میں مذمت نہ کی جائے تو دشمن قوتیں انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان رشتہ کسی وقتی سیاسی مفاد کا محتاج نہیں۔ یہ رشتہ قربانیوں، مشترکہ تاریخ، مشترکہ جدوجہد اور باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ کشمیری عوام نے پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، پاکستان کے قومی اداروں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان نے بھی ہر مشکل وقت میں کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے۔ اس لیے کسی فرد کے غیر محتاط الفاظ کو اس مضبوط رشتے پر اثرانداز نہیں ہونا چاہیے، البتہ ایسے واقعات سے سبق ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ قومی معاملات پر گفتگو کرتے وقت الفاظ کا انتخاب کس قدر اہم ہوتا ہے۔ میری رائے میں ابصار عالم صاحب کو اپنے بیان پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور کشمیری عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اپنے الفاظ پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اگر ان کے الفاظ سے کشمیری عوام کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس کا ازالہ ہونا چاہیے، کیونکہ بڑے لوگ اپنی عظمت کا اظہار معذرت سے نہیں بلکہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے حوصلے سے کرتے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، لیکن کسی پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں بھی کرتے تو ایک پاکستانی اور ایک صحافی کی حیثیت سے میں اپنے تمام کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی، احترام اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں اور یہ یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کے عوام آج بھی کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں اور کشمیری عوام کو اپنے دل کے قریب رکھتے ہیں۔ سیاسی تنازعات، احتجاجی تحریکیں اور عوامی مطالبات آج نہیں تو کل مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائیں گے، لیکن الفاظ کی گونج بہت دیر تک باقی رہتی ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فریق تحمل، برداشت، شائستگی اور قومی یکجہتی کو مقدم رکھیں تاکہ کشمیری عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والے زخم مندمل ہو سکیں، پاکستان اور کشمیر کے درمیان محبت، اعتماد اور بھائی چارے کا رشتہ مزید مضبوط ہو اور کوئی دشمن قوت اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ أج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی جذبات، سیاسی وابستگیوں اور شخصی اختلافات سے بالاتر ہو کر اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ کشمیر کا مقدمہ صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا قومی مقدمہ ہے۔ پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان قائم اعتماد، محبت اور قربانیوں کے اس تاریخی رشتے کو کسی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان یا وقتی تنازعے کی نذر نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ایسے وقت میں جب خطے کی صورتحال پہلے ہی حساس ہے اور دشمن قوتیں پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے مواقع تلاش کرتی رہتی ہیں، تمام سیاسی، مذہبی اور قومی قیادت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اتحاد، برداشت اور دانشمندی کا مظاہرہ کرے۔ کشمیری عوام کے دکھ اور تحفظات کو سننا، ان کے جذبات کا احترام کرنا اور پیدا ہونے والی خلیج کو فوری طور پر ختم کرنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی طاقت اس کی وحدت، اس کے عوام کی یکجہتی اور کشمیر کے ساتھ اس کے اٹوٹ رشتے میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا سب سے اہم پیغام یہی ہونا چاہیے کہ اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے، زخموں پر مرہم رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان بھائی چارے، اعتماد اور محبت کا یہ رشتہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر آگے بڑھے۔



