کشمیر واچ رپورٹ (نیشنل ٹائمز) “میم سے ہجوم تک: ڈیجیٹل نفرت کس طرح سرحدیں عبور کر کے یورپ میں لوگوں کو متاثر کرتی ہے” برسلز پریس کلب یورپ میں پالیسی سازوں، محققین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ایک پینل مباحثے میں شرکت کی جس کا عنوان تھا: “From Meme to Mob: How Digital Hate Travels Across Borders and Affects People in Europe”۔ اس پروگرام میں آن لائن نفرت انگیز بیانیے، غلط معلومات، ڈیجیٹل ہراسانی اور یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی جوابدہی جیسے بڑھتے ہوئے مسائل پر گفتگو کی گئی۔ یہ سیمینار Diaspora in Action for Human Rights and Democracy (DAHRD) نے منعقد کیا، جو پہلے The London Story کے نام سے جانا جاتا تھا۔ DAHRD بھارتی ڈائسپورا کے اراکین کی قیادت میں کام کرنے والا ایک آزاد غیر منافع بخش تھنک ٹینک اور سول سوسائٹی ادارہ ہے۔ یورپ میں قائم یہ تنظیم، جس کی سرگرمیاں دی ہیگ اور برسلز سے منسلک ہیں، عالمی پالیسی مباحثوں کو بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال سے جوڑنے کے لیے کام کرتی ہے۔ پینل میں سابق رکن یورپی پارلیمنٹ لِن بوئلان (Lynn Boylan)، یونیورسٹی آف گروننگن کی ڈاکٹر رتُمبرا منووی (Dr. Ritumbra Manuvie) اور Appeal Centre Europe کے چیف ایگزیکٹو تھامس ہیوز (Thomas Hughes) شامل تھے۔ گفتگو کی نظامت DAHRD کی برسلز میں سینئر ایڈووکیسی آفیسر اولویہ حسنوا (Ulviyya Hasanova) نے کی۔ حسنوا نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر سے جڑے انسانی حقوق کے چیلنجز کی نگرانی، عالمی سطح پر شراکت داری قائم کرنے اور یورپی یونین و اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں میں انسانی حقوق کی مہمات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سیمینار میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی آن لائن نفرت، اسلام مخالف بیانیوں اور ایسے ڈیجیٹل نیٹ ورکس پر تشویش کا اظہار کیا گیا جنہیں محققین ہندوتوا نظریات سے منسلک قرار دیتے ہیں۔ مقررین نے جائزہ لیا کہ نفرت انگیز مواد، غلط معلومات اور منظم آن لائن مہمات کس طرح سرحدوں کو عبور کر کے ڈائسپورا کمیونٹیز، صحافیوں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ڈاکٹر رتُمبرا منووی نے وضاحت کی کہ سیاسی نظریات کس طرح آن لائن دنیا میں منتقل ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا نظریے کی تاریخی تشکیل پر گفتگو کی اور ان تنظیموں کا ذکر کیا جنہیں محققین اکثر سنگھ پریوار نیٹ ورک کا حصہ قرار دیتے ہیں، جن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS)، وشوا ہندو پریشد (VHP)، بجرنگ دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) شامل ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض ہندوتوا سے منسلک بیانیے اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں اور مسیحیوں کو سماجی طور پر کمزور کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ آن لائن نفرت، ڈیجیٹل موبلائزیشن اور منظم ہراسانی مہمات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ذات پات اور صنفی مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ بعض ناقدین کے مطابق ہندو قوم پرستی کی کچھ تشریحات دلتوں اور خواتین کو متاثر کرنے والی سماجی درجہ بندی کو مضبوط کر سکتی ہیں۔ Appeal Centre Europe کے سی ای او تھامس ہیوز نے آن لائن مواد کی نگرانی اور فیصلوں کے خلاف اپیل کے نظام میں اپنی تنظیم کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کا ڈیجیٹل سروسز ایکٹ صارفین، سول سوسائٹی تنظیموں اور دیگر فریقین کو نقصان دہ مواد یا پلیٹ فارم فیصلوں کے خلاف اپیل کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہیوز نے کہا کہ بڑے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز پر شفافیت، انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے آزاد اپیل نظام ضروری ہیں۔ انہوں نے سول سوسائٹی تنظیموں کی مثالیں بھی پیش کیں جنہوں نے ڈیجیٹل مسائل سے نمٹنے کے لیے ایسے طریقہ کار استعمال کیے۔ پینل میں نسل پرستی، اسلاموفوبیا، تارکین وطن مخالف بیانیوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلنے والی نفرت پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ لِن بوئلان نے آن لائن کمزور طبقات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا اور 7amleh – The Arab Center for the Advancement of Social Media کے کام کا حوالہ دیا، جو فلسطینی ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 7amleh تحقیق، دستاویزات، وکالت اور ڈیجیٹل سکیورٹی ٹریننگ کے ذریعے فلسطینی کارکنوں اور سول سوسائٹی اداروں کے لیے محفوظ اور منصفانہ ڈیجیٹل ماحول کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ تنظیم آن لائن امتیاز کے خلاف مہمات بھی چلاتی ہے اور ڈیجیٹل آزادیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ سوال و جواب کے سیشن کے دوران شرکاء نے ڈیجیٹل دور میں جمہوری اقدار، اقلیتوں کے حقوق اور آزادی اظہار کو درپیش وسیع چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ بھارت میں جمہوریت، اقلیتوں کی صورتحال اور بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کرنے والے صحافیوں، محققین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مبینہ طور پر درپیش آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل دباؤ سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔ کشمیر کو دنیا کے سب سے زیادہ فوجی موجودگی والے خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ گفتگو میں ایسے معاملات پر بھی بات ہوئی جہاں انسانی حقوق کے مسائل اجاگر کرنے والے افراد کو منظم آن لائن حملوں، دھمکیوں یا خاموش کرانے کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پینلسٹس نے زور دیا کہ سول سوسائٹی کی شرکت کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کی مضبوط جوابدہی، شفاف نگرانی کے نظام اور یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ جیسے قوانین پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے، تاہم یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ آن لائن نقصان سے نمٹنے کے اقدامات آزادی اظہار کو متاثر نہ کریں۔ تقریب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل نفرت، نسل پرستی، اسلاموفوبیا اور آن لائن امتیاز اب عالمی چیلنجز بن چکے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، سول سوسائٹی، محققین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔
میم سے ہجوم تک: بھارت، یورپ اور ڈیجیٹل نفرت، غلط معلومات اور آن لائن پلیٹ فارمز کی جوابدہی کا عالمی چیلنج



