پشاور کے معزز سیٹھی خاندان میں پیدا ہونے والے عبدالغفور کو لوگ “اللہ والے” کہتے تھے۔ دولت اور حسب نسب سب کچھ تھا، مگر انہوں نے ساری زندگی ایک ہی کام کے لیے وقف کر دی: پرانے پشوریوں کو یاد ہوگا کہ ظہر کی اذان ہوتے ہی سیٹھی صاحب قصہ خوانی بازار کے بیچ، لاہوری حلوائی کی دکان کے سامنے والی مسجد کرم شاہ کے باہر آ کھڑے ہوتے۔ سر پر پگڑی، جسم پر ملیشیا کا لباس، ہاتھ میں چھڑی۔ ہر گزرنے والے کو ٹوکتے: “بھائی، مسجد چلو، نماز کا وقت ہے۔” جو نہ مانتا، وہ عین سڑک کے بیچ زمین پر لیٹ جاتے۔ لوگ ہنستے، دھکے دیتے، گالیاں دیتے، مگر وہ مسکرا کر پھر اٹھ کھڑے ہوتے۔ بعض چالاک لوگ مسجد کے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے سے نکل جاتے، مگر سیٹھی صاحب اگلے دن پھر وہیں موجود ہوتے۔ ہر روز علی الصبح وہ پشاور کے سکولوں اور کالجوں کا چکر لگاتے۔ کلاس میں استاد اگر پڑھا رہا ہوتا تو وہ احتراماً رک جاتا اور سیٹھی صاحب کو بولنے دیتا۔ سیٹھی صاحب بچوں سے بس دو باتیں کہتے: “سائنس پڑھو، اور عربی سیکھو۔” پھر روزانہ ایک نیا عربی لفظ سکھا کر چلے جاتے۔ اگلے دن آ کر کل کا سبق سنتے۔ مقصد صاف تھا: مسلمان قرآن کو صرف ثواب کے لیے نہ پڑھے، سمجھ کر بھی پڑھے۔انہیں انگریزی اور عربی دونوں پر عبور تھا۔ اس لیے وہ خود اردو اور انگریزی میں ہینڈ بل چھاپتے اور مقامی لوگوں کے ساتھ انگریز افسروں تک بھی پہنچاتے۔ اسلام کی دعوت گھر گھر پہنچانا ان کا معمول تھا۔انکا ایک واقع مشہور ہے کہ اس نے گاندھی کو بھی کلمہ پڑھایا تھا( واللہ اعلم)عیدین کے سوا وہ سارا سال روزے سے رہتے۔ دنیاوی آرام سے بے نیاز، سادہ لباس، اور ہر وقت لوگوں کی فکر۔ کئی بار لوگوں نے انہیں مار کر لہو لہان کر دیا، مگر وہ اگلے دن پھر اپنے کام پر نکل پڑتے۔ جس دن ان کے بیٹے کا انتقال ہوا، گھر سے اطلاع آئی۔ سیٹھی صاحب نے جواب دیا: “جب تک آج کا تبلیغی کام پورا نہ کر لوں، جنازے میں شریک نہیں ہو سکتا۔” امت کی فکر ان کے لیے اپنے بیٹے کے جنازے سے بھی مقدم تھی۔ عام لوگ انہیں مجذوب کہتے تھے۔ لیکن مفتی عبدالروف پوپلزئی مرحوم فرماتے تھے: “جب بھی سیٹھی صاحب سے تفصیلی بات ہوتی تو یقین ہو جاتا کہ ان کی گفتگو بالکل منطقی اور مربوط ہے۔ شاید سطحی سوچ والا ہی اسے بے ربط سمجھے۔ وہ نہایت مہربان اور مردم شناس تھے۔ بے شک سیٹھی عبدالغفور صاحب ولی اللہ تھے۔” خاتمہ اور جنازہ* سیٹھی عبدالغفور نومبر 1961 میں وفات پا گئے اور پشاور کے نمک منڈی، شاہ قبول اولیاء کے قریب آسودہ خاک ہوئے۔ پشاور کے پرانے باسی آج بھی کہتے ہیں کہ انکا جنازہ اتنا بڑا تھا کہ لوگوں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ نماز جنازہ سوئیکارنو سکوائر میں تھی لیکن صفیں مسجد قاسم علی خان بچھی ہوئی تھیں ۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی دین کے لیے ایسا ہی دردِ دل عطا فرمائے۔ آمین
پشاور کا درویش: الحاج میاں عبدالغفور سیٹھی



