تہران، واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)ایران نے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا ، امریکی صدر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا اس کا جواب دینا پڑے گا اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہی امریکا نے فوجی اپاچی ہیلی کاپٹر گرانے کے جواب میں رات گئے ایران پر حملے شروع کردئیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ( سینٹ کام)نے کہا ہے ایران کے خلاف دفاعی حملے شروع کردئیے ہیں۔امریکی فوج مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے ۔سینٹ کام کے مطابق حملے گزشتہ روز امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرانے کے جواب میں کیے ہیں۔ایرانی خبرایجنسی کے مطابق ایرانی صوبے ہرمزگان کے مشرقی علاقوں میں دھماکے سنے گئے ، سیریک میں میزائل حملہ ہوا ہے ۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے ایرانی جزیرے قشم پر بھی حملہ کیا گیا جبکہ بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے حملوں کے بعد بیان میں کہا ہیلی کاپٹر پر حملے کا جواب بہت سخت ہونا چاہئے ۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ادھر کویت اور قطر نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں ۔قبل ازیں عمان کے قریب امریکی ہیلی کاپٹر اے ایچ-64 اپاچی منگل کی صبح تقریباً 3 بجے گر کر تباہ ہوا۔
امریکی فوج نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی بحریہ کے ایک سطحی ڈرون (ڈرون بوٹ )نے دونوں اہلکاروں کو تلاش کر کے بچا لیا، امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے بتایا کہ 24 فٹ لمبی بغیر عملے کی کشتی نے دونوں ہوا بازوں کا سراغ لگایا اور تقریباً دو گھنٹے پانی میں رہنے کے بعد انہیں ساحل تک پہنچایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا آبنائے ہرمز میں حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کے دونوں پائلٹس ٹھیک ہیں،انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی، ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق آج مکمل رپورٹ جاری کریں گے ۔بعد ازاں اپنے سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے کہا مجھے فوج کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ گزشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کے دوران ہمارے ایک انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایاہے ، اس حملے کا جواب دینا امریکا کیلئے ناگزیر ہے ۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ایران سب کچھ دینے کے لیے تیار ہے ، ایران سے ڈیل کے لیے چند دنوں میں ایک آئیڈیا دے سکتا ہوں، معاہدہ آئندہ دو سے تین روز میں طے ہو سکتا ہے ، امریکا ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا، معاہدے کے تحت ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران نے ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اتفاق کر لیا، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے انتہائی مثبت گفتگو ہوئی، اسرائیل پر حملہ ہوا،اس نے جواب دیا اور اب معاملہ ختم ہو گیا ہے ۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا چاہے تو ایران پر مزید بمباری کر سکتا ہے ، امریکا جنگی راستے کو ترجیح نہیں دیتا، فوجی کارروائی سے بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہوں گی۔پھر آبنائے ہرمز کئی مہینوں تک کھل نہیں سکے گی۔انہوں نے کہا کہ سفارتی معاہدہ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ، ایران کی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی نے تہران پر شدید دباؤ ڈالا ہے ، ناکہ بندی بمباری سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار ثابت ہوئی ہے ۔امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے ،یہی دباؤ ایران کو معاہدے کی جانب لا رہا ہے ، جلد ایک ایسا معاہدہ سامنے آئے گا جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ کشیدگی میں کمی کیلئے 5 علاقائی ممالک نے رابطہ کرکے اسرائیلی وزیراعظم پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی، اسرائیلی وزیراعظم سے رابطہ کرکے واضح الفاظ میں کہا کہ نہ نئی جنگ چاہتا ہوں، نہ ہی گرین سگنل دے سکتا ہوں، نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں خود کو میدان میں اکیلے پائے گا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے پانچ مختلف ممالک نے ان سے رابطہ کیا اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر ایران کے خلاف حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی۔
یہ ممالک شدید تشویش میں مبتلا تھے ، وہ اس معاہدے کو پسند کرتے ہیں اور اس کے حامی ہیں کہ جس پر ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔ایگزیوس اور اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں تہران نے حملے روکنے کے لیے آمادگی ظاہر کی، بشرطیکہ اسرائیل بھی اپنی کارروائیاں بند کر دے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حملوں کے تبادلے کے بعد فریقین کو سفارت کاری کی راہ پر واپس آنا چاہئے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان زیرِ مذاکرات معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے ، امریکا اگلے دو ہفتوں کے اندر ایران پر مکمل فتح کا اعلان کر سکتا ہے ، ایرانی مذاکرات کار ہمیں سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔سی بی ایس کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنوبی کیرولینا سے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ریاست کی گورنری کی امیدوار پامیلا اوٹ کی حمایت میں ایک ٹیلی فون ریلی میں کہا کہ آپ واقعی اگلے دو ہفتوں میں ایک فتح دیکھنے جا رہے ہیں، جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے ، یہ ایک مکمل فتح ہونے والی ہے ، یہ بہت جلد ہونے والی ہے ، اور تیل کی قیمت ڈرامائی طور پر گرنے والی ہے ۔امریکی صدر نے حالیہ مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے فوری خاتمے کے بارے میں بارہا ایسی ہی پیشین گوئیاں کی ہیں، فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ بحران ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔
تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کس مرحلے پر ہیں اور دونوں فریق کسی حتمی معاہدے کے کتنے قریب ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان مفادات میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اسرائیل اور امریکا کے درمیان بہت سے مشترکہ مفادات ہیں تاہم کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جہاں دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا گزشتہ ڈیڑھ سال کی صورتحال کے بعد ایسا ماحول پیدا ہوا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک دیرپا حل تک پہنچنے کی گنجائش موجود ہے ۔اس وقت ہم ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں اور اس موقع کو گنوانا نہیں چاہیے ۔ ہوسکتا ہے ، اسرائیل کو یہ بات پسند آئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیل اسے پسند نہ کرے لیکن بنیادی طور پر یہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکا کے قومی مفاد میں ہے ۔اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہاایران اور امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکا کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے خیالات کے تبادلے کا عمل جاری ہے ۔امریکا اور ایران پاکستان کے ذریعے حتمی مسودے تک پہنچنے کیلئے خیالات اور آرا پیش کر رہے ہیں اور ان کا تبادلہ ہو رہا ہے ، دونوں ممالک ابھی حتمی مسودے تک نہیں پہنچے ، تاہم ہم اس عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔جنگ بندی کے مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گاجبکہ اسرائیل نے منگل کے روز بھی جنوبی لبنان کے تاریخی بندرگاہی شہر صور پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ شہید ہو گئے ،شہریوں نے علاقے سے انخلا کیا جبکہ سول ڈیفنس کی ٹیموں نے بزرگ افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا۔جبکہ تہران میں منگل کی دوپہر ایرانی فضائی دفاع کے دو اہلکاروں کی تدفین متوقع تھی، جو ایک روز قبل اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے ۔ ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہم نے ایران پر جو حملہ کیا ہے وہ ایک انتہائی بڑے اور طاقتور وار کی تیاری ہے۔



