ماری پور کا مسرور: ایک شہادت جو تاریخ بن گئی

تحریر : شاہ ولی اللہ جنیدی

پاکستان کی فضائی تاریخ میں بعض نام ایسے ہیں جو صرف اپنے عہد تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے، عزم اور قربانی کی علامت بن جاتے ہیں۔ ایئر کموڈور مسرور حسین شہیدؒ انہی درخشاں شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، غیر معمولی قیادت اور بے مثال جرأت کے ذریعے پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک لازوال مقام حاصل کیا۔

کراچی میں واقع پاکستان اور ایشیا کے سب سے بڑے فضائی اڈوں میں شمار ہونے والا پی اے ایف بیس مسرور آج بھی ان کی عظمت اور قربانی کا زندہ استعارہ ہے۔ یہ فضائی اڈہ دراصل دوسری جنگِ عظیم کے دوران 1940ء تا 1941ء میں برطانوی حکومت نے رائل ایئر فورس اسٹیشن ماری پور کے نام سے قائم کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہ پی اے ایف اسٹیشن ماری پور کہلایا، تاہم 1967ء میں ایئر کموڈور مسرور حسین کی شہادت کے بعد ان کی یاد میں اس تاریخی اڈے کو پی اے ایف بیس مسرور کا نام دے دیا گیا۔

ایئر کموڈور مسرور حسین 29 دسمبر 1922ء کو بلند شہر، اتر پردیش میں ایک تعلیم یافتہ اور باوقار مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے ان میں نظم و ضبط، خود اعتمادی اور قائدانہ صلاحیتیں نمایاں تھیں۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی، جو اس دور میں برصغیر کے مسلمانوں کے علمی و فکری ارتقا کا ایک اہم مرکز تھی۔ یہی ماحول ان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

1944ء میں انہوں نے رائل انڈین ایئر فورس میں کمیشن حاصل کیا۔ فضائیہ میں شمولیت اس زمانے میں نہایت مشکل اور مسابقتی عمل تھا، مگر مسرور حسین نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث جلد ہی خود کو ممتاز ثابت کر دیا۔ 12 فروری 1947ء کو ایک تربیتی پرواز کے دوران ان کے اسپیٹ فائر طیارے کا انجن اچانک بند ہوگیا۔ اس انتہائی خطرناک صورتحال میں انہوں نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیاب بیلی لینڈنگ کی۔ اگرچہ طیارہ تباہ ہوگیا، لیکن ان کی حاضر دماغی اور پیشہ ورانہ قابلیت نے انہیں محفوظ رکھا۔

قیامِ پاکستان کے بعد جب نو زائیدہ مملکت کو فضائی دفاع کے لیے تجربہ کار افسروں کی اشد ضرورت تھی تو مسرور حسین ان منتخب افسران میں شامل تھے جنہوں نے بھارت سے تربیتی طیاروں کو پاکستان منتقل کرنے کی اہم ذمہ داری انجام دی۔ بعد ازاں انہیں برطانیہ کی ممتاز فضائی درسگاہ RAF Central Flying School بھیجا گیا جہاں انہوں نے ایروبٹکس میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

12 فروری 1949ء کو انہوں نے ایوی ایشن کے میدان کا ایک نمایاں اعزاز کلارکسن ایروبٹکس ٹرافی حاصل کی، جو ان کی فنی برتری اور شاندار فضائی مہارت کا اعتراف تھا۔ اس کامیابی نے نہ صرف ان کا نام روشن کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کو بھی متعارف کرایا

وہ ایک بہترین کھلاڑی بھی تھے۔ 1952ء میں انہیں رائل پاکستان ایئر فورس کی ہاکی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا اور انہوں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

قیامِ پاکستان کے بعد جودھپور سے ٹائیگرموتھ طیاروں کی پاکستان منتقلی کے دوران ایک نہایت خطرناک صورتحال پیش آئی جب بعض طیاروں کے فیول ٹینکوں میں سازش کے تحت چینی ڈال دی گئی، جس کے نتیجے میں انجن فیل ہوگئے۔ ایسے نازک حالات میں بھی مسرور حسین نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا طیارہ بحفاظت رسالپور پہنچایا۔

1951ء میں انہیں نمبر 14 اسکواڈرن کی کمان سونپی گئی۔ بعد ازاں انہوں نے پشاور، سرگودھا اور ماری پور سمیت متعدد اہم فضائی اڈوں کی کمان سنبھالی۔ ان کی قیادت میں نہ صرف فلائنگ کے معیار میں بہتری آئی بلکہ نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کے نئے معیارات بھی قائم ہوئے۔

3 جون 1961ء کو وہ ماری پور ایئر بیس کے بیس کمانڈر مقرر ہوئے جہاں انہوں نے جدید انتظامی اصلاحات اور آپریشنل بہتری کے کئی منصوبے متعارف کروائے۔ ان کی بصیرت افروز قیادت نے اس فضائی اڈے کو پاک فضائیہ کے اہم ترین مراکز میں شامل کر دیا۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران وہ ایئر ہیڈکوارٹر میں فضائی دفاع کے سربراہ تھے۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے ریڈار کنٹرول، دفاعی اسکواڈرنز کی بروقت تعیناتی اور فوری ردعمل کے ذریعے پاکستان کے فضائی دفاع کو مؤثر انداز میں منظم کیا۔ ان کی حکمت عملی اور پیشہ ورانہ بصیرت نے دشمن کی متعدد فضائی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

24 مئی 1967ء کو ایک تربیتی پرواز کے دوران وہ بی-57 کینبرا بمبار طیارے میں سوار تھے۔ جب طیارہ رن وے 27 کی جانب اترنے کے مرحلے میں تھا تو ایک گدھ تیزی سے آ کر طیارے سے ٹکرا گیا۔ اس تصادم سے کاک پٹ کی ونڈ اسکرین شدید متاثر ہوئی اور طیارہ قابو سے باہر ہونے لگا۔

اس نازک لمحے میں ایئر کموڈور مسرور حسین کے سامنے دو راستے تھے؛ اپنی جان بچانے کی کوشش یا زمین پر موجود بے گناہ شہریوں کی حفاظت۔ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ شدید خطرے کے باوجود وہ آخری لمحے تک طیارے کو آبادی سے دور لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ بالآخر وہ کامیاب ہوئے اور طیارہ کراچی کے سوک سینٹرکے سامنے حئی سنز بلب فیکٹری کے میدان میں گر کر تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں ان کی اپنی جان تو قربان ہوگئی مگر زمین پر کسی اور انسانی جان کا نقصان نہ ہوا۔

ان کی یہ عظیم قربانی پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایثار، فرض شناسی اور بہادری کی ایک لازوال مثال بن گئی۔ ان کی جرأت کے اعتراف میں ماری پور ایئر بیس کا نام تبدیل کرکے پی اے ایف بیس مسرور رکھا گیا تاکہ آنے والی نسلیں اس مردِ مجاہد کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں۔

ان کی اہلیہ، مہر نگار عزیز، معروف ادیب عبدالعزیز فلک پیما کی صاحبزادی تھیں۔ وہ خود بھی ایک ممتاز ادیبہ، تھیٹر آرٹسٹ، ہدایتکارہ اور دانشور تھیں۔ ان کا ناول A Shadow of Time تقسیمِ ہند کے موضوع پر اہم ادبی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ 1966ء میں قائم ہونے والی پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کی پہلی ڈائریکٹر اور کوریوگرافر بھی رہیں۔

ایئر کموڈور مسرور حسین شہیدؒ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ عظمت صرف اعلیٰ عہدوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ فرض شناسی، کردار، قربانی اور وطن سے بے لوث محبت انسان کو امر بنا دیتی ہے۔ آج پی اے ایف بیس مسرور کا نام صرف ایک فضائی اڈے کی شناخت نہیں بلکہ ایک ایسے جانباز سپاہی کی یادگار ہے جس نے اپنی جان وطن اور اس کے شہریوں کی حفاظت کے لیے قربان کردی ۔ کراچی کے موجودہ بین الاقوامی ہوائی اڈے سے قبل ماری پور ایئرپورٹ (موجودہ پی اے ایف بیس مسرور) اندرونِ ملک اور اہم سرکاری پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ ہوائی اڈہ پاکستان کی ابتدائی فضائی تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور کئی تاریخی واقعات کا گواہ رہا ہے۔قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم محمد علی جناحؒ 7 اگست 1947ء کو دہلی سے بذریعہ طیارہ کراچی کے ماری پور ائیر بیس پر تشریف لائے تھے۔

بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح بھی اس ہوائی اڈے کو استعمال کرتے تھے ۔ 11 ستمبر 1948ء کو اپنی زندگی کے آخری سفر میں جب قائداعظم زیارت سے کراچی پہنچے تو ان کا طیارہ شام تقریباً سوا چار بجے ماری پور کے ہوائی اڈے پر اترا تھا۔

اسی طرح 27 جولائی 1953ء کو بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اپنی بہن وجے لکشمی پنڈت کے ہمراہ خصوصی طیارے کے ذریعے پی اے ایف بیس ماری پور پہنچے۔ ہوائی اڈے پر اُس وقت کے وزیراعظم محمد علی اور ان کی اہلیہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔8دسمبر 1959کو امریکی صدر آئزن ہاور کا جہاز ماری پور ائیرپورٹ پر اترا تھا

ماری پور ایئرپورٹ کو متعدد غیر ملکی سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کی آمد و رفت کے لیے بھی استعمال کیا گیا یوں یہ ہوائی اڈہ صرف ایک فضائی مرکز ہی نہیں بلکہ پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور قومی تاریخ کا ایک اہم نشان بھی ہے، جس کی تاریخی اہمیت کو محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔



  تازہ ترین   
ایران سب کچھ دینے کیلئے تیار، دو تین روز میں معاہدہ ہو سکتا ہے: ٹرمپ
سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس طلب، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کئے جانے کا امکان
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 5 حلقوں پر نتائج روک دیئے، دوبارہ پولنگ کا حکم
شہباز شریف سے زرعی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کی ملاقات، بجٹ پر مشاورت کی گئی
ملک بھر کیلئے بجلی ایک روپے 98 پیسے فی یونٹ سستی، نوٹیفکیشن جاری
امریکا سے معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں: ایران
وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا اعلان آج وزارت خزانہ کرے گی
پاکستان نے افغانستان سے دہشتگردوں کے حملے عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیدیئے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر