تحریر: عابد حسین قریشی
“سمجھدار بزرگ” کے عنوان سے لکھے گئے آرٹیکل کی میری توقع سے بڑھ کر پزیرائی ہوئی ۔ سوشل میڈیا پر بڑے دلچسپ مگر فکر انگیز تبصرے موصول ہوئے ۔ کچھ دوستوں نے تو فون کرکے اور وائس میسجز کے ذریعہ نہ صرف اس آرٹیکل کو سراہا بلکہ اسے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگوں کے لیے صدقہ جاریہ بھی قرار دیا کہ اس آرٹیکل کے ذریعہ بہت سوں کو بروقت جھنجھوڑا گیا ہے۔۔ البتہ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ اس ساری صورتحال کے والدین بھی زمہ دار ہیں جو اولاد میں توازن نہیں رکھ پاتے اور افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں اولاد کو والدین کی فرماں برداری کا حکم ہے وہی والدین پر بھی اولاد کی تربیت اور انکے خیال رکھنے کی بڑی زمہ داریاں ہیں۔ جی درست ہے ،یہ دو طرفہ کھیل ہے۔ والدین کے حقوق کے ساتھ کچھ فرائض بھی ہیں، مگر قرآن کریم کو بغور پڑھنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ صرف اللہ سے شرک پر مجبور کر نے والے والدین کی حکم عدولی کی اجازت ہے باقی ہر معاملہ اور ہر موقع پر والدین کی مکمل فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم ہے۔ لہزا اولاد پر زیادہ زمہ داریاں ہیں کہ والدین نے جو تکالیف بچے کی پیدائش اور پرورش میں اٹھائیں شاید انکا کوئی حق ادا نہیں کر سکتا۔ بہرحال والدین کو بچوں کی تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی زور دینا چاہیے ۔ہم معاشرتی اور معاشی مجبوریوں کے تابع اولاد کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم تو دلا دیتے ہیں۔ سب کچھ فروخت کرکے بھی بچوں کو اعلیٰ اور بہتر تعلیم کے لیے بیرون ملک بھی بھجوا رہے ہیں مگر ہم شاید اس اولاد کی درست نہج پر تربیت نہیں کر پا رہے جسکی وجہ سے اسی والد یا والدہ یا دونوں کو بڑھاپے میں اکلاپے اور بے بسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچے کی تربیت کی اولین اور بہترین جگہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ بچپن اور لڑکپن میں وہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ اسکا اثر لیتا ہے۔ اسلام میں بچوں کی پرورش اور تربیت کی بڑی اہمیت ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بیٹیوں کی اچھی پرورش اور تربیت کرکے انکی شادیاں کرنے والے باپ کو جنت کی بشارت دی تو موقع پر موجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پہلے دو اور پھر ایک بیٹی کے کی تربیت اور شادی کرنے والے باپ کا اجر جاننا چاہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس باپ کو بھی جنت کی بشارت سنا دی جو ایک بیٹی کی درست پرورش اور تربیت کرکے اسکی شادی کرتا ہے۔ سبحان اللہ ۔۔ اب اگر وہ کوئی بچہ گھر میں ماں باپ کے درمیان محبت و انس دیکھتا ہے تو اسکی شخصیت متوازن ہو کر ابھرتی ہے۔ اگر وہ گھر میں والدین کے درمیان چخ چخ اور دنگا فساد دیکھتا ہے تو وہ احساس محرومی اور نفسیاتی مریض بن کر جوان ہوتا ہے۔ گھر یا کنبہ ایسا institution یا ادارہ ہے کہ وہ بچے کی پرورش ، گرومنگ، تربیت پر دور رس اثرات ڈالتا ہے۔ اگر والدین آپسمیں لڑائی جھگڑے والی ایکسرسائز بچوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر کر لیں تو بچے بے شمار نفسیاتی امراض سے بچ جائیں گے ۔ پھر ہمارے بہت سے مرد حضرات جب بچوں کے سامنے اپنی اہلیہ کے ساتھ بدزبانی یا مار پیٹ کرتے ہیں تو وہ بچے جوان ہونے پر والد کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور بوڑھاپے میں جب بھی والد گرامی جوانی والی لبرٹی لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ساری اولاد ماں کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے اور باپ اکیلا رہ جاتا ہے۔ اس میں دیگر وجوہات کے علاوہ باپ کی اپنی افتاد طبع کا بھی بڑا رول ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہمارے گھروں کا عمومی ماحول اس طرح کا ہوتا ہے کہ باپ کو بچوں کی ماں ویلن بنا کر ہی پیش کرتی ہے کہ کسی بھی غلط حرکت کے ارتکاب پر بچے کو اسکے والد سے ہی ڈرایا جاتا ہے اور اسطرح بچوں کے دل میں شاید وہ پیار، انس اور قربت والد کے لیے پیدا ہی نہیں ہو پاتے ،جو وہ عمومی طور پر اپنی والدہ کے لیے رکھتے ہیں۔ بوڑھاپے میں والدین کا عموماً رحجان کسی ایک بچے کی طرف ہوتا ہے جو انکے خیال میں انکی زیادہ خدمت کر رہا ہوتا ہے، یا وہ اپنی زندگی میں جائیداد کی اس طرح تقسیم کرتے ہیں کہ کسی منظور نظر بچے کو بہتر یا کچھ زیادہ دے جاتے ہیں تو یہ بھی اولاد میں تنازعہ اور والدین سے اولاد کی دوری کا بوڑھاپے میں ایک سبب بنتا ہے۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم پر ضرور توجہ دیں، پیسہ صرف کریں، وقت دیں ،اپنا سب کچھ قربان کر دیں مگر ساتھ ذرا تربیت پر بھی توجہ مرکوز رکھیں کہ بغیر تربیت تعلیم صرف ڈگریوں کا نام یے۔ بچے کی پہلی تربیت گاہ اسکی ماں کی گود، اسکا گھر اور خاندان ہوتا ہے۔ سکول ، کالج اور اسکے یار دوست بعد میں اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر گھر کی تربیت کمزور ہوگی، ماں باپ کی باہمی خلفشار اور بے اعتنائی اور لا پروائی میں گزری ہوگی تو سمجھیں اس بچے کی شخصیت ادھوری ہے، نامکمل ہے۔ اولاد کو بچپن سے ہی رشتوں کی شناخت کرائیں ، انہیں قریبی رشتہ داروں سے متنفر نہ کرائیں،بلکہ انہیں صلہ رحمی کی تعلیم اور ترغیب دیں کہ یہ بوڑھاپے میں آپکے ہی کام آئے گی۔ اور آخری بات کہ اولاد کے ساتھ سلوک میں اور انکے معاملات میں افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں۔ سب کو ایک نظر سے اور ایک پیمانے پر رکھیں ۔ جائیداد کی تقسیم میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہ رکھیں بلکہ جس حد تک ممکن ہو سکے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے نام اور اپنے کنٹرول میں رکھیں کہ کہیں جائیداد کی ملکیت سے محروم ہو کر آپ کو عضو معطل سمجھ کر کسی اولڈ ہوم میں نہ پیھنک دیا جائے ۔



